ایلون مسک معاہدے سے دستبردار، ٹوئٹر کا قانونی کارروائی کا عندیہ

ایلون مسک نے ٹوئٹر پر 44 ارب ڈالر کے انضمام کے معاہدے کی متعدد دفعات کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے، جس پر سوشل میڈیا کمپنی کے چیئرمین نے قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔

دو مئی 2022 کو لی گئی اس تصویر میں ٹیسلا اور سپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نیویارک کے میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ میں 2022 میٹ گالا میں شرکت کے موقع پر (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ٹیسلا اور سپیس ایکس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور دنیا کے امیر ترین کاروباری شخص ایلون مسک نے کہا ہے کہ وہ ٹوئٹر خریدنے کے لیے اپنا 44 ارب ڈالر کا معاہدہ ختم کر رہے ہیں کیونکہ سوشل میڈیا کمپنی نے انضمام کے معاہدے کی متعدد دفعات کی خلاف ورزی کی تھی۔

جس کے بعد ٹوئٹر کے چیئرمین بریٹ ٹیلر نے مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم پر کہا کہ مسک کی جانب سے دستبرداری کے بعد بورڈ نے معاہدے کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے لکھا: ’ٹوئٹر بورڈ ایلون مسک کے ساتھ طے شدہ قیمت اور شرائط پر لین دین کو مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔‘

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کیس فائلنگ میں ایلون مسک کے وکلا نے دعویٰ کیا کہ ٹوئٹر جعلی یا سپیم اکاؤنٹس کے بارے میں معلومات کے لیے متعدد درخواستوں کا جواب دینے میں ناکام رہا یا انہوں نے اس بارے میں انکار کر دیا جو کمپنی کی کاروباری کارکردگی کو جانچنے کے لیے بنیادی پہلو ہے۔

مزید کہا گیا: ’ٹوئٹر اس معاہدے کی متعدد دفعات کی عملی خلاف ورزی میں ملوث ہے اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس نے معاہدے کی غلط اور گمراہ کن نمائندگی کی ہے جس پر مسک نے انضمام کے لیے اعتماد کیا تھا۔‘

ایلون مسک نے یہ بھی دعویٰ کہ وہ اس وجہ سے پیچھے ہٹ رہے ہیں کیونکہ ٹوئٹر نے اعلیٰ درجے کے ایگزیکٹوز اور ایک تہائی ٹیلنٹ ایکوزیشن ٹیم کو برطرف کر دیا جس سے ٹوئٹر کی اس ذمہ داری کی خلاف ورزی ہوتی ہے، جس کے تحت اس نے موجودہ کاروباری تنظیم کو کافی حد تک برقرار رکھنے کا عزم کیا تھا۔‘

قانونی جنگ

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایلون مسک کے دستبرداری کے فیصلے کے نتیجے میں ٹیسلا کے مالک اور سان فرانسسکو میں قائم 16 سال سے قائم کمپنی ٹوئٹر کے درمیان ایک طویل قانونی جنگ کا امکان ہے۔

متنازع انضمام اور ایکوزیشنز جو ڈیلاویئر کی عدالتوں میں پیش کیے گئے ہیں، اس کا اختتام اکثر کمپنیوں کے سودوں پر دوبارہ گفت و شنید کرنے یا معاہدے کو چھوڑنے کے لیے تصفیے کی رقم ادا کرنے سے نہیں ہوتا، بجائے اس کے کہ کوئی جج حکم دے کہ لین دین مکمل کیا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹارگٹ کمپنیاں اکثر اپنے مستقبل کی غیر یقینی صورت حال کو حل کرنے اور آگے بڑھنے کی خواہشمند ہوتی ہیں۔

اس معاملے سے واقف ایک شخص کے مطابق ٹوئٹر امید کر رہا ہے کہ عدالتی کارروائی چند ہفتوں میں شروع ہو جائے گی اور چند ماہ میں اس کا حل نکل آئے گا۔

یہ سب کیسے شروع ہوا؟

ٹوئٹر اور مسک کے درمیان رشتہ ایک مہنگی ڈیل کے ساتھ اس وقت شروع ہوا جب دنیا کے امیر ترین شخص نے تقریباً 2.9 ارب ڈالر کی لاگت سے ٹوئٹر کے 73.5 ملین شیئرز حاصل کیے۔

یہ خریداری، جس کا انکشاف چار اپریل 2022 کو ریگولیٹری فائلنگ میں ہوا اور مسک کو کمپنی میں 9.2 فیصد حصص ملا۔ اس کے بعد ٹوئٹر کے حصص کی قیمت میں اضافہ ہوا جس نے اس قیاس کو جنم دیا کہ مسک سوشل میڈیا کمپنی کے آپریشنز میں ایک فعال کردار کی تلاش میں ہیں۔

اس ڈیل نے مسک کو بورڈ میں ایک نشست بھی حاصل کرنے میں مدد کی۔

کمپنی کے سی ای او پیراگ اگروال نے ایک ٹویٹ میں اس پیشکش کا اعلان کیا اور مسک کو ’ایک پرجوش شخصیت اور اس شعبے کا بڑا نقاد‘ قرار دیا جس کی انہیں ’ضرورت‘ ہے۔

لیکن یہ ’ہنی مون‘ زیادہ دیر تک نہ چل سکا۔ اگروال نے 10 اپریل کو کہا کہ مسک نے بورڈ میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم مسک کا یہ اقدام ٹوئٹر کے سی ای او کے مطابق ’بہتری کے لیے‘ تھا۔

دوستانہ طریقے سے علیحدگی اختیار کرنے کے بجائے مسک نے کمپنی کے غالبانہ ٹیک اوور کے لیے بولی شروع کی، اس حوالے سے 13 اپریل کی فائلنگ سے ظاہر ہوا کہ 54.20 ڈالر فی شیئر کی پیشکش کی گئی تھی۔

یہ کہنے کے بعد کہ کمپنی اس پیشکش کا ’احتیاط سے جائزہ‘ لے گی، ٹوئٹر نے اس ’کڑوی گولی‘ کا دفاع کرنے کو ترجیح دی۔ یہ ایک ایسے منصوبے کا اعلان تھا جس سے شیئر ہولڈرز کو اضافی سٹاک خریدنے کی اجازت ملنی تھی۔

اس کے بعد کارپوریٹ کو ہلا دینے والا منصوبہ سامنے آیا، یعنی ٹوئٹر نے پانسہ پلٹ دیا اور 25 اپریل کو کہا کہ وہ 44 ارب ڈالر کے معاہدے کے تحت کمپنی ایلون مسک کو فروخت کر رہا ہے۔

لیکن یہ ڈیل چونکہ مہنگی ثابت ہو سکتی تھی، اس لیے ایلون مسک نے اس لاگت کو پورا کرنے کے لیے کارروائی کی اور الیکٹرک کار بنانے والی کمپنی ٹیسلا کے حصص میں 8.4 ارب ڈالر کے ساتھ حصہ لیا۔ مسک نے اپنی ذاتی دولت سے 21 ارب ڈالر تک کا وعدہ کیا اور باقی قرض کے ذریعے فنانس کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

مسک پہلے ہی یہ کہتے ہوئے دکھائی دیے کہ وہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سے پابندی اٹھا لیں گے۔

لیکن مسک نے جلد ہی پیچھے ہٹنے کے آثار دکھانا شروع کر دیے اور 13 مئی کو یہ کہہ کر سب کو حیران کر دیا کہ ٹوئٹر خریدنے کا معاہدہ ’عارضی طور پر ہولڈ پر ہے۔‘ کیونکہ اس  پلیٹ فارم پر سپیم اور جعلی اکاؤنٹس کی تفصیلات زیر التوا ہیں۔

جون کے اوائل میں سماجی گروپوں نے مسک کو خریداری سے روکنے کے لیے ایک مہم شروع کی جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ ’ڈیماگوگس اور انتہا پسندوں کو میگا فون دینے کی اجازت دے گا۔‘

مسک نے اس دوران ٹوئٹر پر جعلی اکاؤنٹس کا ڈیٹا فراہم کرنے میں ناکام ہونے کا الزام لگایا اور اپنی بولی واپس لینے کی دھمکی دی۔

جس کے بعد آٹھ جولائی کو یہ علیحدگی مکمل ہو گئی، جب ایلون مسک نے اس معاہدے کو منسوخ کر دیا اور ٹوئٹر پر جعلی اکاؤنٹس کی تعداد کے بارے میں ’گمراہ کن‘ بیانات دینے کا الزام لگایا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی