جونی ڈیپ کیس: ’جو عدالت میں دیکھا وہ اذیت ناک تھا‘

کلیمنس میشلن لکھتی ہیں کہ جونی ڈیپ اور ایمبر ہیرڈ ٹرائل کا فیصلہ ان کے لیے حیران کن نہیں تھا۔

امریکی اداکارہ ایمبر ہارڈ یکم جون، 2022 کو ورجینیا میں جیوری کا فیصلہ آنے کی منتظر ہیں (اے ایف پی)

جونی ڈیپ اور ایمبر ہیرڈ ٹرائل میں جیوری کو فیصلے تک پہنچنے میں تین دن سے بھی کم وقت لگا۔

جیوری نے جمعے کی سہ پہر یہ ٹرائل شروع کیا، ہفتے کے آخر میں میموریل ڈے کی چھٹی کی اور پھر منگل 31 مئی کو واپس آئے۔

اگلے دن دوپہر سے پہلے تک انہوں نے اپنا فیصلہ کر لیا تھا اور وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ہیرڈ نے 2018 میں دی واشنگٹن پوسٹ کے لیے لکھی گئی ایک تحریر میں اپنے سابق شوہر کو بدنام کیا تھا۔

دوسرے لفظوں میں ڈیپ وہ ٹرائل امریکہ میں جیت گئے جو وہ برطانیہ میں پبلشنگ کمپنی سن کے خلاف ہار گئے تھے، جس میں انہیں بیوی پر تشدد کرنے والا قرار دیا گیا تھا۔

میں نے سات ہفتوں تک اس مقدمے کی خبریں دیں۔ اس ٹرائل نے میری پیشہ ورانہ زندگی اور بہت سے ذاتی گفتگو کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ بہت مشکل اور اکثر سخت ذمہ داری ہوتی تھی۔

اس سب کے دوران ہیرڈ کا مذاق اڑانے والوں کی سفاکیت سے میں کبھی حیران نہیں ہوئی۔

شروع سے ہی نہیں لگا کہ انہیں اس معاملے میں مدعا علیہ کو، عام طور پر کمرہ عدالت موجود لوگوں کے مخصوص بے گناہی کے قیاس سے فائدہ ہو۔

ان کے ہر اشارے، چہرے کے تاثرات کی جانچ پڑتال کی گئی تھی۔ انہوں نے جو کچھ بھی کیا - جس طرح وہ مسکرائیں یا روئیں یا ناک صاف کی، اس کی فوری طور پر تشریح کی گئی۔

میں اس کیس کے متعلق آن لائن بحث میں کبھی شریک نہیں ہوئی۔ میمز، یوٹیوب سپر کٹس، غیر سنجیدہ ٹوئٹس، بوائے بینڈ کے سابق رکن سوشل میڈیا پر کھل کر ان کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ یہ سب میرے لیے قابل قبول انسانی رویے کے خلاف تھا۔

متعدد مواقع پر میں نے دیکھا کہ انہوں نے سسکیوں کے ساتھ گواہی دیتے ہوئے کیس لڑا۔ اور پھر میں نے دیکھا کہ ہزاروں خود ساختہ انٹرنیٹ جاسوس ان کا مذاق اڑا رہے تھے۔

وہ نئے تضحیک آمیز ہیش ٹیگ لے آئے اور ان کے ہر اشارے اور چہرے کے تاثرات کا تجزیہ اس توجہ کے ساتھ کیا جسے میں صرف تشویش ناک کہہ سکتی ہوں۔ اس نے مجھے بیمار کر دیا۔ اور یہ اب بھی کرتا ہے۔

بدھ کو فیئرفیکس کمرہ عدالت میں ذاتی طور پر فیصلہ سننے کے لیے ڈیپ ورجینیا نہیں گئے۔ وہ برطانیہ میں تھے، جہاں وہ کچھ کنسرٹ کر رہے ہیں۔

جب فیصلہ پڑھا گیا تو ہیرڈ کمرہ عدالت میں موجود تھیں: ہیرڈ اور ڈیپ نے ایک دوسرے پر الزام لگایا کہ تین بیانات میں بدنام کیا گیا۔

 جیوری نے ہیرڈ کے تینوں بیانات کو ڈیپ کے حق میں پایا اور اپنے کاؤنٹر کیس میں لائے گئے تین بیانات میں سے صرف ایک کو ہیرڈ کے حق میں پایا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 ہر فریق کا کچھ  ازالہ کیا گیا۔ ڈیپ کا نمایاں طور پر ہیرڈ سے کافی زیادہ ازالہ ہوا۔

اس کے بعد ایک بیان میں ہیرڈ نے کہا کہ ’آج جو مایوسی میں محسوس کر رہی ہوں اس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ میرا دل ٹوٹ گیا ہے کہ ثبوتوں کا پہاڑ اب بھی میرے سابق شوہر کی غیر متناسب طاقت، اثر و رسوخ اور غلبے کے خلاف کھڑے ہونے کے لیے کافی نہیں تھا۔‘

انہوں نے کہا:’مجھے یقین ہے کہ ڈیپ کے وکیل جیوری سے آزادی اظہار کے اہم مسئلے اور ایسے شواہد کو نظر انداز کروانے میں کامیاب ہوئے جو اتنے حتمی تھے کہ ہم برطانیہ میں جیت گئے تھے۔‘

ڈیپ اور  ہیرڈ کے بارے میں بات ابھی ختم نہیں ہوئی۔ ان کے درمیان یہ ابھی جاری ہے.

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ