بے لگام ڈالر اور بے رکاب انتظامیہ

معیشت پہ ہماری گرفت ایسی کمزور پڑ چکی ہے اور اتنی بے رکاب ہو چکی ہے کہ کچھ عرصہ پہلے تک ایشین ٹائیگر کہلوانے کے شوقین اب اس بات پہ مطمئن ہیں کہ شکر ہے ہم سری لنکا کی طرح دیوالیہ نہیں ہوئے۔

ایک غیر ملکی کرنسی ڈیلر 19 جولائی 2022 کو کراچی کی ایک کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے نوٹ گن رہا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

یہ تحریر آپ کالم نگار کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں:


پاکستان میں روپے کی صحت میں پچھلے ایک ہفتے کے دوران کچھ بہتری آئی ہے اور اب 224 روپے کے عوض ہم ایک امریکی ڈالر کا دیدار کر سکتے ہیں۔

اس بہتری میں مزید اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔ قرائن بتاتے ہیں کہ مستقبل قریب میں ایک ڈالر کے مقابلے میں 190 پاکستانی روپے کے آس پاس یہ مقابلہ سیٹ ہو سکتا ہے۔ ڈالر کی بے قابو پرواز کے بعد موافق ہوائیں میسر آنے کو ’تکنیکی اصلاح‘ بھی کہا جا رہا ہے (’ٹیکنیکل کریکشن‘ کا اس سے بہتر ترجمہ میرے علم میں نہیں)۔

لیکن جس طرح پچھلے چھ ماہ میں ڈالر کی قیمت میں بے لگام اضافہ ہوا ہے، اسے معاشی ماہرین ’پراسرار‘ قرار دے رہے ہیں۔ اگرچہ ڈالر کی نئی ارزاں قیمت کو ملک کے اندر خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے لیکن اس اچانک کمی کی وجوہات بھی اس کی بےلگام دوڑ کی طرح کچھ زیادہ واضح نہیں۔

ماضی میں روپے پر دباؤ کی صورت میں سٹیٹ بینک اس کے ازالے کے لیے مداخلت کرتا رہا ہے جس میں منی چینجرز کے لیے اصول و ضوابط میں سختی کے علاوہ بینکوں کے سربراہوں کو مجوزہ ہدایات جیسے اقدامات شامل ہیں۔ کبھی کبھی اپنے ذخائر میں اضافے کے لیے سٹیٹ بینک زیادہ شرح سود پر قرضہ بھی لیتا رہا ہے، لیکن اس بار تو جیسے روپے کو بے یارو مددگار ایسی کھلی مارکیٹ میں چھوڑ دیا گیا ہے جہاں ’نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں۔‘

اوپن مارکیٹ اکانومی کی اصطلاح اپنی جگہ لیکن دنیا کی کوئی معیشت بھی ایسی مادر پدر آزاد نہیں ہوتی کہ ڈوبتے ہوئے اپنے بچاؤ کے لیے ہاتھ پاؤں نہ مارے۔

ایک ہفتہ پہلے تک پاکستانی روپے کی صحت روز بروز بلکہ گھنٹہ بہ گھنٹہ گرتی جا رہی تھی اور اس زوالِ مستقل کو کئی ماہ ہو چکے تھے۔ کسی بھی طبیب کی توجہ حاصل نہ ہونے سے اس غریب کرنسی کی حالت پتلی سے پتلی ہوتی جا رہی تھی۔

ایک ڈالر کے تھرمامیٹر سے چیک کریں تو بخار 245 ڈگری تک جا پہنچا تھا۔ مرکزی حکومت کے ہسپتال میں سٹیٹ بینک کے طبیب میسر ہی نہیں تھے کیونکہ وہ اپنی ذمہ داری کی دکان سابق گورنر رضا باقر کے آشیر واد سے کب کی بڑھا گئے اوراب مکمل خود مختاری سے لطف اندوز ہوتے ہوئے نیوٹرل ہو چکے ہیں۔

اتنے نیوٹرل کہ اپنے پرانے آلاتِ جراحی کو کسی مضبوط لاکر میں رکھ کر چابی شاید دریا میں پھینک چکے ہیں۔ اس سے کوئی اور خوش ہو نہ ہو منی چینجرز بہت خوش ہیں کہ روک ٹوک کسی طرف سے کوئی نہیں۔ ڈالر پاکستان میں اپنی قدر پہ نہال تو ہے لیکن اونچائی کی کوئی حد مقرر نہیں، سو افغانستان کی سرحد کے پار زیادہ قیمت ملنے کی ہواؤں میں اڑتا جا رہا ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ کابل میں ڈالر کے خریداروں میں بھارت بھی شامل ہے۔ وجہ بتانے کی میرے خیال میں یہاں ضرورت نہیں۔

پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان میں عام لوگوں کے لیے غیر ملکی کرنسی کا حصول جس میں زیادہ تر امریکی ڈالر، برطانوی پاؤنڈ اور یوروپین یورو شامل ہیں، خاصا مشکل بنا ہوا ہے۔ آپ کے پاس ویزا اور ٹکٹ ہے تو ایک حد تک کرنسی حاصل ہو سکتی ہے۔ پھر سوال یہ ہے کہ وہ کون سا نیٹ ورک ہے جو بے شمار ڈالرز مسلمان ہمسایہ ملک سمگل کر رہا ہے؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کیا کہا؟ اس کی روک تھام کے لیے وفاقی حکومت نے کیا کردار ادا کیا ہے؟ سوال تو اپنی جگہ اہم ہے کہ فیڈرل گورنمنٹ کی بڑی ذمہ داریوں میں مالی استحکام سرفہرست ہے لیکن موجودہ حکومت کو ورثے میں پچھلی حکومت سے جو معاہدے ملے ان میں آئی ایم ایف سے کیا گیا سبسڈی ختم کرنے اور پیٹرول کی قیمت بڑھانے کے وعدے کے ساتھ ساتھ سٹیٹ بینک کی مکمل خود مختاری کا فیصلہ بھی شامل ہے۔

اب شہباز شریف کی قومی حکومت، رضا باقر کے فیصلے کو بدلنے سے تو رہی جو سابق وزیراعظم عمران خان کے مالی امور کے دستِ راست اور پاکستان کے معاشی فیصلوں میں زیادہ تر حکومتوں کے معاون محترم شوکت ترین کے ذریعے تسلیم کیا گیا تھا۔

رضا باقر پاکستان میں اپنا کام نمٹا کر کسی اگلے مشن پہ روانہ بھی ہو چکے ہیں اور یقیناً کسی ہمارے جیسے ملک کی مدد کر رہے ہوں گے جیسا کہ وہ پاکستان آنے سے پہلے ہمارے ملک جیسی بہت سی کمزور معیشتوں کو ’بین الاقوامی صراطِ مستقیم‘ پہ ڈالنے کا کام کرتے رہے ہیں۔ اب یہ تذکرہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ ابھی تک پاکستان سٹیٹ بینک جیسے اہم ادارے کا نیا سربراہ مقرر نہیں ہو سکا۔

اگرچہ وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت سنبھالتے ہی مہنگی اور پرتعیش اشیا کی درآمد پر پابندی کا اعلان کیا اور اس سلسلے میں ایک لمبی لسٹ بھی سامنے لائی گئی تھی لیکن پھر امپورٹرز اور بعض بڑی طاقتوں والے ممالک کے دباؤ میں آ کر لسٹ محدود ہوتی چلی گئی۔

ریکارڈ کی درستی کے لیے روپے کی بے قدری کا آغاز انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ سے فروری میں کیے گئے دستاویزی معاہدے کی خلاف ورزی سے منسلک ہے۔ یہ صف اول کے معاشی ماہرین کا تجزیہ ہے کہ اس خلاف ورزی کے نتیجے میں فوری طور پہ ممکنہ 90 کروڑ ڈالر قسط کی ادائیگی رک گئی، جس سے روپے پر دباؤ بڑھنا شروع ہوا۔

موجودہ حکومت کی فوری کوششوں کے باوجود سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر دوست ممالک نے مالی مدد کی فراہمی کو آئی ایم ایف کی رضا مندی سے مشروط کر دیا۔ اب رخشِ معیشت پہ اچانک سوار ہونے والی نئی حکومت کو پتہ ہی نہیں چلا کہ کاٹھی تو پچھلا سوار اتار لے گیا ہے۔

سٹیٹ بینک کی نیوٹرل پالیسی اور حکومت کی بےرکاب سواری نے ڈالر اور روپے کے گھوڑے کو بے لگام نہ چھوڑا ہوتا تو حالت اس مقام تک نہ پہنچتی۔ آج منی چینجرز کے ترجمان فرما رہے ہیں کہ ڈالر کے خریدار نایاب اور فروخت کرنے والے لا تعداد ہیں۔ خرید و فروخت کے اس گورکھ دھندے میں نفع نقصان والے ہاتھ ڈھونڈتے رہیے، اگر آپ کے پاس فالتو وقت اور زائد ہمت ہے تو۔

کون نہیں جانتا کہ ملکی کرنسی کی قیمت معیشت کی حالت اور مخصوص فیکٹرز یا اشاریوں سے طے ہوتی ہے۔ پاکستان میں موجودہ صورت حال یوں ہے کہ ایکسپورٹ بڑھانے، امپورٹ بل کم کرنے، ٹیکسوں میں اضافے کی کوششیں کرنے اور پیداوار میں اضافے کی جگہ ہم سارا زور اس بات پر دیتے ہیں کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے قرض اور مزید قرض لیتے چلے جائیں یا دوست ممالک سے مالی مدد یا ڈیفر پیمنٹ کروا لیں۔ روپے کی قدر بہتر کرنے کے لیے ہمارے ذہن میں غیر ملکی امداد، قرض یا زیادہ سے زیادہ بیرون ممالک پاکستانیوں کے بھیجے ہوے ڈالرز سے زیادہ کیا منصوبہ ہے؟

بے لگام رخش معیشت پہ ہماری گرفت ایسی کمزور پڑ چکی ہے اور اتنی بے رکاب ہو چکی ہے کہ کچھ عرصہ پہلے تک ایشین ٹائیگر کہلوانے کے شوقین اب اس بات پہ مطمئن ہیں کہ شکر ہے ہم سری لنکا کی طرح دیوالیہ نہیں ہوئے۔

آخر میں اس شعر سے استفادہ کرنے کے لیے غالب کا شکریہ

رو میں ہے رخشِ عمر، کہاں دیکھیے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ