’نواز شریف کے لیے گھر سے کھانا نہیں زہر آتا ہے‘

سابق وزیراعظم نواز شریف کو جیل میں گھر کے کھانے کی فراہمی پر پابندی کی خبروں پر لیگی رہنماؤں کا شدید ردعمل،  ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب شہباز گل نے اس معاملے پر بورڈ بنانے کا عندیہ دے دیا۔

مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے حالیہ  بیان کے بعد ہی پنجاب حکومت نے میاں نواز شریف کو گھر کا کھانا فراہم کیے جانے پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا (فائل: اے ایف پی)

مسلم لیگ ن کے حلقوں میں آج کل جیل میں قید سابق وزیراعظم نواز شریف کو گھر کے کھانے کی فراہمی روکے جانے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے اور اس سلسلے میں ایک مذمتی قرارداد بھی پنجاب اسمبلی میں جمع کروائی جاچکی ہے، تاہم صوبائی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے کھانے کے معاملے پر ایک بورڈ بنایا جائے گا کیونکہ ان کے لیے گھر سے کھانا نہیں زہر آتا ہے۔

اس سارے معاملے کی ابتدا اُس وقت ہوئی جب ذرائع کے حوالے سے خبر چلی کہ پنجاب حکومت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو گھر کے کھانے کی فراہمی روکنے کا فیصلہ کیا ہے، جسے مسلم لیگ ن کی جانب سے حکومت کا ’انتہائی آمرانہ طرز قدم‘ قرار دیا گیا۔

ن لیگ کی جانب سے موقف سامنے آیا کہ جیلوں میں صاحب حیثیت بہت سے قیدیوں کو گھر کا کھانا پہنچانے کی قانونی اجازت موجود ہے، لیکن حکمران جس طرح انتقامی کارروائیاں کر رہے ہیں، اُس سے لگتا ہے کہ اس کا مقصد کچھ اور ہے اور دوسرا جیل سے ملنے والے کھانے پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملاقات کے بعد پیر کے روز جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ منی لانڈرنگ میں ملوث کسی بھی قیدی کو جیل میں عام قیدیوں کی طرح رہنا ہوگا۔ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس بیان کے بعد ہی پنجاب حکومت نے میاں نواز شریف کو گھر کا کھانا فراہم کیے جانے پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیگی رہنما ایم این اے شائستہ پرویز ملک نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: ’میاں نواز شریف بیمار ہیں اور دل کے عارضے میں مبتلا ہیں۔ انہیں گھر سے پرہیزی کھانا پہنچایا جاتا ہے، جس سے ان کو دی جانے والی سزا میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کسی بھی قیدی کی جان کا تحفظ ان کا بنیادی حق ہے، لیکن موجودہ حکومت اپنے مخالفین کو شاید ختم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔‘

شائستہ پرویز نے مزید کہا کہ ’پائے کھانے کا جو طعنہ میاں نواز شریف کو دیا جاتا ہے، میرے پوچھنے پر میاں صاحب نے بتایا تھا کہ انہوں نے جیل میں کبھی پائے نہیں کھائے۔‘

دوسری جانب مسلم لیگ ن کی رکن صوبائی اسمبلی سعدیہ تیمور کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کو جیل میں گھر سے کھانا پہنچانے پر پابندی کی مذمتی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرا دی گئی، جس میں کہا گیا کہ نواز شریف اس وقت سینٹرل جیل لاہور میں پابند سلاسل ہیں جہاں ان کا کھانا گھر سے تیار ہو کر آتا ہے، تاہم وزیراعظم عمران خان کے بیان کے بعد ان سے یہ سہولت چھین لی گئی ہے۔ ساتھ ہی مطالبہ کیا گیا کہ گھر سے کھانا لانے پر پابندی کا فیصلہ واپس لیا جائے۔

’70 سالہ مریض کو روزانہ چکن دینا زیادتی ہے‘

اس معاملے پر ترجمان پنجاب حکومت شہباز گل سے انڈپینڈنٹ اردو کی جانب سے رابطے کی بار بار کوشش کی گئی، لیکن انہوں نے اپنا موقف دینے سے اجتناب کیا۔

تاہم بعدازاں ایک پریس کانفرنس کے دوران شہباز گل نے بتایا کہ ’نواز شریف کے لیے اب تک کھانا ان کے گھر سے آرہا ہے۔‘

انہوں نے منگل کو آنے والے کھانے کا مینیو بھی بتایا، جس کے مطابق نواز شریف کو کھانے میں کریلے گوشت، سادہ چاول اور شوربہ گوشت دیا گیا۔

شہباز گل نے مزید کہا کہ ’نواز شریف کے لیے گھر سے کھانا نہیں زہر آتا ہے کیونکہ 70 سالہ مریض کو روزانہ چکن دینا زیادتی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’نواز شریف کے کھانے کے معاملے پر ایک بورڈ  بنے گا جس میں ایک نیوٹریشنسٹ ہوگا اور ایک ماہر ذیابیطس ہوگا۔‘

ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ 21 کارڈیالوجسٹ، 21 ٹیکنیشن اور ایک ڈرائیور ہمہ وقت نواز شریف کے لیے ڈیوٹی دے رہے ہیں۔

جیل انتظامیہ کیا کہتی ہے؟

اس حوالے سے جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مینول کے مطابق ماہرِ غذائیت کی تجویز پر ہفتہ وار شیڈول میں قیدیوں کے لیے تین دن چکن، دو دن دال سبزی اور دو دن چاول بنائے جاتے ہیں۔

لاہور کے ایک جیل سپرنٹنڈنٹ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ہر جیل میں ایک ماہرِ غذائیت ہوتا ہے جو کھانے سے قیدیوں کو ملنے والی ضروری جزیات کا جائزہ لیتا ہے جبکہ کھانے کے معیار کو بہتر رکھنے کے لیے باقاعدہ چیکنگ کی جاتی ہے۔ جیل مینول کے مطابق زندہ مرغی کو جیل کے سلاٹر ہاؤس میں ذبح کیا جاتاہے، مصالحہ بھی خود پیسا جاتا ہے جبکہ چینی، ککنگ آئل اور آٹا تیار خریدا جاتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست