افغان طالبان نے خواتین مظاہرین کے خلاف کیا کارروائی کی؟

انڈپینڈنٹ فارسی کی انیسہ شاہد نے طالبان کی جانب سے گرفتار کی جانے والی خواتین سے ان کے ساتھ 17 دن تک رویے کے بارے میں بات کی۔

افغان خواتین 16 مارچ 2022 کو کابل میں خواتین کے حقوق کے لیے مارچ کر رہی ہیں اور انہوں نے ہاتھوں میں بینرز اور پوسٹرز اٹھائے ہوئے ہیں (تصویر: اے ایف پی)

ایک شام طالبان کے ایک گروپ نے فوجی بکتر بند گاڑیوں میں دارالحکومت کابل کے علاقے شیر پور میں ایک عمارت پر دھاوا بول کر 40 خواتین، بچوں اور مردوں کو گرفتار کر لیا۔

حراست میں لیے گئے افراد میں 26 خواتین تھیں جن میں دو نوعمر لڑکیاں، سات بچے اور نو مرد شامل تھے۔ ان میں سے 25 مظاہرین تھے جو طالبان کی حکومت کے آغاز سے ہی کابل اور مزار شریف میں بقول ان کے انصاف کے لیے مظاہرے کر رہے تھے۔

نیرہ کوہستانی احتجاج کرنے والی خواتین کے ایک گروپ کی رکن ہیں جنہوں نے ’روٹی، کام، آزادی‘ کے نعرے کے تحت احتجاج کیا۔ ہائپیٹیا (تخلص) اسی گروپ کی ایک اور رکن ہیں جنہوں نے طالبان کی جیل میں 17 دن اور راتیں گزاریں۔

نیرہ کوہستانی، جسے طالبان نے اپنے دو بچوں اور شوہر کے ساتھ یرغمال بنایا تھا، ایک ٹیچر ہیں جو پرائیویٹ سکولوں میں تاریخ اور جغرافیہ پڑھاتی ہیں۔ جب طالبان دوبارہ اقتدار میں آئے تو وہ بے روزگار ہوگئیں اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے طالبان کے خلاف احتجاج کیا۔

نیرہ ان مسائل کو بیان کرتی ہیں جو طالبان کی سابق ​​حکومت کے دوران اس کے خاندان کو پیش آئے۔ تاہم، پچھلے 20 سالوں میں انہوں نے سکول جا کر اپنے لیے روزی خود کمائی ہے۔

انہوں نے اسلامی ثقافت کا مطالعہ کیا، قرآن شریف مکمل پڑھا اور اس حق سے بخوبی واقف ہیں جو اسلام نے انہیں دیا ہے۔

اس لیے طالبان کے لیے یہ قابل قبول نہیں ہے کہ وہ ان سے ملازمت اور تعلیم کا حق چھین لیں اور یہ طے کریں کہ کیا پہننا ہے اور کہاں جانا ہے۔

اس لیے انہوں نے طالبان کے خوف کو ایک طرف رکھنے اور ان کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے بنیادی انسانی حقوق کے حصول کے لیے انہیں سڑکوں پر نکلنا پڑا۔ پہلی بار جب انہوں نے طالبان کے خلاف احتجاج کیا تو ان کا نعرہ تھا ’روٹی، کام، آزادی‘۔

خواتین مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ تمام لوگ جنہوں نے کابل کی سڑکوں پر طالبان کے خلاف احتجاج کیا وہ کسی نہ کسی طرح جنگ کے شکار ہیں۔ ان میں سے کچھ خواتین اپنے شوہر کھو چکی ہیں اور کئی کے بچے مارے جا چکے ہیں۔ کچھ کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کا حق کھو چکی ہیں۔

افغان طالبان نے اپنے خلاف احتجاج کے بارے میں شک کا اظہار کیا تھا کہ اس کے پیچھے بیرونی عوامل کارفرما ہیں۔ انہوں نے احتجاج سے قبل اجازت لینے کی شرط اقتدار سنبھالنے کے فورا بعد لگا دی تھی۔

مظاہرین کو احتجاج سے پہلے سرکاری اجازت نامہ حاصل کرنا اور سکیورٹی ایجنسیوں کو تمام تفصیلات سے لازمی آگاہ کرنا تھا جیسے کے احتجاج کے دوران کس قسم کے نعرے لگائے جائیں گے۔

انہوں نے گذشتہ برس ایک حکم نامے میں ملک کی بعض تنظیموں، مذہبی سکالرز اور عمائدین کو خواتین کے حقوق کے نفاذ کے لیے سنجیدہ اقدام کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم نئے اعلامیے میں افغان خواتین کے لیے تعلیم، ملازمت اور روزگار کے حقوق  کے بارے میں واضاحت نہیں کی گئی تھی۔

نیرہ نے طالبان مخالف ریلیوں میں شرکت کے اپنے ماضی کے تجربے کے بارے میں کہا کہ ’میرے خاندان اور رشتہ داروں نے احتجاج میں میری شرکت کی مخالفت کی۔ میں نے ایک رشتہ دار کے گھر پناہ لی جب طالبان احتجاج کرنے والی خواتین کو گرفتار کرنے کے لیے تلاش کر رہے تھے تو مجھے مارا پیٹا گیا اور وہاں سے جانے پر مجبور کیا گیا۔‘

انہیں اپنے ایک دوست کے ہاں پناہ لینی پڑی۔ نیرہ نے مزید کہا کہ ’میرے پاس محفوظ گھر جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا، میرے پاس پیسے نہیں تھے اور میرے شوہر اور بیٹی کے پاس پاسپورٹ نہیں تھے۔ ہم 17 دن تک اس سیف ہاؤس میں رہے، پھر کچھ لوگوں نے ہمیں فون کیا اور کہا کہ ہم انخلا کے پروگرام میں افغانستان سے باہر جانے والے ہیں لیکن منتقلی کے عمل کے دوران ہمیں دوسرے سیف ہاؤس جانا پڑا۔ یہ وہ مکان تھا جہاں سے دو دن بعد ہمیں طالبان کے حراستی مرکز میں لے جایا گیا تھا۔‘

ہائپیٹیا ایک لائبریرین ہیں اور کہتی ہیں کہ وہ پڑھی لکھی ہیں اور اچھی طرح جانتی ہیں کہ خواتین کے کیا حقوق ہیں۔ وہ مکمل علم اور تحقیق کے ساتھ سڑکوں پر نکلی تھیں کہ احتجاج کیسے کیا جائے اور طالبان کے خلاف احتجاج کیا۔ انہوں نے کابل میں احتجاج کرنے والی لڑکیوں کی گرفتاری تک خواتین کے تمام مظاہروں میں شرکت کی۔

کابل کے احتجاج میں خواتین کے مطالبات واضح تھے۔ تعلیم کا حق، کام کا حق، نظربندوں کی رہائی اور شہریوں کا قتل بند کروانا اس کے علاوہ روٹی اور آزادی احتجاج کے اہم ترین نعروں میں شامل تھے۔ مظاہرین نے افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر دنیا کی خاموشی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

جنوری کے وسط میں احتجاج کرنے والی خواتین کے ایک گروپ نے علامتی طور پر برقع کو آگ بھی لگائی تھی۔ متعدد خواتین قیدیوں کا کہنا ہے کہ برقعے کو جلانا ان عوامل میں سے ایک تھا جس نے طالبان کو خواتین مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے پر مجبور کیا۔ احتجاج کرنے والی خواتین کی حراست کا آغاز 19 جنوری کو پروانہ ابراہیم خیل اور تمنا زریاب پرانی کی گرفتاری سے ہوا۔

ہائپیٹیا نے خواتین مظاہرین کے اغوا اور دھمکانے کے بارے میں کہا کہ ’احتجاج کرنے والی خواتین کو دھمکیاں بہت پہلے شروع ہوئی تھیں اور میں بہت خوفزدہ تھی۔ میں گھر چھوڑ کر ایک رشتہ دار کے گھر چپکے سے رہنے لگی۔ جب تک لوگوں نے مجھے فون کیا اور کہا کہ احتجاج کرنے والی خواتین کو بھی افغانستان سے نکالنے کے منصوبے میں شامل کیا گیا تھا، لیکن مجھے کام کے عمل کے دوران ایک سیف ہاؤس جانا پڑا۔‘

ہائپیٹیا اپنی بھانجی اور بحیثیت محرم بھانجے کے ساتھ شیر پور میں ایک کثیر المنزلہ عمارت میں چلی گئیں جو سڑک پر احتجاج کے دوران اس کے ساتھ تھے۔ وہاں کچھ اور احتجاج کرنے والی خواتین بھی تھیں۔ لیکن انہیں دو دن بعد اسی عمارت سے گرفتار کر لیا گیا۔

ہائپیٹیا اور نیرہ کا کہنا ہے کہ اس عمارت کے کمرے زیادہ صاف ستھرے نہیں تھے اور حفاظتی اقدامات بھی نہیں تھے۔ یہ وہ چیز ہے جسے اس سیف ہاؤس کے منتظمین مسترد کرتے ہیں اور وہ ان گرفتاریوں کی وجہ ان احتجاجی خواتین میں سے ایک کی لاپرواہی کو سمجھتے ہیں۔

خواتین مظاہرین کے انخلا میں شامل کئی خواتین نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہوں نے صرف امدادی کارکنوں کے ایک گروپ کے ساتھ مل کر بلخ اور کابل میں خواتین کو ملک سے نکالنے کے لیے کام کیا۔

خواتین کا کہنا ہے کہ 12 فروری بروز جمعہ رات 8 بجے کے قریب جب وہ صوبہ بلخ سے تعلق رکھنے والے تین نوجوانوں کے ساتھ اس سیف ہاؤس میں پہنچیں تو عمارت میں ان کو شدید زدوکوب کیا گیا جس کے بعد طالبان کے ایک گروپ نے دھاوا بول دیا جن میں پانچ خواتین بھی شامل تھیں۔ طالبان پر الزام ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے سب کے موبائل فون چھین لیے تاکہ یہ معاملہ میڈیا پر نہ آئے۔

خواتین میں سے ایک نے بتایا کہ طالبان کمانڈر کہہ رہے تھے کہ ’آپ کو یہاں خطرہ ہے کیوں کہ آپ کو انسانی اعضا کے سمگلروں کے حوالے کیا گیا تھا۔ ہم آپ کو بچانے آئے ہیں۔ پانچ کے گروپ میں باہر نکلیں اور انتہائی خاموشی سے گاڑیوں میں بیٹھ جائیں۔ کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔‘

احتجاج کرنے والی خواتین کے مطابق خواتین اور بچوں کو طالبان وزارت داخلہ کے کنڈرگارٹن میں لے جانے کے بعد طالبان ان سب کے لیے خوراک اور سبز چائے لے کر آئے لیکن سب گھبرا گئی تھیں اور کسی نے کچھ نہیں کھایا۔

انہوں نے مزید کہا، ’طالبان ناراض تھے کہ کسی نے کچھ نہیں کھایا۔ ان میں سے ایک نے زور سے چلایا اور کہا ہم نے اسلام کے لیے قربانی دی ہے تاکہ تم سلامتی سے رہو۔‘

گرفتاری کے اگلے ہی دن طالبان نے ان سے پوچھ گچھ شروع کر دی اور چند مخصوص سوالات پوچھے: ’آپ کی حمایت کرنے والی تنظیم کا کیا نام ہے؟ کتنے پیسے ملے؟ آپ کی حمایت کون کرتا ہے؟ آپ امارت اسلامیہ کو کیوں تباہ کر رہی ہیں اور آپ سے کس نے کہا کہ نظام کو بدنام کرو؟ کیا آپ قومی مزاحمتی محاذ کے ساتھ کام کرتی ہیں؟‘

’سب کا جواب صرف یہ تھا کہ ہم نے تعلیم اور کام کے حق کے لیے احتجاج کیا۔ ہمیں صرف روٹی، کام اور آزادی چاہیے تھی۔‘ مظاہرین کے مطابق طالبان کے تفتیش کار خواتین کا جواب سن کر کبھی ان کی توہین کرتے اور کبھی بحث کرتے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

17 دنوں کے دوران جب احتجاج کرنے والی خواتین کو طالبان نے حراست میں رکھا تو ان سے بار بار پوچھ گچھ کی گئی۔ ان خواتین کو خدشہ تھا کہ بلخ میں مظاہرین کے ساتھ بھی نمٹا جائے گا، اور اس حقیقت کے باوجود کہ کبھی طالبان کی دو خواتین ارکان اور کبھی چار خواتین موجود تھیں، ناقابل بیان ہولناکی پھر بھی سب کو اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی۔

نیرہ کوہستانی کہتی ہیں کہ ایک اہم سوال جو انہیں اب بھی پریشان کرتا ہے کہ طالبان نے ان کے ساتھ مختلف سلوک کیوں کیا۔ اس بار طالبان نے ان خواتین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے اور ان پر تشدد کرنے کی بجائے بات کرنے کی کوشش کی۔ کچھ دن وہ ان کے لیے پھل بھی لاتے اور بچوں کو بسکٹ بھی دیتے۔

21 فروری کو طالبان نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں خواتین کو اعتراف کرنے پر مجبور کیا گیا۔ خواتین سے تفتیش کے آخری روز اعتراف جرم کرا لیا گیا۔ ایک خاتون نے کہا کہ ’جب ہم نے طالبان کے تمام سوالات کے جوابات دیے تو انہوں نے کیمرے کے سامنے ہمیں بتایا کہ کیا کہنا ہے۔‘

ان خواتین کے مطابق طالبان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کے جبری اعترافات تقسیم نہیں کریں گے اور انہیں صرف وزارت داخلہ کے آرکائیوز میں رکھیں گے لیکن ان کے وعدے کے باوجود انہوں نے جبری اعتراف کی ویڈیو جاری کر دی۔

40 قیدیوں کے اس گروپ کو ایک ساتھ رہا نہیں کیا گیا۔ طالبان نے تین خواتین مظاہرین کو رہا کیا جن کی صحت پہلے ہفتے بہت خراب تھی اور باقی کو تیسرے ہفتے ایک ایک کر کے رہا کیا گیا۔ طالبان نے ان خواتین سے ضمانت لی ہے کہ وہ رہائی کے بعد کسی بھی مظاہرے میں حصہ نہیں لیں گی اور کبھی طالبان کے خلاف بات نہیں کریں گی۔

نوٹ: یہ تحریر اس سے قبل انڈپینڈنٹ فارسی پر شائع ہوچکی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین