چاہتے ہیں ہر سال آٹھ کھلاڑی خیبرپختونخوا سے ہوں: پشاور زلمی

پشاور زلمی کے ڈائریکٹر محمد اکرم کا کہنا ہے کہ ’پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی مجھے کہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے اچھے کھلاڑی جس فرینچائز میں بھی ہوں، یہ ہماری کامیابی ہے۔‘

پشاور اور صوبے کے عوام کا پی ایس ایل شروع ہونے سے ہی مطالبہ رہا ہے کہ پی ایس ایل کے میچز پشاور میں کرائے جائیں تاہم شہر کا واحد بین الاقوامی معیار کا ارباب نیاز کرکٹ سٹیڈیم زیر تعمیر ہے اور یہی وجہ ہے کہ شہر کے عوام پی ایس ایل میچز دیکھنے سے محروم ہیں(تصویر: بشکریہ پشاور زلمی انتظامیہ)

پاکستان سپر لیگ کی فرینچائز پشاور زلمی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہم چاہتے ہیں ہر سال پی ایس ایل کے ڈرا میں آٹھ کھلاڑیوں کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہو لیکن وہ اتنے ٹیلنٹڈ ہوتے ہیں کہ ہم سے پہلے دیگر فرنچائز والے ان کو منتخب کر لیتے ہیں۔

پشاور زلمی نے آئندہ سال کے کلینڈر اور صوبے میں نئے کھلاڑیوں کی ٹریننگ کے حوالے سے پشاور میں ایک پریس کانفرنس کی جس میں زلمی کے کپتان وہاب ریاض، عمر اکمل، سلمان ارشاد اور ٹیم کے ڈائریکٹر کرکٹ اور کوچ محمد اکرم موجود تھے۔

زلمی کے ڈائریکٹر محمد اکرم سے جب پوچھا گیا کہ پشاور زلمی کا نام تو پشاور سے جڑا ہے اور یہاں کے شائقئن کرکٹ اس ٹیم کو اپنی ٹیم سمجھتے ہیں لیکن ٹیم میں بہت کم کھلاڑیوں کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہوتا ہے، اس کے جواب میں محمد اکرم کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں اور کوشش بھی کرتے ہیں کہ ہر سال ہماری ٹیم میں آٹھ کھلاڑی خیبر پختونخوا سے ہوں۔

محمد اكرم نے بتایا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ کھلاڑی خیبر پختونخوا سے ہوں لیکن وہ کھلاڑی اتنے اچھے ہوتے ہیں کہ ہم سے پہلے باقی فرینچائزز ان کو منتخب کر لیتی ہیں۔ پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی مجھے کہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے اچھے کھلاڑی جس فرینچائز میں بھی ہوں، یہ ہماری کامیابی ہے۔‘

محمد اکرم نے بتایا کہ ’ہر سال پی ایس ایل شروع ہونے سے ڈیڑھ مہینے پہلے یہی بحث ہوتی ہے کہ کس کھلاڑی کو لینا ہے اور کیا ہمیں یہ موقع ملے گا کہ ہم اپنی مرضی کے کھلاڑی چن سکیں۔‘

آنے والے سال کے حوالے سے محمد اکرم نے بتایا کہ ’صوبے میں رواں سال اگست سے ستمبر تک کرکٹ ٹیلنٹ کو ڈھونڈیں گے اور اس میں ایک دو جو اچھے کھلاڑی سامنے آتے ہیں تو ہم چاہیں گے کہ ان کو ضلعی سطح پر کھیلنے کا موقع ملے تاکہ ان کو قومی ٹیم کے لیے بھی تیار کیا جا سکے۔‘

پشاور اور صوبے کے عوام کا پی ایس ایل شروع ہونے کے بعد یہی مطالبہ رہا ہے کہ پی ایس ایل کے میچز پشاور میں کرائے جائیں تاہم شہر کا واحد بین الاقوامی معیار کا ارباب نیاز کرکٹ سٹیڈیم زیر تعمیر ہے اور یہی وجہ ہے کہ شہر کے عوام پی ایس ایل میچز دیکھنے سے محروم ہیں۔

اکرم نے اسی حوالے سے بتایا کہ ہم بھی یہی چاہتے ہیں لیکن کرکٹ سٹیڈیم کی تعمیر ابھی مکمل نہیں ہوئی اور یہی وجہ ہے کہ یہاں پر پشاور زلمی کی اکیڈمی اور دفتر بھی قائم نہیں ہو سکا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

محمد اکرم نے بتایا: ’جب کرکٹ سٹیڈیم تیار ہو جائے گا تو یہاں پر ہمارا باقاعدہ دفتر بھی ہوگا اور یہاں پر کرکٹ شائقین پی ایس ایل میچز بھی دیکھ سکیں گے۔ سٹیڈیم تیار ہونے کے بعد زلمی دفتر اور اکیڈمی لوگوں کو نظر آ جائے گی۔‘

محمد اکرم نے بتایا کہ ’صوبے میں نوجوانوں کے لیے کرکٹ کے مواقع نہ ہونے کے برابر تھے اسی وجہ سے ہم نے نوجوانوں کو کرکٹ کٹ دینا شروع کیں اور کچھ جگہوں پر پچز بھی تیار کیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’وزیرستان میں بھی ہم کرکٹ کے مواقع فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس سال ہم نے وہاں سے تین ٹیلنٹڈ نوجوانوں کو منتخب کیا ہے اور آپ جلد ان کو کرکٹ میدان میں کھیلتے ہوئے دیکھیں گے۔‘

زلمی ٹیم کے رکن عمر اکمل نے بتایا کہ ’خیبر پختونخوا میں بہت ٹیلنٹ موجود ہے اور لاہور اور دیگر شہروں میں بھی جب ہم کرکٹ کھیلتے ہیں تو وہاں پر ہمیں خیبر پختونخوا کے نوجوان کرکٹ کھیلتے ہوئے ملتے ہیں۔‘

عمر اکمل نے بتایا: ’بڑے شہروں میں کرکٹ کا شوق گھٹتا جا رہا لیکن خیبر پختونخوا میں ہم دیکھتے ہیں کہ یہ شوق بڑھ رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کرکٹ میں خیبر پختونخوا کے لوگ آگے آ رہے ہیں۔ ہمیں پشاور کے لوگوں سے بہت زیادہ سپورٹ ملی ہے۔‘

وہاب ریاض نے اس موقع پر بتایا کہ وہ پچھلے پانچ سالوں سے پشاور زلمی کے ساتھ کھیل رہے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ ٹیم پشاور ہی میں کھیلے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہماری یہی کوشش ہے کہ اس صوبے میں کرکٹ کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے۔‘

وہاب ریاض کا کہنا تھا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ یہاں پر زلمی اکیڈمی ہو تاکہ وہ یہاں کے نوجوانوں کے ساتھ اپنا تجربہ شئیر کر سکیں اور ان کو تربیت فراہم کر سکیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ