امریکہ’بےوقوف‘ برطانوی سفیر کے ساتھ مزید کام نہیں کرے گا: ٹرمپ

صدر ٹرمپ نے برطانوی حکومت اور امریکہ میں برطانیہ کے سفیر کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

امریکی صدر نے  کہا کہ برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے جس انداز میں بریگزٹ کا معاملہ نمٹایا وہ اس کے سخت ناقد ہیں (اے ایف پی)

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی حکومت اور امریکہ میں برطانیہ کے سفیر کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے یہ تنقید اس سفارتی خط کے منظر عام پر آنے کے ایک دن بعد کی ہے جس میں برطانوی سفیر نے ٹرمپ انتظامیہ کو ’ناکارہ اور نااہل‘ قرار دیا تھا۔ جواب میں صدر ٹرمپ نے سفیر کو ’بےوقوف‘ کہا ہے۔

ٹرمپ نے ٹوئٹر پر اپنی تنقید میں ایسے الفاظ استعمال کیے جو کسی صدر کے منصب کے شایان شان نہیں۔

صدر ٹرمپ کے پاس اکثر سفارتی باریکیوں کے لیے وقت نہیں ہوتا۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا امریکہ برطانوی سفیر سر کم ڈیروک کے ساتھ مزید کام نہیں کرے گا۔

سر کم ڈیروک جنوری 2016 سے واشنگٹن میں برطانوی سفیر ہیں۔ ایک اور اطلاع کے مطابق برطانوی سفیر کو امریکہ میں ایک سرکاری تقریب میں شرکت کے لیے دی گئی دعوت واپس لے لی گئی ہے۔

امریکی صدر نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے جس انداز میں بریگزٹ کا معاملہ نمٹایا وہ اس کے سخت ناقد ہیں۔ ان کا کہنا تھا ٹریزا مے اور ان کے نمائندوں نے کیسے حالات پیدا کر دیے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق، انہوں نے ٹریزا مے کو مشورہ دیا تھا کہ وہ بریگزٹ کے مسئلے سے کس طرح نمٹیں لیکن انہوں نے دوسرا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔

امریکی صدر نے کہا کہ وہ برطانوی سفیر کو نہیں جانتے لیکن انہیں امریکہ میں پسند نہیں کیا جاتا اورنہ ان کے بارے میں رائے اچھی ہے۔’خیر برطانیہ کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ وہاں جلد ہی ایک نیا وزیراعظم ہوگا۔‘

انہوں نے کہا کہ ان کا گذشتہ ماہ دورہِ برطانیہ بہت اعلیٰ تھا جس کا انہوں نے لطف اٹھایا اورملکہ سے بے حد متاثر ہوئے۔

امریکہ کے ساتھ طویل عرصے سے ’خصوصی تعلقات‘ رکھنے والا برطانیہ اب شش پنج میں ہے کہ سفیر سر کم ڈیروک کی لیک ہو جانے والی میل سے پیدا ہونے والے تنازعے کا کس طرح جواب دیا جائے؟

برطانوی اخبار ’ دی میل ‘ نے امریکہ میں ڈیروک کی وہ سفارتی ای میل شائع کر دی تھی جو انہوں نے لندن میں وزارت خارجہ اور دولت مشترکہ دفتر کو بھیجی۔

امریکہ میں برطانوی سفیر کی ایک ای میل جنوری 2017 میں ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد لکھی گئی تھی جس میں انہوں نے لکھا تھا ’ہم نہیں سمجھتے کہ ٹرمپ انتظامیہ آنے والے وقت میں نمایاں طور پر معمول پر آ جائے گی، یعنی اس کی کارکردگی بہتر ہو جائے گی۔ اس کے بارے میں پیش گوئی آسان ہو گی، دھڑے بندی کم ہو گی، سفارتی سطح پر اس کا اناڑی پن کم اوراہلیت میں اضافہ ہو گا۔

برطانوی سفیر کی ان کیبلز کی، جن کے بارے میں برطانوی دفترخارجہ نے تصدیق ہے کہ وہ اصلی ہیں، اخبار میں اشاعت برطانوی حکومت کے لیے دردِ سر بن گئی ہے۔

وزیراعظم ٹریزا مے نے کہا ہے کہ انہیں برطانوی سفیر پر پورا بھروسہ ہے۔ ’امریکی انتظامیہ کے بارے میں دیانت درانہ اور بے لاگ رائے دینا برطانوی سفیر کی ذمہ داری تھی تاہم ضروری نہیں کہ وہ ان سب باتوں سے اتفاق کریں جو سفیر نے ای میل میں لکھیں۔‘

برطانیہ کے بین الاقوامی تجارت کے وزیر لیام فوکس نے، جو امریکہ میں ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا سے ملاقات کر رہے ہیں، کہا کہ ہماری سول سروس کے رکن یا برطانوی سیاسی کلاس کے عناصر نے جو رویہ اختیار کیا وہ اس پر معذرت کریں گے کیونکہ وہ اپنے رویے کے معاملے میں ہماری اور امریکہ کی توقعات پر پورے نہیں اترے۔

برطانوی وزیراعظم ہاؤس کے ترجمان نے صدر ٹرمپ کے ٹویٹر پیغامات کے جواب میں کہا کہ امریکہ میں برطانوی سفیر کو وزیراعظم کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا ’ہم نے امریکہ پر واضح کردیا ہے کہ ای میل کا افشا ہونا کتنی بدقسمتی ہے۔ تاہم ای میل کے افشا ہونے والے مخصوص حصوں سے برطانیہ کی امریکہ کے ساتھ قربت اور تعلقات کے احترام کی عکاسی نہیں ہوتی‘۔

وزیراعظم ہاؤس کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ساتھ ہی ہم نے اس امر کی اہمیت بھی واضح کر دی ہے کہ سفیر اپنی تعیناتی والے ممالک کی سیاست کے بارے میں دیانت دارانہ اور بے لاگ تجزیہ فراہم کرتے ہیں۔

ترجمان کے مطابق برطانیہ کے امریکہ کے ساتھ خصوصی اور پائیدار تعلقات قائم ہیں جن کی بنیاد ہماری طویل تاریخ اور مشترکہ اقدار کی پاسداری کے عزم پر ہے اور یہ صورت حال مستقبل میں بھی برقرار رہے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

برطانیہ کسی دوسرے ملک کے مقابلے میں امریکہ میں عموما سینیئر سفارت کار کو تعینات کرتا ہے۔

پیر کو بلوم برگ نیوز نے خبر دی تھی کہ برطانوی سفیر کو امریکی وزیر خزانہ سٹیون منچن کے عشائیے میں شرکت کی دعوت واپس لے لی گئی ہے۔ پیر کو دیے گئے اس عشائیے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امیر قطرنے شرکت کی۔

امریکہ میں برطانوی سفیر کی تبدیلی کا فیصلہ موجودہ وزیراعظم ٹریزا مے کی جانب سے ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ 22 جولائی کو برطانوی ٹوری پارٹی نیا قائد منتخب کرے گی جو ٹریزا مے کی جگہ برطانیہ کا نیا وزیراعظم ہوگا۔

ایک سروے کے مطابق وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں لندن کے سابق میئر بورس جانسن موجودہ وزیرخارجہ جیریمی ہنٹ سے کچھ آگے ہیں۔

امریکی صدر کہہ چکے ہیں کہ وہ بورس جانسن کو پسند کرتے ہیں اور انہیں امید ہے کہ وہ اچھے وزیراعظم ثابت ہوں گے۔ امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ بریگزٹ پارٹی کے رہنما نائیجل فراگ امریکہ میں برطانیہ کے سفیر ہو سکتے ہیں۔

فراگ ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے امریکہ میں برطانیہ کے موجودہ سفیر سر کم ڈیروک کی برطرفی پر زور دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد کم ڈیروک کا امریکہ میں برطانیہ سفیر ہونا غلط ہے کیونکہ وہ آفاقی نظریئے کے مالک ہیں جو ڈونلڈ ٹرمپ کے فلسفے کے بالکل خلاف ہے۔  

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ