صدر زرداری نے نا اہلی چیلنج کرنے کو کہا، میں نے منع کیا: گیلانی

سپریم کورٹ نے 10 سال قبل آج ہی کے دن اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو نا اہل قرار دیا تھا۔ انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں سابق وزیراعظم نے اس دن کی یادوں سے پردہ اٹھایا ہے۔

سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اپنی نااہلی سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ 10 سال بعد بھی بھولے نہیں اور آج بھی ان لمحات کا ذکر اور عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں یوسف رضا گیلانی نے اس دن کی یادوں پر سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ فیصلے کے وقت وہ کہاں تھے، ان کے تاثرات کیا تھے اور اہل خانہ نے اس حوالے سے کیا کہا۔

لیکن اس سے پہلے اس بات کا ذکر ہوجائے کہ یہ نا اہلی کیوں اور کیسے ہوئی تھی۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے 10 سال قبل یعنی 2012 میں جون کی 19 تاریخ کو اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو نا اہل قرار دیا تھا۔

ملک کی تاریخ میں پہلے نا اہل ہونے والے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف یہ کیس تب شروع ہوا جب انہوں نے عدالتی حکم پر اس وقت کے صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئس مقدمات پر دوبارہ کارروائی کے لیے سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کا موقف اپنایا تھا۔

16  جنوری 2012 کو سپریم کورٹ نے جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں بنائے گئے سات رکنی بینچ نے این آر او عملدرآمد کیس میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں خود پیش ہونے کا حکم دیا اور 26 اپریل 2012 کو انہیں توہین عدالت کا مرتکب ہونے پر ’عدالت کی برخاستگی تک قید کی سزا‘ سنائی گئی۔

چار مئی 2012 کو اس وقت کی سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے یہ رولنگ دے کر یوسف رضا گیلانی کی نا اہلی کو مسترد کردیا کہ ’وزیراعظم پر عائد کی گئی فرد جرم کے تحت انہیں نا اہلی کی سزا نہیں دی جا سکتی۔‘

مزید پڑھیے: گیلانی خاندان کے سیاسی جانشین جو خبروں میں رہنے کا ہنر جانتے ہیں

دوسری جانب اسی ماہ پاکستان مسلم لیگ ن کے خواجہ آصف اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی اہلیت سے متعلق سپیکر کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کیں۔

بالآخر چھ ماہ کی آئینی جنگ کے بعد سپریم کورٹ نے 19 جون 2012 کو سپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم کرتے ہوئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دے دیا۔

اس فیصلے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کا مرتکب پایا اور چونکہ 26 اپریل کو دیے گئے فیصلے کے خلاف کوئی اپیل دائر نہیں کی گئی، اس لیے ملکی آئین کے تحت یوسف رضا گیلانی 26 اپریل سے قومی اسمبلی کے رکن نہیں رہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ یوسف رضا گیلانی اسی تاریخ سے ملک کے وزیراعظم بھی نہیں رہیں گے اور یہ عہدہ اس دن سے خالی تصور کیا جائے گا۔

’میں نے ایک منٹ کے اندر یہ فیصلہ قبول کیا‘

یوسف رضا گیلانی نے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں ان واقعات کو یاد کرتے ہوئے بتایا: ’جب (26 اپریل کو) یہ فیصلہ آیا تو میں اس وقت سپریم کورٹ میں تھا۔ سات رکنی بینچ نے ’اجلاس کے برخاست ہونے تک سزا‘ سنائی جو کہ چند سیکنڈز پر مشتمل تھی۔ یہ معاملہ عدالتی حکم کی تعمیل کے لیے سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا کو ریفر کیا گیا۔ سپیکر نے ایک ماہ کا وقت لیا اور قانونی ماہرین سے مشاورت کی۔‘

’اس کے بعد اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ازخود نوٹس لیا اور مجھے نا اہل قرار دے دیا۔ میں نے یہ فیصلہ ایک منٹ کے اندر قبول کر لیا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سات رکنی بینچ نے سپیکر کی رولنگ کے باوجود مجھے نا اہل قرار دیا۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایک ملک میں دو قانون تھے۔‘

19 جون کے فیصلے کے وقت گیلانی کہاں تھے؟

19 جون 2012 کو جب سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا تو اس وقت وہ ایوان صدر میں اپنی پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کے اجلاس میں شریک تھے جہاں انہیں ان کے سٹاف نے آکر ان کے نا اہل ہونے سے متعلق فیصلے کا بتایا۔

یوسف رضا گیلانی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’جب فیصلہ آیا تو میں صدر پاکستان کے ساتھ پارٹی کے اجلاس میں بیٹھا ہوا تھا، جہاں ہم پالیسی کا تعین کر رہے تھے اور نا اہل قرار دیے جانے کی صورت میں حکمت عملی پر مشاورت کر رہے تھے۔ اس دوران مجھے بتا دیا گیا کہ مجھے نا اہل قرار دے دیا گیا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے: یوسف رضا گیلانی نااہلی اور چیئرمین سینیٹ کے درمیان معلق

سابق وزیراعظم کے مطابق: ’میں نے صدر کو بتایا کہ انہیں ایک قرارداد پیش کرنی ہے جو سی ای سی کے تمام اراکین کو پارٹی کے شریک چیئرمین اور صدر پاکستان کو نیا وزیراعظم منتخب کرنے کے لیے اختیار دے۔ یہی میرا پہلا رد عمل تھا۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’مجھے سی ای سی سے اجازت مل گئی۔ میرے فیصلے کے آٹھ منٹ کے بعد میرے پریزیڈنسی سے جھنڈے کے بغیر نکلنے کی بریکنگ نیوز چلی۔‘

صدر زرداری اعلان کرنے سے پہلے انتظار کیوں کرنا چاہتے تھے؟

یوسف رضا گیلانی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس وقت کے صدر آصف علی زرداری کا خیال تھا کہ انہیں نا اہلی کیس کو چیلنج کرنے کے لیے پہلے وکیل اعتزاز احسن سے مشاورت کر لینی چاہیے، اس کے بعد ہی پھر ہم اپنی رائے دیں گے۔ ’ہمارے پاس اپیل کا حق بھی تھا۔‘

’لیکن میں نے کہا کہ اب بہت ہوگیا (Enough is Enough)۔ وہ انسان نہیں جو نوکری پیشہ ہو۔ میں پاکستان کی تاریخ میں متفقہ طور پر منتخب وزیراعظم ہوں اور ملک کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک رہنے والا وزیراعظم ہوں۔ اگر میں اس طرح رسوا ہوا تو میں انتظار نہیں کروں گا۔ میں جا رہا ہوں۔‘

خاندان کا کیا ردعمل تھا؟

یوسف رضا گیلانی نے بتایا کہ انہوں نے کئی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ نا اہلی کی خبر سن کے خاندان والوں کے تاثرات سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسی باتوں کے عادی ہیں۔

’خاندان کا خیال تھا کہ انہیں لطف اندوز ہونے کا موقع نہیں ملا۔ میڈیا کو بھی موقع نہیں ملا اور آپ نے ایک سیکنڈ میں وزارت عظمیٰ چھوڑ دی۔‘

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کے خاندان نے انہیں نیب کیس میں لاہور میں اپنے گھر سے گرفتار ہوتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ انہوں نے وہ وقت بھی دیکھا ہے۔

بقول یوسف رضا گیلانی: ’یہ وقت سیاسی خاندان دیکھتے رہتے ہیں۔ جب کوئلے کا کاروبار کریں گے تو ہاتھ تو کالے ہوں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست