کیا ڈالر کی قیمت بڑھانے میں بینک ملوث ہیں؟

ڈالر کی قیمت روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کیوں بڑھ رہی ہے اور اس کا اصل ذمہ دار کون ہے؟

19 جولائی 2022 کی اس تصویر میں ایک کرنسی ڈیلر کراچی میں امریکی ڈالر کے نوٹ گن رہا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

پاکستان میں ڈالر کی قیمت روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ڈالر بڑھ کیوں رہا ہے۔ ایسا کیا معاملہ ہو گیا ہے کہ ڈالر قابو میں نہیں آ رہا؟

منی ایکسچینجرز بینکوں کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ بینک امپورٹرز کو الزام دے رہے ہیں۔ امپورٹر سٹیٹ بینک کو ذمہ دار ٹہرا رہے ہیں۔ سٹیٹ بینک کے ذرائع سارا الزام آئی ایم ایف پر ڈال رہے ہیں اور عالمی مالیاتی ادارے سیاسی عدم استحکام اور ڈالر سمگلنگ کو ڈالر کی قیمت بڑھنے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اصل ذمہ دار کون ہے؟

حقائق جاننے کے لیے جب میں نے ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جزل سیکرٹری ظفر پراچہ صاحب سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ ’منی ایکسچینجرز کے پاس اتنے ڈالرز نہیں ہوتے کہ وہ ڈالر کی قیمت پر اثر انداز ہو سکیں۔ ڈالرز کے زیادہ ذخائر نجی بینکوں کے پاس ہیں اور ان کے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ ڈالرز کی خریدوفروخت سے مارکیٹ میں ڈالر ریٹ کو اچھا خاصا متاثر کر سکتے ہیں۔

’وہ درآمد کنندگان کو بتا رہے ہیں کہ مستقبل میں ڈالر مزید بڑھے گا لہذا آج کی تاریخ میں ڈالر کی زیادہ خریداری کر لی جائے۔ ان ٹرانزیکشنز پر وہ نو سے 10 روپے فی ڈالر منافع کما رہے ہیں۔ اپنے منافعے کے لیے ملکی معیشت کو داؤ پر لگایا جا رہا ہے۔ سٹیٹ بینک کو اس معاملے میں مداخلت کرنے کی ضرورت ہے۔‘

بینکوں کا موقف جاننے کے لیے نجی بینک کے سینیئر نائب صدر بابر علی پیرزادہ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ’ڈالر کا ریٹ بڑھنے میں بینکوں کا کردار نہیں ہے۔ بینکوں کے پاس جو ڈالرز ہیں وہ ان کی ملکیت نہیں ہیں بلکہ کسٹمرز ان کے اصل مالک ہیں۔ کسٹمرز کی مرضی کے بغیر بینک ایک ڈالر بھی آگے پیچھے نہیں کر سکتا۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’جہاں تک بات ہے ڈالر ٹرانزیکشنز پر زیادہ منافع کمانے کی تو اس دعوے میں بھی سچائی نہیں ہے۔ بینک جس دن ٹرانزیکشن بُک کرتا ہے اسے مکمل ہونے میں دو دن درکار ہوتے ہیں۔ ٹرانزیکشن دو دن بعد کے ریٹ پر مکمل ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر آج ڈالر 142 روپے کا ہے اور ٹرانزیکشن بروز پیر مکمل ہوتی ہے تو موجودہ حالات میں یہ عین ممکن ہے کہ بروز پیر ڈالر کی قیمت 146 روپے تک بڑھ جائے۔ اس لیے بینک موجودہ صورت حال میں دو دن بعد کے ممکنہ ریٹ پر ٹرانزیکشن کرتا ہے اور بعض اوقات بینکوں کو جیب سے پیسہ لگانا پڑ جاتا ہے۔‘

بقول بابر علی پیرزادہ: ’موجودہ حالات میں بینک ڈالرز پر منافع نہیں کما رہے بلکہ وہ خود ان حالات کی وجہ سے عدم استحکام کا شکار ہیں۔اصل قصور وار درآمدکندگان ہیں۔ وہ مستقبل میں ڈالرز بڑھنے کے خدشے کے پیش نظر ایک سال کے درآمدات کے آرڈرز ایک ہی دن میں بُک کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے مارکیٹ میں ڈالر کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ کچھ درآمدکندگان ڈالرز خرید کر رکھ رہے ہیں تا کہ مستقبل میں جب ٹرانزیکشنز کرنا پڑیں تو مہنگے ڈالرز خریدنے سے بچا جا سکے۔‘

اب جب بات درآمد کندگان پر آئی تو ان کا  موقف جاننے کے لیے میں نے پاکستان کے سب سے بڑے میل گارمنٹس برانڈ کے مالک ذین شاہنواز سے رابطہ کیا، جن کا کہنا تھا کہ ’ہمارا کچھ خام مال پاکستان میں میسر ہے اور کچھ خام مال درآمد کرنا پڑتا ہے۔ موجودہ حالات کے پیش نظر ہماری مشکلات بھی بڑھ گئی ہیں۔ اس وقت صورت حال یہ ہے  کہ کپڑا درآمد کرنے کے لیے نئی ایل سی نہیں کھولی جا رہی اور جو ایل سی پہلے کھلوائی جا چکی ہیں اس کے تحت بھی درآمدات میں مشکلات کا سامنا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا: ’بینک اپنا ریٹ بڑھانے کے لیے عدم تعاون کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ ٹرانزیکشنز کو لائن میں لگا دیا گیا ہے۔ جو ٹرانزیکشن ایک دن میں مکمل ہو جاتی تھی اب اسے مکمل ہونے میں کئی ہفتے درکار ہیں۔ درآمد کندگان ڈالرز ملک سے باہر نہیں بھیج رہے بلکہ جب ڈالر کی قیمت 189 روپے تھی تب درآمدات آج کی نسبت دو گنا زیادہ تھیں اور ڈالر ریٹ مستحکم تھا۔ اب خام مال کی درآمدات میں واضح کمی ہو چکی ہے تو ڈالر کی قیمت کم ہونی چاہیے۔‘

ذین شاہنواز کے مطابق: ’قانونی طریقے سے ڈالر باہر بھیجنے میں کئی مشکلات درپیش ہیں۔ حکومت نے کئی رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔ حکومت کی جانب سے درآمدات پر پابندیاں لگانے کے باوجود اگر ڈالر بڑھ رہا ہے تو درآمدکندگان کی بجائے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے، کیونکہ انٹربینک ریٹ سٹیٹ بینک کی مرضی کے بغیر نہیں بڑھایا جا سکتا۔ اگر سٹیٹ بینک مداخلت کرے تو ڈالر ریٹ کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔‘

اس حوالے سے جاننے کے لیے جب سٹیٹ بینک آف پاکستان سے رابطہ کیا گیا تو ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’ڈالر ریٹ بڑھنے کی وجہ آئی ایم ایف کا دباؤ ہے۔ حکومت پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے میں ہے کہ روپے کی قدر کو مزید کم کیا جائے۔ ممکنہ طور پر آئی ائم ایف پروگرام حاصل کرنے کے لیے آنے والے دنوں میں روپے کی قدر کو مزید گرایا جا سکتا ہے۔‘

اس حوالے سے بین الاقوامی اداروں کا موقف مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور ڈالر کی سمگلنگ کی وجہ سے ملک میں ڈالر کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔

ڈالر سمگلنگ کے حوالے سے ظفر پراچہ نے بتایا کہ ’اطلاعات ہیں کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را پاکستان میں ڈالرز خرید کر افغانستان سمگل کر رہی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان ایک چھوٹی سے مارکیٹ ہے جس کی معیشت کو کوئی بھی بڑا سرمایہ دار ملک آسانی سے متاثر کر سکتا ہے۔ بھارت کے لیے پاکستان میں چند ارب ڈالر پھینک کر معاشی عدم استحکام پیدا کرنا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔‘

بقول ظفر پراچہ: ’منی ایکسچینجرز پچھلے کچھ دنوں سے اوپن مارکیٹ سے ڈالر خرید کر سٹیٹ بینک کو جمع کروا رہے تھے تاکہ کچھ سہارا مل سکے۔ ایسا لگتا ہے کہ دشمنوں کو اس کا پتہ چل گیا ہے اور اب وہ گرے مارکیٹ میں ڈالر 155 روپے کا خرید رہے ہیں، جس سے منی ایکسچینجرز بھی بے بس ہو گئے ہیں۔ ڈالر کو اوپن مارکیٹ کے مطابق رکھنے کا فیصلہ آج گلے پڑ گیا ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’میں نے اس وقت بھی اس فیصلے کی مخالفت کی تھی۔ دنیا کا کوئی ملک ڈالر کو اوپن رکھ کر کامیاب معیشت نہیں چلا سکتا۔ بھارت جیسی دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بھی ڈالر کو کنٹرول کرتی ہے۔ دبئی، سعودی عرب جیسے امیر ممالک میں بھی ڈالر کا ریٹ فکسڈ ہے۔ پاکستان میں بھی اسے ایک سطح پر رکھے جانے کی ضرورت ہے۔‘

مزید جاننے کے لیے جب میں نے لاہور چیمبر آف کامرس انڈسٹریز (پروگریسو گروپ) کے صدر خالد عثمان سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ ’ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ملک کو جان بوجھ کر بند گلی میں دھکیلا جا رہا ہے۔ ڈالر ریٹ روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہا ہے لیکن وزیر خزانہ اور قائم مقام گورنر سٹیٹ بینک انتہائی مطمئن دکھائی دے رہے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خالد عثمان کے مطابق: ’حکومت کے پاس چیئرمین نیب کی تعیناتی کا وقت ہے لیکن مستقل گورنر سٹیٹ بینک لگانے کا وقت نہیں ہے، جو کہ حکومتی بدنیتی کی طرف واضح اشارہ ہے۔ ملک کے بڑے برآمد کنندگان کو ڈالرز ملک میں لانے سے روکا جا رہا ہے۔ ڈالرز کا ملک سے باہر جانے سے روکنا کسی حد تک لاجیکل ہے لیکن ڈالر کو ملک میں آنے سے روکنا ممکنہ طور پر ملک کو معاشی عدم استحکام کی طرف لے جانے کی کوشش دکھائی دیتی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’اس کے علاوہ عوام کے پاس بلیک منی کا بڑا ذخیرہ موجود ہے، جو کہ ڈالرز کی خریداری میں استعمال ہو رہا ہے۔ پاکستانی روپے کی قدر ختم ہو چکی ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جس طرح افغانستان میں افغان کرنسی کی بجائے ڈالر ذیادہ استعمال ہوتے ہیں، اسی طرح آج کل پاکستان میں ڈالرز کی خریدو فروخت زیادہ ہو رہی ہے۔ اگر حالات بدستور اسی طرح چلتے رہے تو پاکستان اور افغانستان میں زیادہ فرق نہیں رہے گا۔‘

خالد عثمان کے خیال میں: ’ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا بھی منصوبہ بندی کے تحت ہے۔ موجودہ معاشی بحران میں وفاق میں کمزور ترین حکومت کا قیام بلاوجہ نہیں ہے۔ ذہن نشین رکھیے کہ کمزور وفاقی حکومت پر اندرونی اور بیرونی سرمایہ کار اعتماد نہیں کر سکتے۔ ملک کے اصل حکمران اور سیاست دان یہ سب جانتے ہیں۔ اقتدار کی لالچ میں آئین شکن، چور ، ڈاکو، لٹیروں کے نعرے تو لگا رہے ہیں لیکن معاشی صورت حال پر کوئی بات نہیں کی جا رہی، جو کہ ملک میں ڈالر کا ریٹ بڑھنے، اس کی قلت پیدا ہونے اور سمگل ہونے کی بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔ ‘

متعلقہ سٹیک ہولڈرز کی آرا کے پیش نظر یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ پاکستان میں ڈالر کی قیمت بڑھنا بلاوجہ نہیں ہے۔ اس کے پیچھے کوئی منصوبہ بندی دکھائی دیتی ہے۔

ڈالر بحران پیدا کرنے میں بینک یا کسی ایک سٹیک ہولڈر کا ہاتھ نہیں ہے بلکہ سب اپنی استطاعت کے مطابق اس گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔ مال غنیمت سمجھ کر ملک کو لوٹا جا رہا ہے، لیکن اگر سب سے زیادہ ذمہ داری کسی پر عائد کی جا سکتی ہے تو وہ آئی ایم ایف اور سٹیٹ بینک آف پاکستان ہیں، کیونکہ ان کی منشا کے بغیر ڈالر کا بڑھنا ناممکن ہے۔

جہاں تک بات ہے مقتدر حلقوں کی مجرمانہ خاموشی کی تو سیاست دان شاید اس لیے خاموش ہیں کہ ان کے زیادہ سٹیکس ملک سے باہر ہیں۔ اکثر سرکاری ملازمین اور سیاست دانوں کے بچے اور جائیدادیں بیرون ممالک میں ہیں اور بہت سے حکومتی مشیران اور وزرا کے پاس دوہری شہریت بھی ہے۔ ڈالرز کی قیمت بڑھنے سے ان کے اثاثوں میں اضافہ ہونے کے امکانات ذیادہ ہیں۔ شاید وہ اس مالی بحران کے زیادہ بڑے بینیفشری ہیں۔ اگر ملک دیوالیہ ہو گیا تو وہ اگلی فلائٹ پکڑ کر بیرون ملک چلے جائیں گے۔ اصل مسائل تو ان لوگوں کے لیے ہیں جن کا جینا اور مرنا پاکستان کے ساتھ ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت