12 سال میں 12 حادثات: نیپال فضائی سفر کے لیے ’خطرناک ترین‘ ملک

نیپال میں گذشتہ روز لاپتہ ہونے والے تارا ایئرلائنز کے مسافر طیارے کا ملبہ مل گیا، جو 12 سالوں میں ملک میں 12واں حادثہ ہے۔

نیپال میں طیارے کے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ پوکھرا میں ہوائی اڈے کے باہر (اے ایف پی)

امدادی ٹیمیں اتوار کی صبح نیپال میں لاپتہ ہونے والے تارا ایئرلائنز کے مسافر طیارے  کے ملبے تک پہنچ گئی ہیں۔

ٹوئن اوٹر طیارہ پوکھرا اور جومسوم کے درمیان پرواز میں 22 مسافروں اور عملے کو لے جا رہا تھا۔ کسی بھی مسافر کے زندہ بچنے کا امکان نہیں ہے۔

پہاڑوں سے بھرے اس ملک میں 12 برسوں کے اندر ہوا بازی کا یہ 12 واں سانحہ ہے جس کی وجہ سے یہ مسافر طیاروں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک ہے۔

ایک ایسے دور میں جب ہوابازی زیادہ محفوظ ہوتی جا رہی ہے، نیپال میں حادثات کی شہہ سرخیاں چھپتی رہتی ہیں۔ حادثات عام طور پر خراب موسم میں چھوٹے پروپیلر طیاروں کے ہوتے ہیں۔

اس ملک کی مقامی ایئر لائنز پرانے اور غیر مرمت شدہ طیاروں کا استعمال کرتی ہیں، تازہ ترین سانحے میں تباہ ہونے والا طیارہ تقریباً 40 سال پرانا تھا۔

قبول شدہ بین الاقوامی ہوابازی کے معیارات کے بارے میں تربیت اور ان کا نفاذ بھی ناکافی ہے۔

بہت ہی پرخطرعلاقے اور غیر متوقع موسم والے ملک میں سانحات کا یہ سلسلہ جلد ہی ختم ہونے کی امید کم ہے۔

اس ملک کی تمام ایئر لائنز پر یورپی یونین میں پابندی عائد ہے کیونکہ حکام کو نیپال کے ہوابازی ریگولیٹر پر اعتماد نہیں ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یورپی کمیشن نے ’نیپال کی ریگولیٹری نگرانی کے ذمہ دار حکام کی طرف سے تصدیق شدہ تمام فضائی جہازوں‘ کو اپنے حدود سے خارج کر رکھا ہے۔

نیپالی حکام نے خوفناک نقصانات کو دیکھا ہے۔ گذشتہ ایک دہائی میں جومسوم اور پوکھرا کے درمیان دو حادثات اور بھی ہوئے تھے.

2012 میں اگنی ایئر کی پرواز جومسوم پر لینڈ کرنے میں ناکام ہونے کے بعد پوکھرا واپس آ رہی تھی تو حادثے کا شکار ہوگئی۔ طیارے میں سوار  21 افراد میں سے 15 ہلاک ہو گئے تھے۔

چار سال بعد تارا ایئر کا ایک طیارہ پوکھرا سے جومسوم جاتے ہوئے گر کر تباہ ہوا۔ اس حادثے میں 23 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

بین الاقوامی سول ایوی ایشن ایسوسی ایشن نیپال میں مہلک حادثات کی شرح کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ 

اس کا کہنا ہے: ’ملک کا یہ خوبصورت لیکن دشوار گزار علاقہ دنیا کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں فضائی آپریشنز کو محفوظ رکھنا زیادہ مشکل بناتا ہے۔‘

2012 میں سیتا ایئر کا ڈورنیئر 228 مسافر طیارہ کھٹمنڈو سے لوکلا جانے والی پرواز کے دوران اڑان بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد گرگیا تھا، جس میں سات برطانوی مسافروں سمیت 19 افراد ہلاک ہوئے۔

اس سانحے کا ذمہ دار ’مختلف عوامل کو ٹھہرایا گیا، جس میں ایک یہ بھی تھا کہ طیارے پر وزن بہت زیادہ تھا۔‘

اس پہاڑی ملک کے مسافروں کو پرواز کے خطرات کو بھی مد نظر رکھنا ہوتا ہے۔ اس بات سے آگاہ رہنا ہوتا ہے کہ نیپال میں سڑکیں بھی خطرناک ہیں، جن پر حادثات کی شرح برطانیہ کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا