پاکستان: کیا ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی سے مہنگائی بھی کم ہو گی؟

گذشتہ تین ماہ سے ڈالر کی قیمت مسلسل گر رہی ہے اور پاکستانی روپیہ مستحکم ہو رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ گراوٹ عارضی ہے اور اس کے کیا دیرپا اثرات ہوں گے؟

پاکستان میں بڑھتی مہنگائی کا تعلق ڈالر کی قیمت میں اضافے سے رہا ہے (اے ایف پی)

دو برس سے ڈالر کی اڑان جاری تھی اور پاکستانی روپیہ مسلسل تنزلی کا شکار تھا۔ گذشتہ برس نومبر میں ڈالر 154 روپے کا تھا جبکہ رواں برس جب کرونا (کورونا) وائرس سے عالمی سطح کے لاک ڈاؤن کے اثرات کے باعث عالمی منڈی بھی متاثر ہوئی تو ڈالر بلند ترین سطح 168.43 پر پہنچ گیا۔

تاہم گذشتہ تین ماہ سے ڈالر کی قیمت مسلسل گر رہی ہے اور پاکستانی روپیہ مستحکم ہو رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ گراوٹ عارضی ہے یا دیر پا؟

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے قرضوں کے باعث اس وقت معاشی ماہرین نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف نے بھی پاکستان سے ڈالر کی قیمت بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے اور 2020 کے اختتام تک ڈالر دو سو تک پہنچ جائے گا لیکن یہ ساری پیشگوئیاں غلط ثابت ہو گئیں۔ ڈالر رواں ماہ 158.6 روپے کے برابر ہے اور سات ماہ پہلے مارچ میں بھی ڈالر 158.6 روپے کا تھا۔

پاکستان میں بڑھتی مہنگائی کا تعلق ڈالر کی قیمت میں اضافے سے رہا ہے لیکن اب جب ڈالر گراوٹ کا شکار ہے تو کیا مہنگائی کی شرح کم ہونے کی توقع ہے؟

ماہر معیشت مزمل اسلم نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فوری طور پر مہنگائی کم نہیں ہو گی کیونکہ پاکستان میں درآمدی اشیا دو سے تین ماہ میں پہنچتی ہیں اس لیے جو سامان ابھی مارکیٹ میں موجود ہے وہ ڈالر کی اگست، ستمبر کی قیمت پر خریدا گیا ہو گا تو ایسا ممکن نہیں کہ آج ڈالر سستا ہوا تو آج ہی مارکیٹ میں اشیا سستی ملنا شروع ہو جائیں۔

انہوں نے کہا کہ جو خرید آج کی ڈالر کی قیمت پر ہو گی وہ کچھ ماہ بعد مارکیٹ میں سستی میسر ہو گی۔ ان میں روزانہ کی ضروریات زندگی کی اشیا سے لے کر گاڑیوں کے سپئر پارٹز بھی شامل ہیں۔

یاد رہے ڈالر کی قدر میں اضافے سے گاڑیوں کی قیمت میں کافی حد تک اضافہ ہوا تھا جس کی وجہ سے گاڑی خریدنا عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو چکا ہے۔

گاڑیوں کی صنعت سے منسلک محمد قیصر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’فوری طور پر ایسا ممکن نہیں ہے کہ گاڑیاں سستی ہوں کیونکہ ٹیکسز تو بھاری ہی رہیں گے۔ اگر صارف براہ راست خود باہر سے کوئی پارٹ منگوانا چاہتا ہے تو پھر اس کو تھوڑا فائدہ ہو سکتا ہے لیکن اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔‘

 


ڈالر کی قیمت کم ہونے کی وجوہات کیا ہیں؟ کیا یہ دیر پا وجوہات ہیں یا عارضی ثابت ہوں گی؟

اس حوالے سے معاشی امور پر نظر رکھنے والے صحافی شکیل احمد کا کہنا تھا کہ اس سال کچھ مثبت چیزیں ہوئی ہیں جس کی وجہ سے ڈالر کی قدر کم ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے چھ ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہے، ملک میں اس وقت ڈالر زیادہ میسر ہے، ڈالر ملک میں زیادہ آ رہا ہے اور ملک سے باہر کم جا رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا کہ بیرون ملک پاکستانی ماہانہ دو ارب ڈالر بینکوں کے ذریعے پاکستان بھیج رہے ہیں جس کی وجہ سے روپیہ مستحکم ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ پارلیمان سے پاس ہونے والا ایف اے ٹی ایف منی لانڈرنگ بل کے تحت جو ڈالر غیر قانونی طریقوں سے ملک سے باہر جا رہا تھا اس پر قابو پایا گیا ہے اور اب قانونی طور پر بینکوں کے ذریعے باہر جا رہا ہے۔

شکیل احمد نے کہا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے بین الاقوامی آمدورفت اتنی نہیں رہی۔ پہلے لوگ خود سفر کرتے تھے اور ساتھ ڈالر لے جاتے تھے لیکن اب سفر نہ ہونے کی وجہ سے انہیں بینک کا آپشن استعمال کرنا پڑ رہا ہے۔ جس کی وجہ سے نظام ریگولیٹ ہو رہا ہے اور یہ روپیہ مستحکم ہونے کا سبب بن رہا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ موجودہ ڈیٹا کے مطابق پاکستان کے ریزروز اس وقت 19.4 ارب ڈالر ہیں، اگر سعودی عرب اپنے دو ارب ڈالر واپس بھی لیتا ہے تو حکومت نے اس کا متبادل بندوبست کر رکھا ہے اس لیے اس کا ڈالر یا روپے کی قیمت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔

ڈالر کی قدر میں کمی کس حد تک جانے کا امکان ہے؟

اس سوال کے جواب میں چئیرمین منی ایکسچینج کمپنی ایسوسی ایشن ملک بوستان کا کہنا تھا کہ حکومت نے جو روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ سمندر پار پاکستانیوں کے مطالبے پر کھولے ہیں اس سے ایک دن میں دس کروڑ روپے منتقل ہوئے ہیں، اور مسلسل ان اکاؤنٹس میں اضافہ ہو رہا ہے جو آنے والے دنوں میں ڈالر کی قدر کو مزید کم کرنے میں مددگار ہوگا۔

رواں برس جنوری میں ڈالر 155 روپے پر تھا۔ انہوں نے کہا کہ جو مارکیٹ کا رجحان ہے اس کو دیکھتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ جنوری 2021 میں ڈالر 155 تک گر سکتا ہے۔ شکیل احمد کے مطابق 155 ایک نفسیاتی حد ہے اگر یہ ٹوٹ جاتی ہے تو ڈالر جنوری تک 150 روپے پر بھی جا سکتا ہے۔

ملکی قرضوں کے حجم پر ڈالر کی گراوٹ کے کیا اثرات مرتب ہوئے؟

ماہر معیشت مزمل اسلم نے کہا کہ ڈالر تو اتنا ہی رہتا ہے لیکن جب روپوں سے ضرب دی جاتی ہے تو کہا جاتا ہےکہ قرضوں کا حجم بڑھ گیا یا کم ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر آپ نے کسی کے سو ڈالر دینے ہیں تو وہ سو ڈالر ہی رہیں گے، لیکن جب آپ نے ڈالر خریدا وہ 105 کا ہو اور جب آپ اس کو لوٹائیں تو ڈالر 160 روپے کے قریب ہو تو یقیناً روپوں میں آپ کو نقصان ہی ہوگا۔ اس لیے روپے کے مستحکم ہونے سے روپوں میں قرضوں کا حجم یقینی طور پر کم ہو جائے گا۔‘

اس حوالے سے سٹیٹ بینک نے ایک رپورٹ بھی جاری کی ہے جس کے مطابق ’مالی سال 2020 کی پہلی ششماہی کے دوران کمرشل بینکوں کا منافع 52 فیصد بڑھ گیا ہے۔‘

ترجمان سٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2020 کی پہلی ششماہی کے دوران کمرشل بینکوں کے اثاثوں میں بھی 7.8 فیصد ( 326 ارب روپے) کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد بینکوں کے اثاثے مجموعی طور پر18 کھرب 14 ارب 32 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت