کشمیر کی خراب صورت حال پر اقوام متحدہ کی بھارت پر تنقید

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے کشمیر کی صورت حال میں بہتری میں ناکامی پر بھارت اور پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

(اے ایف پی)

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے پیر کو بھارت کے زیرانتظام کشمیر کی صورت حال میں بہتری میں ناکامی پر بھارت اور پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

کمیشن نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ متنازع علاقے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی عالمی سطح پر تحقیقات کرائی جائیں۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں کئی دہائیوں سے حالات خراب ہیں اور خونریزی میں ہزاروں افراد جان گنوا چکے ہیں جن میں سے زیادہ ترعام شہری ہیں۔

گذشتہ برس اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر نے کشمیر پر اپنی پہلی رپورٹ میں فریقین کے غلط اقدامات کی تفصیلات دی تھیں۔ رپورٹ میں پاکستان اور بھارت دونوں پر زور دیا گیا تھا کہ وہ طویل عرصے سے جاری کشیدگی میں کمی کے لیے اقدامات کریں۔

بعد میں جاری ہونے والی ایک اور رپورٹ میں اسی دفتر نے کہا کہ بھارت اور پاکستان میں سے کسی نے عالمی ادارے کی تشویش کے ازالے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کیے۔

رپورٹ میں مزیر کہا گیا کہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں سکیورٹی فورسز کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے احتساب کے لیے کچھ نہیں کیا گیا اورانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق تحقیقات کے 2018 میں پہلی بار منظر عام پر آنے والے نتائج بھارت کے معاملے میں خاص طور پر سخت تھے۔

ان نتائج کے مطابق بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سکیورٹی فورسز کو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان نے چھان بین کے ان نتائج کا خیر مقدم کیا تھا۔ اگرچہ اقوام متحدہ نے کہا تھا پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے بارے میں معلومات حاصل کرنا مشکل ہے۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر نے پیر کو کہا متنازعہ کشمیر میں بڑے مسائل کے حل کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی رپورٹ نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی عالمی سطح پر جامع اور آزادانہ تحقیقات شروع کرانے پر دوبارہ غور کرے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق آفس نے اپنی رپورٹ گذشتہ ماہ پاکستان اور بھارت کے حوالے کر دی تھی۔ نئی دہلی  نے رپورٹ کے نتائج کو گمراہ کن، مخصوص رجحان کے حامل اور سیاسی قرار دے کر مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے درخواست کی ہے یہ رپورٹ شائع نہ کی جائے۔

بھارت نے 2018 میں بھی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے ایسے ہی الفاظ استعمال کیے تھے جبکہ پاکستان نے ایک بار پھر اس رپورٹ کا خیرمقدم کیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان