مریم نواز کے پاسپورٹ کا فیصلہ: چوتھا بینچ تشکیل

جسٹس اسجد جاوید گھرال کی جانب سے معذرت کے بعد ایک بار پھر مریم نواز کی درخواست پر سماعت کا معاملہ چیف جسٹس کے پاس بھیج دیا گیا تھا۔ 

پانچ جولائی 2017 کو مریم نواز اسلام آباد میں فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں انسداد بدعنوانی کمیشن کے سامنے پیش ہونے کے بعد میڈیا سے بات چیت کر رہی ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس امیر بھٹی نے چوتھی مرتبہ جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل دو رکنی بنچ تشکیل دے دیا جو بدھ کو مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی کی درخواست پر سماعت کرے گا۔

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی کی درخواست پر منگل کے روز لاہور ہائی کورٹ کے دو مختلف ججوں نے سماعت سے معذرت کرلی تھی۔ اب تک اس کیس کی سماعت کے لیے قائم تین بینچ ٹوٹ چکے ہیں۔

مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی کی درخواست پر پیر کے روز بھی جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی تھی اور نیب کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) رولز طلب کیے تھے۔

جس پر ایڈووکیٹ احسن بھون کا کہنا تھا کہ ’یہ درخواست پاسپورٹ واپسی کی ہے، ای سی ایل میں نام کے حوالے سے حکومت خود دیکھے گی۔‘

آج یعنی منگل کو پہلے لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ کے رکن جسٹس فاروق حیدر نے درخواست پر سماعت سے معذرت کی، جس کے بعد مریم نواز کی درخواست سماعت کے لیے نئے بینچ کے روبرو لگانے کے لیے چیف جسٹس کو بھجوائی گئی۔

کچھ دیر بعد دوپہر کے وقت چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے جسٹس اسجد جاوید گھرال کو جسٹس باقر علی نجفی کے ساتھ بینچ میں شامل کرکے درخواست پر سماعت شروع کروانے کا کہا۔

جب درخواست پر سماعت شروع ہوئی تو جسٹس باقر نجفی نے بتایا کہ جسٹس اسجد جاوید گھرال نے بھی درخواست پر سماعت سے معذرت کرلی ہے، جس کے بعد ایک ہی دن میں بنایا گیا دوسرا بنچ بھی تحلیل ہو گیا۔

جسٹس اسجد کی جانب سے معذرت کے بعد ایک بار پھر مریم نواز کی درخواست پر سماعت کا معاملہ چیف جسٹس کے پاس بھیج دیا گیا ہے۔

دوسری جانب آج نیب نے بھی اس کیس کے حوالے سے عدالت میں اپنا جواب جمع کروا دیا تھا، جس میں نیب نے مریم نواز کا پاسپورٹ واپس کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ چوہدری شوگر ملز کیس میں مریم کی ضمانت کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔

مریم نواز کے وکیل کے مطابق: ’چوہدری شوگر ملز کیس میں مریم نواز کی ضمانت منظور ہو چکی ہے اور انہوں نے عدالتی حکم پر پاسپورٹ جمع کروا رکھا ہے۔‘ واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے اس کیس میں مریم نواز کو ضمانت دیتے ہوئے پاسپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی 21 اپریل کو جسٹس شہباز علی رضوی اور جسٹس انوار الحق پنوں پرمبنی دو رکنی بینچ نے اس کیس پر سماعت سے یہ کہہ کر معذرت کرلی تھی کہ ’بہتر ہے اس کیس کی سماعت وہی معزز جج کریں جو پہلے کر رہے تھے۔‘ اس طرح اب تک مجموعی طور پر تین جج مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی کی درخواست پر معذرت کر چکے ہیں۔

خیال ہے کہ شبہاز شریف حکومت کی جانب سے گذشتہ دنوں ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے متعلق قواعد میں تبدیلی سے بھی مریم کو فائدہ ہوا۔ نئے قواعد کا اعلان کرتے ہوئے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ ’جب ایک اصول بن گیا ہے تو وہ کسی ایک کے لیے نہیں بنا، سب کے لیے ہے، جس کو بھی چار ماہ ہو گئے ہیں ان کا نام نکل جائے گا۔‘

مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا کہ مریم نواز آخری مرتبہ 14 جولائی 2018 کو لندن سے اپنے والد میاں نواز شریف کے ہمرہ پاکستان آئی تھیں، جس کے بعد وہ بیرون ملک سفر نہیں کر پائیں۔

مریم نواز اپنے والد کے ہمراہ اس وقت پاکستان آئی تھیں جب ملک میں عام انتخابات سے قبل انہیں اور ان کے والد میاں محمد نواز شریف کو ایوان فیلڈ ریفرنس کیس میں سات اور دس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ انہیں پاکستان پہنچنے پر گرفتار کرلیا گیا تھا۔

پاسپورٹ کب اور کیوں جمع ہوا؟

لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے چار نومبر 2019 کو چوہدری شوگر ملز کیس میں مسلم لیگ کی نائب صدر مریم نواز کی درخواستِ ضمانت ایک، ایک کروڑ روپے مالیت کے دو مچلکوں کے عوض منظور کی تھی اور انہیں اپنا پاسپورٹ بھی جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بینچ نے اپنا فیصلہ سماعت مکمل ہونے پر 31 اکتوبر کو محفوظ کیا تھا۔

ضمانت سے قبل وہ اپنے چچا زاد بھائی یوسف عباس کے ہمراہ چوہدری شوگر ملز ریفرنس میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں تھیں۔ قومی احتساب بیورو (نیب) نے دونوں کو آٹھ اگست 2019 کو گرفتار کیا تھا۔

اس مقدمے میں ان پر الزام ہے کہ چوہدری شوگر ملز کے مختلف اکاؤنٹس رقم کی منتقلی کے لیے استعمال ہوتے رہے۔

عدالتی فیصلے میں کیا تھا؟

جسٹس علی باقر نجفی نے 24 صفحات پر مشتمل فیصلہ عدالت میں پڑھ کر سنایا تھا۔ فیصلے میں تھا کہ ’عدالت میں جمع کروائے گئے ریکارڈ کے مطابق نومبر 2011 میں مریم نواز نے چوہدری شوگر ملز کے اکاؤنٹ سے تقریباً سات کروڑ روپے نکلوائے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ حقائق کسی بھی طرح سے پراسیکیوشن کے لیے مددگار نہیں ہیں، کیوں کہ پراسیکیوشن کا یہ مقدمہ نہیں ہے کہ چوہدری شوگر ملز دیوالیہ تھی یا نقصان میں تھی تو ( شوگر مل کا) کوئی بھی حصہ دار یا چیف ایگزیکٹیو اس کے اکاؤنٹ سے پیسے کیوں نہیں نکلوا سکتا؟ تاہم نیب اس معاملے پر مزید تحقیق کر سکتا ہے۔‘

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ یہ ثابت شدہ قانون ہے کہ ایسے کسی بھی لین دین میں فائدہ حاصل کرنے والے سے واضح رابطہ جوڑا جانا چاہیے اور اس میں کسی قسم کا ابہام نہیں ہونا چاہیے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق: ’نیب کی طرف سے سات کروڑ روپے نکلوانے کا الزام یہ بات ثابت نہیں کرتا کہ رقم غیر قانونی طریقے سے حاصل کی گئی یا ایسی رقم ہے جس کے ذرائع آمدن کا پتہ نہیں، کیونکہ چوہدری شوگر ملز کے آفیشل ریکارڈ میں اس رقم کا بیرونی سرمایہ کاری کے طور پر اندراج موجود ہے۔‘

عمرہ کی خواہش

مریم نواز اس سال 27 اپریل کو عمرہ کی ادائیگی کے لیے بیرون ملک جانا چاہتی ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ وزیراعظم میاں شہباز شریف بھی 27 اپریل کو ہی اپنے اتحادیوں کے ہمراہ عمرہ کی ادائیگی کے لیے روانہ ہوں گے۔

وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے مطابق وزیراعظم اور ان کے اتحادی یہ عمرہ اپنے اخراجات پر کریں گے۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے دعوت مریم نواز کے علاوہ آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمٰن، اسلم بھوتانی اور محسن داوڑ سمیت کئی رہنماؤں کو دی ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب مریم نواز نے اپنا پاسپورٹ واپس لینے کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔ 2019 میں بھی انہوں نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ وہ انہیں پاسپورٹ واپس کرنے کے احکامات جاری کرے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان