امریکہ میں برطانوی سفیر کا استعفی

سفیر کم ڈیروک نے اعلان کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان پر جس طرح تنقید کی، اس کے بعد ان کا بطور سفیر کام کرتے رہنا ناممکن ہے۔

کم ڈیروک نے اپنی ای میل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا

امریکہ میں برطانیہ کے سفیرسر کم ڈیروک نے استعفی دے دیا ہے۔ دی انڈپینڈنٹ کے خیال میں انہیں خدشہ تھا کہ مستقبل کے ممکنہ وزیراعظم بورس جانسن ان کی افشا ہونے والی سفارتی ای میل کے معاملے میں ان کی حمایت نہیں کریں گے۔ کم ڈیروک نے اپنی ای میل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

امریکہ میں برطانوی سفیر نے اپنی روانگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان پر جس طرح کی تنقید کی تھی اس کے بعد ان کا بطور سفیر کام کرتے رہنا ناممکن ہو گیا تھا۔

یہ واضح ہے کہ کم ڈیروک نے منگل کی رات ٹوری پارٹی کی قیادت کی ای  میل کے معاملے پرہونے والی بحث دیکھتے ہوئے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔ اس بحث میں برطانیہ کے متوقع  وزیراعظم بورس جانسن نے کم ڈیروک کو تبدیل کرنے کا امکان مسترد کرنے سے کئی بار انکار کیا۔

دوسری جانب سیاستدانوں نے کم ڈیروک کے استعفے میں بورس جانسن کردار پر تنقید کی ہے۔ نائب وزیر خارجہ ایلن ڈنکن نے بورس جانسن کے رویئے کو ہتک آمیر قرار دیا ہے۔ بی بی سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر بورس جانسن نے ہمارے سفیر کو بس کے نیچے دے دیا ہے۔

ٹوری پارٹی کے ایک سابق چئیرمین اور وزیر خارجہ برائے امور خارجہ و دولت مشترکہ جیریمی ہنٹ کے حامی  پیٹرک میک لوگھلن  نے بھی اپنے سیاسی حریف بورس جانسن پرنکتہ چینی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی ایسے شخص کو دیکھنا کوئی خوش کن بات نہیں جو برطانیہ کا اگلا وزیراعظم بننا چاہتا ہو لیکن  محنتی سرکاری افسروں کے لیے کھڑے ہونے پر تیار نہ ہو جبکہ ان افسروں کوئی غلطی بھی نہ ہولیکن پھربھی غیرملکی حکومتیں ان پر چڑھ  دوڑی ہوں۔ قیادت کا کام ہوتا ہے کہ وہ اپنی ٹیم کے ساتھ کھڑی رہے۔

دوسری جانب وزارت عظمیٰ کے لیے اپنی مہم کے سلسلے میں لندن میں کے ایک کلب میں جانے والے بورس جانس نے کم ڈیروک کے معاملے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس حوالے ان کی رائے دوسروں کے برعکس ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ سرکاری افسروں  کو سیاسی اکھاڑے میں کھینچنا غلط ہے۔

برطانوی ایوان نمائندگان کی امور خارجہ کمیٹی کے ٹوری پارٹی سے تعلق رکھنے والے چیئرمین ٹام ٹوگن ہاٹ نے کہا ہے کہ لیڈر اپنے لوگوں کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔  کوشش جاری رکھنے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی اوران کا دفاع کرتے ہیں۔  

ان کا کہنا تھا کہ اگر برطانیہ اپنی سفارتی خط وکتابت کا تحفظ نہیں کر سکتا اور اس کی قیمت لوگوں کو اپنا کیرئر داؤ پر لگا کر چکانی پڑتی ہے، اگر لوگ حکومتی خواہشات کوپایہ تکمیل تک پہنچانے کے دوران تحفظ سے محروم رہیں تو ایسی صورت میں ہماری سفارتی نمائندوں کے کام کا معیار متاثر ہوگا، اثرورسوخ میں کمی آئے گی اور برطانیہ کمزور ہوگا۔

نائب وزیر خارجہ ایلن ڈنکن نے وزیراعظم ٹریزامے پر زوردیا ہے کہ وہ بورس جانسن کے ہاتھ سے فیصلہ واپس لیتے ہوئے امریکہ میں برطانیہ کا نیا سفیر مقرر کردیں اور ایسا کرنا جتنا جلدی ہو گا اتنا بہتر ہوگا۔

یورپی یونین میں سابق برطانوی سفیر انتھونی گارڈنرنے بریگزٹ کا فیصلہ کرنے والوں پر سخت تنقید کی ہے ۔ ان کہنا تھا کہ ایسا کرنے والوں نے برطانیہ کو ’ مذہبی بنیاد پر جنگ ‘ کے ماضی کے دنوں میں دھکیلنے کا پاگل پن پر مبنی فیصلہ کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا ہے کہ کم ڈیروک کی اصل کہانی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان کے بارے میں ناقابل قبول تبصرے تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس میں اندر کے لوگوں کی ایک ایسے سینیئر سرکاری افسر کو ہٹانے کی کوششیں بھی شامل ہیں جوبرطانیہ کے یورپی یونین کا رکن رہنے کا حامی ہے۔

انتھونی گارڈنرنے کہا کہ ہم واقعی مذہبی جنگ کے دنوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اخلاق کو کھڑی سے باہر پھینک دیا گیا ہے اور غصہ بلاجواز ہے۔

متوقع برطانوی وزیراعظم بورس جانس نے لندن میں ایک کلب کے دورے کے موقعے پر کم ڈیروک کے استعفے کا ذمہ دار ان کی ای میل افشا کرنے والے کو قرار دیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی اس شخص کو دھرلیا جائے گا اور اس سے پوچھ گچھ  ہو گی۔ ان کہنا تھا : ’ جو بھی سفارتی خط وکتابت منظرعام پر لایا اس نے ہماری سول سروس کو بہت بڑا نقصان پہنچایا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ سرکم ڈیروک ایک شاندار سفارت کار ہیں۔

 سرکم ڈیروک نے امریکہ سے اپنی روانگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ ان کے سفارتخانے سے سرکاری دستاویزات افشا ہوئی ہیں اس لیے ان کے اوران کی بطورسفیر تعیناتی کی باقی رہ جانے والی مدت کے بارے میں بہت زیادہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ ان قیاس آرائیوں کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ موجودہ صورت حال میں ان کا بطور سفیر کام کرتے رہنا ناممکن ہو گیا اگرچہ وہ یہ کردار ادا کرتے رہنا چاہتے تھے۔

کم ڈیروک نے مزید کہا کہ اگرچہ ان کی بطور سفیر تعیناتی کی مدت اس سال کے آخرتک ختم ہوگی، ان کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں انہیں ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت کو نیا سفیر تعینات کرنے کا موقع دینا چاہییے۔

وزیراعظم کے ترجمان نے یہ بتانے سے انکار کردیا ہے کہ آیا ٹریزامے نے کم ڈیروک کو قائل کرنے کی کوشش تھی کہ وہ کام کرتے رہیں یا آیا برطانوی سفیر نے بورس جانسن کے ان الفاظ کا ذکر کیا تھا جو انہوں نے گذشتہ رات ٹیلی ویژن پر ہونے والے مذاکرے میں ادا کئے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ ذاتی گفتگو تھی۔

ترجمان نے امریکہ میں برطانیہ کے نئے سفیر کی تعیناتی کے وقت کے بارے میں بھی کچھ نہیں بتایا اور نہ ہی یہ بتایا ہے کہ کیا موجودہ وزیراعظم ٹریزامے ہی نیا سفیرمقرر کریں گی۔ ٹریزامے 24 جولائی کو وزارت عظمیٰ چھوڑ دیں گی۔

 

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ