لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی: ’طالبان کا مستقل فیصلہ ہوسکتا ہے‘

ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ لڑکیوں کے سکول نہ کھولنے کی بات سمجھ میں نہیں آ رہی ہے جب کہ دوسری جانب طالبان ملک بھر میں نئے مدارس قائم کرنے کی بات کر رہے ہیں۔

لڑکیاں 23 مارچ 2022 کو کابل میں اپنے سکول میں داخل ہو رہی ہیں۔ طالبان نے افغانستان میں لڑکیوں کے سیکنڈری سکولوں کو دوبارہ کھلنے کے چند گھنٹوں بعد ہی اسی روز انہیں بند کرنے کا حکم دیا تھا (اے ایف پی)

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اس بات کے کوئی آثار نہیں ہیں کہ لڑکیوں کے سیکنڈری اور ہائی سکول دوبارہ کھولے جائیں گے۔ تنظیم کو خدشہ ہے کہ یہ طالبان کا مستقل فیصلہ ہوسکتا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے کہا کہ اگرچہ لڑکیوں کے سکول نہ کھولنے کی بات سمجھ میں نہیں آ رہی ہے لیکن دوسری جانب طالبان ملک بھر میں نئے مدارس قائم کرنے کی بات کر رہے ہیں۔

سابق افغان صدر حامد کرزئی نے بھی بی بی سی کے بیسٹ آف ٹوڈے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے لوگ چاہتے ہیں کہ ان کی لڑکیاں سکولوں واپس جائیں اور یہ کہ ’ہماری لڑکیوں کے سکول جانے کے بغیر ملک زندہ نہیں رہ سکتا۔‘

کابل میں مقیم حامد کرزئی کا مزید کہنا تھا کہ ’کوئی راستہ نہیں ہے… کہ ملک ہماری لڑکیوں کے سکول جانے کے بغیر رہ سکتا ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا۔ افغان عوام اس کی اجازت نہیں دیں گے اور مجھے یقین ہے کہ لڑکیوں کے سکول دوبارہ کھلیں گے کیونکہ افغان عوام یہی چاہتے ہیں اور واضح طور پر چاہتے ہیں۔‘ 

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ افغانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں چھٹی جماعت یا اس سے اوپر کی عمر کی لڑکیوں کو ان کی جنس کی وجہ سے تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

افغانستان میں طالبان کو دوبارہ اقتدار میں آئے آٹھ ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے۔ طالبان کی جانب سے لڑکیوں کے لیے سکول کھولنے کے وعدے اور عالمی برادری کے دباؤ کے باوجود طالبان کی جانب سے کوئی امید افزا قدم نہیں اٹھایا گیا۔

حال ہی میں طالبان کے وزیر تعلیم مولوی نور اللہ منیر نے ملک بھر میں دینی مدارس کے قیام کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزارت نے ہر صوبے میں تین سے 10 مذہبی سکول قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

طالبان کے وزیر تعلیم نے جدید تعلیم کے علاوہ مذہبی تعلیم پر زور دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بہت سے سکولوں کے طلبا اسلامی تعلیمات سے ناواقف ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلامی مضامین ہمیشہ افغان نصاب کا بڑا حصہ رہے ہیں۔

اس سے قبل کئی افغان علما، سول سوسائٹی کے اراکین اور کچھ سیاست دانوں نے امارت اسلامیہ سے طالبات کے لیے سکول دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔ خواتین کے حقوق کی ایک کارکن نویدہ خراسانی نے کہا، ’وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک نیا قانون نافذ کر رہے ہیں، لیکن سکولوں کو دوبارہ کھولنے کے لیے سنجیدہ عزم موجود نہیں ہے۔‘  

اس سے قبل یونیسیف نے بھی طالبات کے لیے سیکنڈری اور ہائی سکولوں کی بندش پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ جب کہ سکول پہلے سے موجود ہیں اور کام کر رہے ہیں، انہیں صرف لڑکیوں کے لیے کھولنے کی ضرورت ہے، لیکن طالبان مدارس قائم کرنے کی بات کر رہے ہیں۔

فاؤنڈیشن کی ڈپٹی ڈائریکٹر، ہیدر بار نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان کی جانب سے لڑکیوں کے سکولوں کی بندش کو ابتدائی طور پر ایک مختصر مدت کا فیصلہ سمجھا جاتا تھا، لیکن خدشات بڑھ رہے ہیں کہ یہ مستقل ہوگا۔

انہوں نے کہا ’ثانوی تعلیم میں لڑکیاں ابھی بھی اپنی تعلیم میں آٹھ ماہ پیچھے ہیں، اور 8 مارچ کو جب وزارت تعلیم نے لڑکیوں کی ثانوی تعلیم پر پابندی لگائی، تو انہوں نے وعدہ کیا کہ چھوٹی چھوٹی چیزیں بدل سکتی ہیں۔ اب ایک ماہ ہوگیا ہے۔ اور اس میں پیش رفت کے کوئی آثار نظر نہیں آتے، اور نہ ہی کوئی ایسا قدم اٹھایا گیا ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ وزارت ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘

طالبان کی وزارت تعلیم کے ترجمان عزیز احمد ریان نے کہا کہ لڑکیوں کے ثانویاسکولوں کو دوبارہ کھولنے پر ان کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا، ’یہ کبھی نہیں سوچنا چاہیے کہ لڑکیوں کے سکولوں میں تاخیر کا مسئلہ مستقل ہو جائے گا، لیکن اس مسئلے کا مناسب حل تلاش کیا جائے گا۔‘

طالبان کی وزارت تعلیم نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ لڑکیوں کے سکول دوبارہ کھولنے کے لیے اپنے رہنما کے احکامات کا انتظار کر رہی ہے۔

لڑکیوں کے تمام سکول اس سال 3 مارچ کو کھلنے والے تھے لیکن جب قندھار میں طالبان رہنماؤں کا ایک بڑا اجلاس ہوا تو ایک حیران کن اعلان کیا گیا کہ چھٹی جماعت کے طلبا کے لیے یونیفارم کے بارے میں حتمی فیصلے تک پہنچنے میں ناکامی کی وجہ سے سکول اگلے نوٹس تک بند رہیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین