افغان سکولوں کی بندش: کیا صرف یونیفارم مسئلہ ہے؟

دیگر ممالک کی طرح یہ طالبان حکومت کا حق ہے کہ وہ ملک میں اپنی مرضی کے اقدامات کرے لیکن اس سلسلے میں عوامی امنگوں اور مطالبات کو ملحوظ رکھنا بےحد ضروری ہے۔

کابل میں 26 مارچ 2022 کو خواتین وزارت تعلیم کے باہر لڑکیوں کے سکول دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کر رہی ہیں (اے ایف پی)

ویسے تو افغانستان میں طالبان حکومت کی پالیسیوں پر بین الاقوامی برادری تحفظات کا اظہار کرتی رہتی ہے لیکن چھٹی جماعت سے سینیئر لڑکیوں کو سکول جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ اچانک واپس لینے پر طالبان پر کچھ زیادہ ہی تنقید ہوئی ہے۔ 

طالبان نے لڑکیوں کو سکول جانے کی اجازت دینے کے فیصلے کے لیے جو دلیل پیش کی تھی وہ یہ کہ ابھی لڑکیوں کے سکول کے یونیفارم کے حوالے سے فیصلہ کیا جانا ہے۔ لیکن یہ دلیل انتہائی ناقص اور کمزور اس لیے ہے کہ طالبان کی حکومت بننے کے تقریباً سات ماہ ہو چکے تھے اور اگر یہ اعلان پہلے کرتے تو یونیفارم کا مسئلہ حل ہو سکتا تھا۔

قطر میں طالبان سیاسی دفتر کے سربراہ سہیل شاہین نے، جنہوں نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوران بہت سے انٹرویوز میں لڑکیوں کی تعلیم کی یقین دہانی کرائی تھی، دعویٰ کیا ہے کہ طالبان لڑکیوں کو تعلیم کی اجازت دینے کے اپنے وعدے سے مکرے نہیں ہیں اور یہ کہ لڑکیوں کی سکول یونیفارم پر فیصلے کا ایک تکنیکی معاملہ ہے جس کی وجہ سے تعلیمی ادارے کھولے نہیں جا سکے۔ 

کوئی بھی دلیل دینا شاہین کی مجبوری ہے لیکن اس موقف سے شاید ہی کوئی مطمئن ہو کیونکہ طالبات کے لیے یونیفارم یا پردہ کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں۔ ویسے بھی افغانستان میں طالبان سے پہلے بھی لڑکیوں کا سکارف پہننے کا عام رواج تھا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بچوں کی تعلیم کی خاطر اب وہ حجاب پر بھی راضی ہو جائیں گے۔

طالبان پر لڑکیوں کے سکول کھولنے کے سلسلے میں بین الاقوامی کے علاوہ مقامی دباؤ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ طالبان سے تعلق رکھنے والے علما بھی قیادت سے لڑکیوں کے سیکنڈری سکول کھولنے کے مطالبات کر رہے ہیں۔ ممتاز افغان عالم دین اور افغان طالبان سے وابستہ شیخ الحدیث فقیر اللہ فائق حقانی نے کابل سے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہوں نے طالبان رہنماؤں کے سامنے لڑکیوں کے تعلیمی ادارے کھولنے کے لیے شریعت کی بنیاد پر قوی دلائل دیے ہیں۔

شیخ فائق ان طالبان رہنماؤں میں سے ہیں جنہوں نے خیبر پختونخوا کے اکوڑہ خٹک کے جامعہ حقانیہ سے تعلیم حاصل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم کی حمایت میں بولنے کے بعد ان کو وزیر اعظم ملا محمد حسن نے اس موضوع پر ملاقات کے لیے بلایا تھا۔

شیخ فائق کا کہنا ہے: ’میں نے ملا حسن پر واضح کیا کہ یہ پرانا زمانہ نہیں ہے کہ کسی کا منہ بند کر کے چابی اپ کے پاس رہے۔ کوئی آپ کو برداشت نہیں کرے گا۔ اگر ملت نے آپ کا ساتھ دیا ہے تو ملت آپ کو نکال بھی سکتی ہے۔ 20 سال تک لوگوں نے آپ کو کھانا دیا، جگہ دی اور تعاون کیا تھا اور اگر ملت نے ساتھ چھوڑ دیا تو گذشتہ حکومت کی طرح آٹھ دنوں میں نظام تبدیل ہو جائے گا۔ عوام کے مطالبات کو اہمیت دے دیں۔‘

شیخ فائق نے مزید کہا کہ تعلیمی ادارے بند رکھنے والے طالبان رہنماؤں کے پاس کوئی مضبوط دلیل نہیں ہے اور وہ طالبان کے امیر المومنین کو زمینی حقائق سے آگاہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ انہیں بتاتے ہیں کہ تمام اختیارات ہمارے پاس ہوں گے اور لوگ ان کی بات تسلیم کریں گے۔ ’ان کے پاس صرف ایک دلیل ہے کہ شرعی طور پر طالبات کو چہرے ڈھانپنے چاہییں، الگ بیھٹنا چاہیے اور یہ کہ گھر بیھٹنا چاہیے اور اگر لڑکیاں باہر نکلتی ہیں تو فسق و فجور کا اندیشہ ہے۔ ان کے پاس یہ دلائل تھے لیکن انہوں نے دیگر پہلوؤں پر ہی نہیں دی تھی۔‘ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لڑکیوں کی تعلیم کی حمایت میں بولنے والے صرف شیخ فائق نہیں بلکہ طالبان کے حامی اور ان سے وابستہ کئی اور جید افغان علما کی قیادت کو لکھے گئے خط بھی سامنے آئے ہیں جن میں لڑکوں کے ساتھ لڑکیوں کی تعلیم کے حصول پر بھی زور دیا گیا ہے۔

اس سے پہلے طالبان سے وابستہ 16 شیوخ نے متفقہ طور پر طالبان کے امیر کو ایک خط میں کہا تھا کہ شرعی اور عصری علوم کا حصول اور پڑھانا خواتین کا حق ہے۔ پشتو زبان میں لکھے گئے خط میں خواتین کی تعلیم کے لیے کچھ تجاویز بھی دی گئی ہیں۔ 

اگرچہ طالبان کے امیر شیخ ہبت اللہ سے لڑکیوں کے تمام تعلیمی ادارے کھولنے کے مطالبات ہو رہے ہیں لیکن انہوں نے عیدالفطر پر اپنے پیغام میں لڑکیوں کے تعلیمی اداروں کے کھولنے کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ ’تعلیم و تربیت کی مزید بہتری کے لیے امارت اسلامیہ مصروف عمل ہے۔ دینی و عصری علوم کے لیے ملک کے بہت سے مرکزی اور دورافتادہ علاقوں میں نئے سکول اور مدارس قائم اور تعلیم کے حصول کے لیے پرامن ماحول فراہم کیا ہے۔ اساتذہ اور مدرسین کو بروقت تنخواہیں ملتی ہیں اور ان کے لیے تعلیمی نصاب مہیا کیا ہے۔‘

طالبان امیر نے مزید کہا، ’ہم افغانستان میں خواتین اور مردوں کے تمام شرعی حقوق کا احترام کرتے ہیں اور اپنے آپ کو اس کے لیے پابند سمجھتے ہیں۔ اس بارے میں کوئی تشویش نہ کریں اور اس انسانی و عاطفی موضوع کو سیاسی اہداف کے لیے ایک وسیلہ کے طور پر استعمال نہ کریں۔‘

ممکن ہے کہ طالبان امیر کے عید پیغام میں خواتین کے حقوق کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کرنے کے الفاظ اس معاملے پر بین الاقوامی دباؤ کی طرف اشارہ ہو لیکن پیغام میں کوئی وعدہ نہ کرنا ثابت کرتا ہے کہ طالبان قیادت اس وقت تک کوئی دباؤ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ 

دیگر ممالک کی طرح یہ طالبان حکومت کا حق ہے کہ وہ ملک میں اپنی مرضی کے اقدامات کرے، لیکن اس سلسلے میں عوامی امنگوں اور مطالبات کو ملحوظ رکھنا بےحد ضروری ہے۔ 

تعلیم کا مسئلہ افغان عوام کے لیے اہم ہے اور طالبان حکومت کا سکول نہ کھولنے کا فیصلہ افغانستان میں والدین کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ ماضی کے مقابلے میں آج کے جدید دور میں والدین اپنے بچوں اور بچیوں کی تعلیم میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں اور ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے پڑھ لکھ کر اپنا مستقبل تعمیر کریں۔

افغانستان میں 20 سال تک جنگ کے باوجود تعلیمی شعبے میں خاصی ترقی ہوئی تھی۔ اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسف کے ایک بیان کے مطابق گذشتہ 20 سال میں افغان سکولوں میں بچوں کی تعداد 10 سے بڑھ کر 95 لاکھ ہو گئی تھی۔

طالبان کے کابل پر کنٹرول کے ایک ماہ بعد یونیسف نے کہا تھا کہ سکولوں سے باہر رہنے والے 42 لاکھ بچوں میں 60 فیصد لڑکیاں ہیں۔ اگر اتنی تعداد میں لڑکیاں پہلے سے تعلیم سے محروم ہیں تو پڑھنے والی بچیوں کے تعلیمی ادارے نہ کھولنے سے لڑکیوں کی تعلیم مزید متاثر ہو سکتی ہے۔ 

افغانستان میں سیکنڈری سکولوں کی بندش کا نواں مہینہ شروع ہو چکا ہے۔ اس دوران لاکھوں بچے اور خاص طور پر بچیاں علم کی روشنی سے محروم ہیں۔ اس بارے میں مغرب کو سخت تشویش ہے۔

امریکہ نے لڑکیوں کے سکول بند رکھنے کے فیصلے پر ردعمل میں 25 مارچ کو طالبان کے ساتھ قطر میں ہونے والے مذاکرات منسوخ کر دیے جو طالبان حکومت کے لیے بہت اہم تھے کیونکہ دونوں کے درمیان دوحہ معاہدے کے نفاذ کے علاوہ افغانستان کے منجمد فنڈز اور دیگر معاملات پر ضروری مذاکرات ہونے تھے۔ 

فروری 2020 میں قطر میں ہونے والے معاہدے کے تحت غیرملکی افواج کا انخلا تو مکمل ہو گیا ہے لیکن طالبان کے لیے یہ اہم ہے کہ اپنے رہنماؤں کو امریکی اور اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست سے نکالنے کے لیے واشنگٹن سے بات چیت جاری رکھیں جس کا دوحہ معاہدے میں وعدہ بھی کیا گیا تھا۔ 

امریکی ردعمل کے بعد عالمی بینک نے لڑکیوں کے سکول نہ کھولنے کے طالبان کے فیصلے کے جواب میں 30 مارچ کو ملک کے لیے چار منصوبوں پر کام معطل کر دیا جس پر 60 کروڑ ڈالر خرچ ہونے تھے۔ ان منصوبوں کا تعلق تعلیم، صحت اور زراعت سے تھا۔ 

طویل جنگ کے بعد افغانستان کی تعمیر و ترقی کے لیے بین الاقوامی برادری اور مالیاتی اداروں کی حمایت کی ضرورت ہے اور اب یہ طالبان قیادت کا امتحان ہے کہ کیا وہ ملک میں جنگ کے خاتمے کے بعد دنیا کے ساتھ چلتے ہیں یا وہی پالیسیاں جاری رکھنا چاہتے ہیں جو افغانستان اور عوام کے لیے مشکلات میں اضافہ کر سکتی ہیں۔  

اس سال مارچ میں اپنے وعدے کے مطابق انہوں نے لڑکیوں کے تعلیمی ادارے کھولنے کے کچھ دیر بعد دوبارہ نامعلوم مدت تک بند سیکنڈری سکول بند کر کے نہ صرف بین الاقوامی برادی کو مایوس کیا بلکہ جنگ سے متاثرہ ملک کے عوام کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا لازمی نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ