’مسجد میں رقص‘: ایک افغان عورت کی کہانی

حمیرا قادری کی کتاب میں افغانستان میں خوفناک لیکن خوبصورت زندگی کی تصویر کشی کی گئی ہے۔

یہ کتاب حمیرا قادری کی کہانی ہے جو افغانستان کی سیاسی پیشرفت کی طرح ہنگاموں، مایوسیوں اور جوش و خروش سے بھری ہے۔ (تصویر:  حمیرا قادری فیس بک اکاؤنٹ)

’مسجد میں رقص: ایک افغان ماں کا اپنے بیٹے کو خط‘ نامی افغان مصنفہ حمیرا قادری کی کتاب دسمبر میں امریکہ کی ٹاپ 10 کتابوں میں شامل تھی۔

یہ کتاب حمیرا قادری کی کہانی ہے جو افغانستان کی سیاسی پیشرفت کی طرح ہنگاموں، مایوسیوں اور جوش و خروش سے بھرپور ہے۔

یہ حمیرا قادری کی پہلی تصنیف ہے، جو انگریزی میں لکھی گئی ہے اور ماں کے دل کی تکلیف اور اپنے بچے کی خواہشات کی عکاسی کرتی ہے۔

یہ کہانی اس وقت پھیلائی گئی جب حمیرا قادری کو معلوم ہوا کہ ان کے نومولود بیٹے سیاوش کے شناختی کارڈ میں والد اور دادا کے نام شامل ہیں، لیکن والدہ کا نام درج کرنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس سے انہیں اپنے بیٹے سے کسی تعلق کے نہ ہونے کا احساس ہوا۔ حمیرا نے اپنے بیٹے کو لکھا: ’میں نے آپ کی طرف دیکھا، میں آپ کو دوبارہ اپنے پیٹ میں چھپانا چاہتی تھی تاکہ آپ دوبارہ میرے ہو جاؤ۔‘

حمیرا قادری کے ہاں بیٹے کی پیدائش سے قبل روزانہ کے خودکش حملوں کی وجہ سے کابل کے ہسپتال تک کا راستہ سکیورٹی چیک پوسٹوں سے بھرا ہوا ہوتا تھا۔ ایسے میں کسی فوجی کی جانب سے خاتون کے پیٹ کی جانب بندق تان لینا کوئی حیرت کی بات نہیں تھی۔ ایک مرتبہ انہیں پیدل ہسپتال بھی جانا پڑا۔

سالہا سال کی جدوجہد کے بعد افغان خواتین بالآخر حکومت کے پاس بچے کے شناختی کارڈ میں والدہ کا نام شامل کرانے کے قابل ہوئیں، لیکن کہانی ابھی شروع ہوئی ہے اور یہ صرف ان یادوں میں سے ایک ہے جو حمیرا اپنے بیٹے کو بتاتی ہیں۔

اس شاعرانہ سوانح حیات میں حمیرا اپنے بچپن کے بارے میں بتاتی ہیں، جب انہوں نے افغانستان کی سڑکوں پر روسی ٹینکوں کو دیکھا اور اپنی جوانی کے بارے میں بتایا، جب انہوں نے ہرات میں طالبان کے عروج کا تجزیہ کیا ہے۔ اس کتاب کا بیشتر حصہ طالبان کی زندگی اور ان کے عہد کے بارے میں ہے۔

اپنی والدہ سے متاثر حمیرا اپنے چھوٹے سے باورچی خانے کو غیر رسمی کلاس روم میں تبدیل کرکے نوجوان لڑکیوں کے لیے وقف کرتی ہیں، جنہیں طالبان سکول جانے کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔ وہ آہستہ آہستہ مقامی مسجد کے صحن کو ایسی محروم لڑکیوں کی تربیت گاہ میں تبدیل کر رہی ہیں۔

دی انڈپینڈنٹ فارسی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں حمیرا کا کہنا تھا: ’یہ کتاب ایک یادداشت اور خط و کتابت ہے۔ اس کتاب کا ہر حصہ ایک خط ہے۔ پھر میری زندگی کا ایک حصہ بیان ہوا۔ مسجد میں ناچنا بھی ایک باب کا نام ہے جو طالبان عہد کی یادوں کو تازہ کرتا ہے۔ یہ پانچ یا چھ سال کے بچوں کی بھی یاد ہے جو مسجد میں رقص کرتے تھے جہاں انہوں نے میرے سامنے پڑھائی کی۔ یہ وہ چھوٹی لڑکیاں تھیں جنہیں سکول سے نکال دیا گیا تھا۔‘

لیکن جب حمیرا کی شادی ہوتی ہے تو کہانی اور زیادہ سنگین ہو جاتی ہے۔ تہران نقل مکانی کرکے ایک ایسے شخص سے شادی کرنا جس سے انہیں محبت ہو جاتی ہے اور پھر اس شخص کی دوسری شادی کی وجہ سے ان میں علیحدگی ہو جاتی ہے، بیٹا ماں کی کہانی کی پیروی کرتا ہے۔ یہیں سے باغی حمیرا، جو طالبان کی وجہ سے بچوں کو غیررسمی کلاسیں پڑھاتی تھیں، پھر سے زندہ ہو چکی ہیں۔ اس بار ’طالبان کی سوچ‘ کے خلاف اپنے ہی بچے کی حفاظت کے لیے لڑ رہی ہیں۔

’ہم خواتین اپنی زندگی میں ہر وقت اس سرزمین پر کسی نہ کسی طرح کے تشدد کا سامنا کرتی ہیں۔ جب تک یہ نہیں ہوا میں نے اسے دوسروں کی طرف سے تکلیف دہ کہانی کی طرح سنا تھا۔ میں دل شکستہ تھی۔  جب یہ واقعہ میرے ساتھ ہوا، تو خواتین کے خلاف تشدد سے متعلق ایک نئی کھڑکی میرے لیے کھل گئی۔ مجھے احساس ہوا کہ افغانستان میں، جہاں وہ کہتے ہیں کہ جنت ماؤں کے پیروں تلے ہے، وہ خواتین کی زچگی کی قدر نہیں کرتے ہیں۔  میں ان افراد کے ہاتھوں تین سال سے زیادہ عرصے تک اپنے بچے سے محروم رہی جو ناخواندہ نہیں تھے۔ عدالت میں موجود لوگوں نے میرے خلاف فیصلہ دیا کہ وہ تعلیم یافتہ ہیں۔ اس سرزمین میں خواتین کی صورتحال کتنی تکلیف دہ ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں خواتین کو بیان کرنے کی ضرورت ہے۔ غم و درد کا بیان بہترین بیان ہے۔ ہم خواتین کو اپنی پریشانی ہے۔ ہم اپنا درد جھوٹی خوشیوں کے پیچھے چھپاتے ہیں۔ جب بھی ہم اپنے دکھوں اور رنجشوں کو بیان کرتے ہیں تو ہم کمال کی راہ پر پہنچ جاتے ہیں۔‘

کتاب کی مصنفہ نے اس پر زور دیا ہے کہ ’ماں سے اولاد لینا خاموش تشدد ہے۔ خواتین کہتی رہتی ہیں کہ یہ ان کا بچہ ہے اسے جانے دو۔ میں اس دوران متحرک ہوگئی۔ یہ ہمارے تانے بانے سے جڑا ہوا ہے۔ کوئی بھی بیان خود خواتین کے بیان سے زیادہ مخلص نہیں ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

افغان شہری قانون بچے کی تحویل ماں کو دیتا ہے، لیکن اس قانون کے مطابق:‌ ’وہ عورت جو بچے کی دیکھ بھال کرتی ہے، وہ عقل مند ، بالغ اور قابل اعتماد ہونی چاہیے تاکہ وہ بچے کی حفاظت اور اس کی پرورش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ لڑکے کی تحویل کی مدت سات سال اور ایک لڑکی کی نو سال میں ختم ہوجاتی ہے۔ لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اس قانون کی غلط تشریح کی گئی ہے، جس میں آخر کار اس بچے کو باپ کے حوالے کردیا جاتا ہے۔‘

حمیرا کی کتاب ’مسجد میں رقص کرنا: بیٹے کو ایک افغان ماں کا خط‘ کا مرکزی خیال، افغانستان میں خواتین کی خوفناک حدود کی ایک داستان ہے، لیکن اس نے افغانستان میں زندگی اور معاشرے کو تبدیل کرنے کے لیے خواتین کی خوبصورتی، مصلحتوں، کوششوں اور جدوجہد کو بھی اجاگر کیا ہے۔

اس کتاب کی اشاعت ایک نازک وقت پر اہم ہے جب طالبان کی حکومت میں واپسی کا امکان قوی ہے۔

کتاب کی مصنفہ نے دی انڈپینڈنٹ فارسی کو بتایا: ’ایک اہم تاریخی لمحے میں کتاب پرانے زخم کھولتی ہے۔ کسی ماں کی محرومی کا طالبان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ صرف 1995 کے طالبان کی بات نہیں ہے۔ لیکن وہ مزید سخت ہوسکتے ہیں۔ ہمارے حالات خراب ہوسکتے ہیں۔ اس کتاب کے متعدد ابواب میں طالبان کے دور میں میری نوعمری پر روشنی ڈالی گئی ہے، لیکن میں نے ان آنسوؤں کا سامنا نہیں کیا جو میں نے جمہوری دور میں، طالبان کے دور میں بہائے تھے اور اس کی وجہ طالبان کی سوچ ہے۔ ہمیں واقعی اپنی بیٹیوں کی ضرورت ہے کہ وہ اسلامی ممالک جائیں، تعلیم حاصل کریں، اسلامی علم سیکھیں اور مذہبی روشن خیال بنیں۔ مثال کے طور پر ملائیشیا میں طالبان کی سوچ بے تحاشا مصائب سے نجات دلانے کی ایک بہترین مثال ہے۔‘

حمیرا قادری ایک معروف افغان ناول نگار ہیں، جنہوں نے تہران کی ایک یونیورسٹی میں فارسی زبان اور ادب کی تعلیم حاصل کی اور پھر پروفیسر شفیع کدکانی کے تحت تہران یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ اس وقت وہ کابل کی نجی یونیورسٹیوں میں پڑھاتی ہیں اور مساوی حقوق انسانی کے لیے کام کرتی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین