نشے میں چُور ۔۔۔!

نواز شریف کو تین بار اقتدار ملا۔ تینوں مرتبہ اس نشے کی بدمستی میں انہوں نے ایسی ایسی غلطیاں کیں کہ جن کا خمیازہ سالوں بھگتنا پڑا۔ آج عمران خان کی حکومت اقتدار کے نشے میں مست اور بد مست ہے۔

نواز شریف کو تین بار اقتدار ملا۔ تینوں مرتبہ اس نشے کی بدمستی میں انہوں نے ایسی ایسی غلطیاں کیں کہ جن کا خمیازہ سالوں بھگتنا پڑا۔ آج عمران خان کی حکومت اقتدار کے نشے میں مست اور بد مست ہے۔ (فائل: اے ایف پی)

نشوں میں سب سے مست اور بد مست نشہ اقتدار کا ہے۔ جب تک یہ نشہ حاصل نہ ہو، بندہ مست رہتا ہے اور جب حاصل ہو جائے تو بد مست ہو جاتا ہے۔ یہی حال ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں کا ہمیشہ سے رہا ہے۔

نواز شریف کو تین بار اقتدار ملا۔ تینوں مرتبہ اس نشے کی بدمستی میں انہوں نے ایسی ایسی غلطیاں کیں کہ جن کا خمیازہ سالوں بھگتنا پڑا۔ ایسی ہی ایک غلطی کے آج کل بہت چرچے ہیں۔

1997 میں دوسری بار اقتدار ملنے کے بعد نواز شریف نے اپنی سب سے بڑی اور خطرناک سیاسی حریف بینظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری پر جو بے تُکے اور جھوٹے سیاسی مقدمات بنوائے ان میں سے ایک منشیات کا بھی تھا۔ اینٹی نارکوٹکس فورس نے چرس پکڑی اور آصف علی زرداری پر ڈال دی۔ زرداری پہلے ہی دیگر مقدمات میں پولیس کی حراست میں تھے، سو منشیات جیب سے تو نہ نکل سکتی تھی پر گلے ضرور ڈال دی گئی ۔حالانکہ اُس وقت کے وزیر داخلہ اور نواز شریف کے قریبی چوہدری شجاعت حسین حال ہی میں اپنی کتاب ’سچ تو یہ ہے‘ میں لکھ چکے ہیں کہ آصف زرداری پر بنایا گیا یہ کیس جھوٹا تھا۔ اُس وقت کے آئی ایس آئی لاہور  کے ڈائریکٹر اعجاز شاہ جو اب بریگیڈیئر ہیں، کئی موقعوں پر تسلیم کر چکے ہیں کہ منشیات کیس میں آصف زرداری کو غلط پھنسایا گیا تھا۔ ایک حالیہ انٹرویو میں تو بریگیڈیئر اعجاز شاہ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اُنہوں نے اس بات کی گواہی اُس وقت کے اینٹی نارکوٹکس فورس کے چیف جنرل مشتاق کو بھی لکھ بھیجی تھی۔

 اس کیس میں سیف الرحمان کا کیا کردار تھا، وہ بھی اب تاریخ کی کتابوں سے ڈھکا چھپا نہیں رہا۔ غرض یہ کہ منشیات کیس کا نہ کوئی سر تھا، نہ پیر لیکن اقتدار کا نشہ چونکہ نواز شریف کے سر چڑھ کر بول رہا تھا لہذا کیس تو بننا ہی تھا اور بنایا گیا، لیکن انتہائی بھونڈے انداز سے۔ چوری کے مقدمے میں پہلے سے زیرِ حراست ایک ملزم عارف بلوچ ٹیڈی کے ایک بیان کو ایف آئی آر کا حصہ بنا لیا گیا اور دیگر ملزمان میں شورنگ خان کا نام ڈال دیا گیا جو کسی اور مقدمے میں مطلوب تھا۔ 1997 میں کیس بنا، اپریل 1998 میں آصف زرداری کی پہلی پیشی ہوئی، 11 سال یہ کیس چلتا رہا۔ درمیان میں نواز شریف کی نہ صرف حکومت ختم ہوئی، جلا وطن ہوئے، بلکہ مارشل لاء بھی لگا۔

لیکن سیاسی انتقام کی بنیاد پر بنے مقدمات کی ضرورت صرف سیاستدانوں کو ہی تو نہیں ہوتی، ہر قسم کےحکمران انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ سو ملٹری ڈکٹیٹر جنرل (ر) پرویز مشرف نے بھی اس مقدمے کو خوب استعمال کیا۔

2008 آیا، پیپلز پارٹی کی حکومت آئی، لیکن مقدمہ چلتا رہا۔ یہاں تک کہ کیس کے تفتیشی افسر عاشق مارتھ نے بھی اپنے بیان میں کہہ دیا کہ یہ مقدمہ دباؤ کے تحت درج کیا گیا تھا۔ 11 سال کی مدت میں بھی استغاثہ اس کیس میں کوئی شہادت نہ دے سکا، آصف زرداری کے خلاف کیس ثابت نہ کر سکا۔ یہاں تک کہ سرکاری وکیل آزر لطیف خان نے بھی آصف زرداری کے وکیل کے موقف کی حمایت کر دی۔ انجام وہی ہوا جو اس طرح کے سیاسی انتقام اور بد نیتی پر مبنی مقدمات کا ہوا کرتا ہے ۔ منشیات سمگلنگ وہ آخری کیس تھا جس سے آصف زرداری بری ہوئے۔

صرف آصف زرداری ہی نہیں، نواز شریف اور ان کے حواریوں نے اپنے کتنے ہی سیاسی مخالفین پر منشیات کے ایسے مقدمات ڈالے۔ کچھ زرداری جیسے خوش قسمت نکلے، جو باعزت بری ہوئے۔ کچھ نے اپنی عزتیں گنوائیں، کچھ نے دے دلا کر عزت بچائی اور کچھ اس جہان سے ہی رخصت ہو گئے۔

تاریخ سے ہم نے یہی سیکھا کہ تاریخ سے کچھ نہ سیکھا۔ آج پھر تاریخ اپنے آپ کو دُہرا رہی ہے اور اقتدار کے نشے میں مست اور بد مست ہے عمران خان کی حکومت۔ زیرِ عتاب ہے نواز شریف اور ان کے جاں نثار اور حواری۔ آصف زرداری بھی ایک بار پھر سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ رانا ثنا اللہ پر منشیات سمگلنگ کا مقدمہ ڈالا گیا تو یاد آیا کہ ایسا کچھ پہلے بھی کہیں ہو چکا ہے۔

آصف زرداری نے سیاسی مصلحت یا خاندانی رواداری میں نواز شریف کا نام تو نہ لیا لیکن خود پر بنائے گئے جھوٹے سیاسی انتقام کے مقدمے کا حوالہ دے کر رانا ثنا اللہ کی گرفتاری کی مذمت ضرور کی۔ کوٹ لکھپت جیل میں قید نواز شریف نے اُس سمے کیا محسوس کیا ہوگا، کیا سوچا ہوگا؟ لیکن اب پچھتاوے کیا ہوت۔۔۔!

ایک وقت تھا کہ نواز شریف بھی ناز کرتے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہیں بھی زعم رہتا تھا کہ حکومت اور فوج ایک پیج پر ہے۔ بینظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی نظریاتی طور پر تو اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہے لیکن عملاً بھی کمال کی رہی۔ وہ جانتی تھی کہ اقتدار میں جب بھی تبدیلی آئی اسٹیبلشمنٹ کی ٹوپی اور چھڑی والی جادوگری ہی کارگر ہوتی ہے۔ سو نواز شریف کا یہ زعم پہلے بینظیر توڑتی تھیں، اب کی بار عمران خان نے توڑا۔ اقتدار کا کھیل تو وہی ہے، کھلاڑی بھی وہی ہیں لیکن کردار تبدیل ہوگئے۔ کھیل کے اصول البتہ وہی برقرار ہیں۔

سو عمران خان بھی وہی کھیل کھیل رہے ہیں۔

اچھنبے کی کیا بات ہے؟ نیا کیا ہے؟ لیکن دھیان رہے، تاریخ سے ہم نے یہی سیکھا کہ تاریخ سے کچھ نہ سیکھا۔۔۔!

اُصولِ اسٹیبلشمنٹ ہے کہ دو مّدت سے زیادہ وہ کسی کو برداشت نہیں کر سکتی۔ اصولِ قدرت ہے کہ وہ دو بار سے زیادہ کسی کو موقع نہیں دیتی۔ عمران خان کتنا عرصہ حکومت کر سکیں گے۔ پانچ سال، دس سال، 15 سال، 20 سال، اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں۔ لیکن قوموں کی سیاسی تاریخ میں یہ سال لمحات کی مانند ہوتے ہیں۔ بینظیر نہ رہیں، نواز شریف نہ رہے، آصف زرداری نہ رہے تو عمران خان بھی نہ رہیں گے۔ سو وہ کھیل نہ دہرائیں جو اُن کے پیش رو دہرا چکے اور جس کا انجام سب کو معلوم ہو۔ دن رات ایک سے نہیں رہتے، سیاہ و سفید ایک سے نہیں رہتے۔ جنرل حمید گُل ہوں یا جنرل فیض حمید، پھول ستارے سدا ایک سے نہیں رہتے۔

اقتدار کے نشے کی مستی و بد مستی میں جس طرح صحافت کا گلا گھونٹا جا رہا ہے، لکھنے والے لکھ نہیں پا رہے، بولنے والے بول نہیں پا رہے، سماعتیں بہری ہیں، بصارتیں اندھی ہیں۔

کچھ ہی عرصہ پہلے ہم نے اسحاق ڈار کا انٹرویو کیا جو نشر ہونے کے چند ہی منٹ بعد روک دیا گیا۔ حال ہی میں حامد میر صاحب کی طرف سے آصف علی زرداری کا کیا گیا انٹرویو نشر ہوتے ہی روک دیا گیا۔ ایسے ہی حالات کے لیے یقیناً اکبر الہ آبادی نے لکھا ہوگا۔

کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو

جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر