گھر کے ساتھ سیاسی میدان میں بھی متحرک فوزیہ سینگار

بلدیاتی انتخابات لڑنے کا ارادہ رکھنے والی فوزیہ سینگار کا کہنا ہے کہ جب میرے شوہر کامریڈ سینگار جبری طور پر گمشدہ ہوئے تو میرا سیاست میں باضابطہ طور آنا ہوا، جب میں گھر سے نکلی تو سارا شہر میرے ساتھ تھا۔

(سکرین گریب)

’ہمارے ضلع میں جاگیرداروں کے دباؤ کی وجہ سے کئی امیدوار دست بردار ہوگئے ہیں لیکن میں بلدیاتی انتخابات لڑوں گی چاہے کچھ بھی ہو۔‘

یہ کہنا تھا قمبر شہداد کوٹ میں بلدیاتی انتخاب میں حصہ لینے والی فوزیہ سینگار کا۔

چانڈیو سرداروں کے علاقے میں انتخابات لڑنے والی  قمبر شہدادکوٹ کی واحد خاتون فوزیہ سینگار عورتوں کی بڑی تعداد کو سیاست میں لانا چاہتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اندازہ لگائیے کہ ایک قبائلی ذہنیت رکھنے والے علاقے میں جہاں عورت کا گھر سے نکلنا مشکل ہو وہاں پر ایک شادی شدہ اور بچوں کی ماں کا گھر کے کام کاج کے ساتھ باہر سیاست میں حصہ لینا کتنا دشوار ہے۔‘

سندھ کے ضلع قمبر شہدادکوٹ میں بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والی عورت امیدوار فوزیہ سینگار 26 جون کو بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیں گی۔

انتخابات میں میں ضلع قمبر شہدادکوٹ کی تحصیل نصیر آباد کی عوامی ورکرز پارٹی اور ناری جمہوری محاذ کی نامزد عورت امیدوار فوزیہ سینگار بھی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار کے خلاف مقابلہ کرنا چاہتی ہیں، اس سلسلے میں وہ گھر گھر جا کر مہم چلا رہی ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں فوزیہ سینگار کا کہنا ہے کہ ’روزمرہ زندگی کا ہر مسئلہ عورت پر بری طرح اثرانداز ہوتا ہے اور افسوس کی بات یہ ہے ان عورتوں کی سیاست میں نمائندگی نہیں ہے وہ اپنے مسائل حل کر سکیں۔ اس لیے ہی میں بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے رہی ہوں تاکہ مزید عورتوں کو حوصلہ دے کر سیاست میں لاؤں اور وہ اپنے حقوق حاصل کر سکیں۔‘

وہ سمجھتی ہیں کہ روزمرہ کے معاملات بھی عورت پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اگر پانی کا مسئلہ ہو تو عورت متاثر ہوتی ہے، گیس کا مسئلہ ہو تو پھر بھی عورت متاثر ہوتی ہے۔ مہنگائی سے بھی عورت متاثر ہوتی ہے، جب ایک مرد کماتا صرف پانچ سو روپے ہے اور گھر میں دیتا ہے تو پھر بھی عورت ہی متاثر ہوتی ہے کہ وہ کیسے ان پیسوں سے گھر چلا رہی ہے۔

فوزیہ سینگار شہر کی دیگر خواتین کے ساتھ اپنے وارڈ میں ہر گھر جا کر عورتوں سے مل رہی ہیں، اور وہ عورتوں کے حقوق والے گیتوں سے مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔

انہوں نے اپنی سیاسی سفر کے بارے بتایا کہ جب میرے شوہر کامریڈ سینگار جبری طور پر گمشدہ ہوئے تو میرا سیاست میں باضابطہ طور آنا ہوا، جب میں گھر سے نکلی تو سارا شہر میرے ساتھ تھا، پہلے لوگ ہم سب سے دور بھاگتے تھے، سب سے پہلے گھر والوں نے ساتھ دیا اس کے بعد ہماری منظم پارٹی عوامی ورکرز پارٹی ہمارے ساتھ کھڑی ہوئی تو لوگوں کے اندر سے خوف ختم ہوا اور وہ آہستہ آہستہ ہمارے ساتھ جڑنے لگے۔ جب وہ کھڑے ہوئے تو ایک ہجوم نظر آ رہا تھا ان کی آنکھوں میں اس جبر اور بربریت کے خلاف مزاحمت نظر آ رہی تھی۔

انہوں نے اپیل کی کہ ’شہری میرا ساتھ دیں اور مجھے جتوائیں تاکہ میں ٹاؤن کمیٹی کی رکن بن کر عورتوں کے لیے منظم آواز بلند کروں اور ان کے مسائل پر کام کریں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین