افغان خواتین کی تصاویر: ’جنگ کے درمیان خوبصورتی‘

افغان فوٹوگرافر فاطمہ حسینی نے ’بیوٹی اِن مڈل آف دی وار‘ کے نام سے تہران میں ایک نمائش کے ذریعے افغان خواتین کی ایک مختلف تصویر دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی۔

افغان فوٹوگرافر اور انسانی حقوق کی کارکن فاطمہ حسینی اپنی تصاویر میں خوبصورتی دکھانا چاہتی ہیں(تصویر: فاطمہ حسینی ویب سائٹ)

فاطمہ حسینی کے کام کا انداز زیادہ تر سٹیجڈ فوٹوگرافی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ ’سٹائل‘ یا آرٹ فارم افغانستان میں عام نہیں ہے۔

فاطمہ اپنے موضوعات کے ساتھ ’مداخلت‘ کرنا چاہتی ہیں، ان سے جوڑ توڑ کرنا چاہتی ہیں اور حقیقت کی ایک اور سطح دکھانا چاہتی ہیں۔

ان کے مجموعے میں موجود پورٹریٹ میں مختلف نسلوں کی افغان خواتین شامل ہیں جیسے پشتون، تاجک، ہزارہ، ترکمان اور ازبک۔

شوخ رنگ اور اعلیٰ کنٹراسٹ، تفصیل پر توجہ، اور ثقافتی سیاق و سباق پر توجہ، نیز شاندار نسائیت، اس مجموعے میں نمایاں ہیں۔

(تصویر: فاطمہ حسینی ویب سائٹ)

اس منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے، فاطمہ نے مختلف صوبوں جیسے بامیان، ہرات، لنگرگاہ، سمنگان وغیرہ کا سفر کیا تاکہ اس ملک میں خواتین کی حیاتیاتی تنوع کو سامعین کو دکھایا جا سکے۔

کئی انٹرویوز میں انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ افغان خواتین کی ایک مختلف تصویر دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ خواتین ہمیشہ جنگ کا شکار نہیں ہوتیں۔ وہ مغربی نمائشوں کو بتانا چاہتی ہیں کہ ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ برقعہ پوش خواتین کی تصاویر بھیجیں۔

انہوں نے اپنے مغربی سامعین کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ افغانستان میں ایسی خواتین بھی ہیں جو برقع نہیں پہنتیں اور انہیں دنیا کے دیگر حصوں کی طرح مسائل کا سامنا ہے۔ ان کے زیادہ تر کاموں کی بنیاد ’جنس، شناخت اور نقل مکانی‘ ہیں۔

فاطمہ نے کہا: ’اس رجحان کی وجہ یہ حقیقت ہے کہ مجھے میری جنس کی وجہ سے سمجھا گیا، کہ میری شناخت مبہم اور کثیر جہتی تھی، اور یہ کہ میں ایک تارک وطن تھی جو جلاوطنی میں پلی بڑھی اور بیس سال بعد اپنے آبائی شہر واپس آئی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے فن کی افغانستان اور بیرون ملک کئی سولو اور گروپ میں نمائشیں کی جا چکی ہے۔

جون 2020 میں، فاطمہ کو اٹلی سے ہیپیٹیا (Hypatia) انٹرنیشنل ایوارڈ ملا۔ یہ ایوارڈ ان افراد کو دیا جاتا ہے جو تحقیق، فنون اور پیشے کے لیے اپنے ’عزم‘ کے ذریعے سائنسی علم کی ترقی اور زندگی کی بہتری میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔

فاطمہ حسینی کی یہ نمائش ایک ایسے وقت میں منعقد کی جا رہی ہے جب افغان خواتین اب رنگ برنگے کپڑے نہیں پہن سکتیں، میک اپ نہیں کر سکتیں، سگریٹ نوشی نہیں کر سکتیں اور نہ ہی گاڑی چلا سکتی ہیں جیسا کہ ان کی تصویروں میں دیکھا گیا ہے۔

خدشہ ہے کہ یہ پورٹریٹ بنانے والی کو بھی طالبان کی طرف سے سزا دی جاسکتی ہے اگر وہ ان کے زیر کنٹرول افغانستان میں واپس آ جاتی ہیں۔

طالبان کی آمد کے ساتھ افغان خواتین کی صورت حال ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جس میں خدشہ ہے کہ نہ صرف روایات اور رسم و رواج بلکہ قانون بھی خواتین کے خلاف ہوگا۔


نوٹ: یہ مضمون اس سے قبل انڈپینڈنٹ فارسی پر شائع ہو چکا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سٹائل