آسٹریلیا: سیلاب کے بعد ہزاروں افراد کو نقل مکانی کی ہدایت

نیو ساؤتھ ویلز ریاست میں تقریباً 30 ہزار مکین نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ سڈنی کے مغرب میں کئی مضافاتی علاقوں میں سیلاب سے گھر، کھیت اور پل ڈوب جانے کے نتیجے میں بے چینی پھیل گئی ہے۔

بارشوں کے نتیجے میں آسٹریلیا کے سب سے بڑے شہر سڈنی اور مضافاتی علاقوں میں 18 ماہ کے بدترین سیلاب کے خدشے کے پیش نظر 30 ہزار سے زیادہ مکینوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ شہر سے انخلا یا گھروں کو چھوڑنے کے تیار رہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق 50 لاکھ آبادی والے شہر کے کچھ حصوں کو ڈیڑھ سال میں چوتھی بار سیلاب کی ہنگامی صورت حال کا سامنا ہے۔

جمعے سے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے باعث پانی ڈیمز کے کناروں سے باہر نکل آیا اور نالوں میں شکاف پڑ گئے۔ ایمرجنسی مینیجمنٹ کے وزیر مرے واٹ نے آسٹریلوی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کو بتایا کہ’ہمارے پاس تازہ ترین معلومات یہ ہیں کہ اس بات کا بہت امکان ہے کہ موجودہ سیلاب ان علاقوں میں پچھلے 18 مہینوں میں آنے والے دیگر تین سیلابوں کے مقابلے میں کسی سے بھی بدتر ہو گا۔‘

واٹ نے مزید کہا کہ موجودہ سیلاب ان علاقوں کو متاثر کر سکتا ہے جو گذشتہ سیلابوں کے دوران محفوظ رہے۔

نیو ساؤتھ ویلز کے ریاستی وزیر اعظم ڈومینک پیروٹیٹ کا کہنا ہے کہ انخلا  کے احکامات اور وارننگ سے 32 ہزارافراد متاثر ہوئے ہیں۔ پیروٹیٹ نے کہا کہ ’آپ شاید ہفتے کے دوران اس تعداد میں اضافہ دیکھنے کی توقع کریں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ ’ہنگامی خدمات کے ادارے نے حالیہ دنوں میں لوگوں کو سیلاب میں بچانے کے لیے 116 مرتبہ کارروائی کی۔ ان میں سے 83 آپریشن رات اتوار کو رات نو بجے شروع کیے گئے۔ پیر کی صبح تک مدد کے لیے مزید سینکڑوں درخواستیں کی گئیں۔‘

آسٹریلوی محکمہ موسمیات کی مینیجر جین گولڈنگ کے مطابق سڈنی کے شمال میں نیو کاسل اور سڈنی کے جنوب میں وولونگونگ کے درمیان کچھ علاقوں میں پچھلے 24 گھنٹے میں ایک میٹر (39 انچ) سے زیادہ بارش ہوئی۔ بعض علاقوں میں ڈیرھ میٹر (59 انچ) سے زیادہ بارش ہوئی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق آسٹریلیا کے مشرقی ساحل کے قریب ہوا کا شدید کم دباؤ کے پیش نظر نیو ساؤتھ ویلز میں پیر تک مزید شدید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ گذشتہ ہفتے کے اختتام پر ریاست کے کئی مقامات پر تقریباً ایک ماہ کی شدید بارش سے متاثر ہوئے۔

نیو ساؤتھ ویلز ریاست میں تقریباً 30 ہزار مکینوں کو نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ سڈنی کے مغرب میں کئی مضافاتی علاقوں میں سیلاب سے گھر، کھیت اور پل ڈوب جانے کے نتیجے میں بے چینی پھیل گئی ہے۔ کچھ مضافی علاقے سال میں تیسری مرتبہ متاثر ہوئے ہیں۔

کیمڈن کی میئر تھریسا فڈیلی کے بقول: ’یہ تباہ کن ہے۔ ہمیں یقین نہیں آتا۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ حال ہی میں سیلاب کے اثرات سے باہر نکلے۔ وہ گھروں کی مرمت اور کاروبار کی بحالی میں مصروف تھے۔ بدقسمتی سے وہ کہہ رہے کہ سیلاب پھر آئے گا۔‘ 

دوسری جانب مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق مال بردار بحری جہاز کے عملے کے 21 افراد کو بچانے کے لیے آپریشن جاری ہے۔ یہ بحری جہاز سڈنی کے جنوب میں خراب ہو گیا تھا اور اس کے بہہ کر ساحل پر آنے کا خطرہ تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا