سری لنکا میں پیٹرول کی قلت پر فسادات، فوج کی فائرنگ

پولیس کے مطابق فوج نے ویزوماڈو شہرمیں ایندھن کی قلت کے باعث پیدا ہونے والی بدامنی اور فسادات پر قابو پانے کے لیے فائرنگ کی، جس سے چار شہری اور تین اہلکار زخمی ہوگئے۔

سری لنکا کا ایک سکیورٹی اہلکار سات جون 2022 کو کولمبو میں ایندھن کی کمی کے خلاف مظاہرے کے دوران سڑک بلاک کرنے کے لیے مظاہرین کی طرف سے پھینکے گئے جلتے ہوئے ٹائر کو ہٹا رہا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

سری لنکا میں فوج نے اتوار کو ویزوماڈو شہر میں پیٹرول پمپ پر ایندھن حاصل کرنے کے لیے ہونے والے فسادات پر قابو پانے کے لیے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں چار شہری اور تین اہلکار زخمی ہوگئے۔

بدترین مالی بحران کے شکار اس ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کے حصول کے لیے فیول سٹیشنز کے باہر طویل قطاریں دیکھی گئیں۔

فوج کے ترجمان نیلانتھا پریمارتنے نے خبر رساں ادارے  اے ایف پی کو بتایا کہ ہفتے کی شب  درالحکومت کولمبو سے 365 کلومیٹر دور واقع ویزوماڈو شہر میں فوجی اہلکاروں نے اس وقت فائرنگ کی، جب مشتعل افراد نے ان پر پتھراؤ کیا۔

پریمارتنے نے کہا: ’20 سے 30 افراد کے ایک گروپ نے فوج پر پتھراؤ کیا اور ایک فوجی ٹرک کو نقصان پہنچایا۔‘

دوسری جانب پولیس نے کہا ہے کہ فوج نے ایندھن کی قلت کے باعث پیدا ہونے والی بدامنی اور فسادات پر قابو پانے کے لیے فائرنگ کی، جس سے چار شہری اور تین فوجی زخمی ہو گئے۔

پولیس نے بتایا کہ پیٹرول پمپ پر پیٹرول ختم ہونے پر گاڑی مالکان نے احتجاج شروع کر دیا اور صورت حال قابو سے باہر ہو گئی۔ اس موقع پر احتجاج فوجیوں کے ساتھ تصادم میں بدل گیا۔

مزید پڑھیے: سری لنکا میں پیٹرول کی قلت: سکول اور سرکاری دفاتر بند

سری لنکا نے پیٹرول سٹیشنوں کی حفاظت کے لیے مسلح پولیس اور فوجیوں کو تعینات کر رکھا ہے۔

پولیس نے کہا کہ ویک اینڈ پر تین مقامات پر موٹرسائیکل سواروں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ ایک جھڑپ میں کم از کم چھ کانسٹیبل زخمی ہوئے جبکہ سات موٹر سائیکل سواروں کو گرفتار کر لیا گیا۔

سری لنکا آزادی کے بعد سے بدترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے جہاں خوراک، ایندھن اور ادویات سمیت بنیادی اشیا درآمد کرنے کے لیے زر مبادلہ کے ذخائر خالی ہو گئے ہیں۔

ملک کی دو کروڑ سے زیادہ کی آبادی کو ضروری اشیا کی قلت اور قلیل سپلائی کی وجہ سے لمبی قطاروں میں کھڑا ہونا پڑ رہا ہے۔

اپریل میں رامبوکانا قصبے میں راشن، پیٹرول اور ڈیزل کی تقسیم کے دوران ہونے والے تصادم کے دوران ایک موٹر سوار کو پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

اس سے قبل رواں ہفتے ہی سری لنکن حکومت نے ایندھن اور بجلی کی قلت کے باعث سرکاری دفاتر اور سکولوں کو دو ہفتے کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق ملک میں درآمدی ایندھن کی ادائیگی کے لیے ڈالرز ختم ہونے کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب ہو چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: سری لنکا: املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم

دوسری جانب اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں لاکھوں افراد کو امداد کی ضرورت ہے۔ سری لنکا اپریل میں اپنے 51 ارب ڈالرز کے غیر ملکی قرضے پر نادہندہ ہونے کے بعد بیل آؤٹ کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے بات چیت کر رہا ہے۔

روئٹرز کے مطابق اس حوالے سے  کل (پیر کو) کولمبو میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے وفد سے بات چیت متوقع ہے۔

اقوام متحدہ نے اگلے چار مہینوں کے دوران بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 17 لاکھ سری لنکن باشندوں کو امداد فراہم کرنے کے لیے 47 ملین ڈالرز اکٹھا کرنے کے منصوبے کا خاکہ بھی پیش کیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا