راولپنڈی کا وائلڈ لائف سفاری پارک، ایک اجڑی ہوئی داستان

اسلام آباد کے باسیوں کو یہ معلوم ہی نہیں کہ ان کے شہر میں ایک سفاری پارک بھی موجود ہے جہاں جنگلی جانور بھی موجود ہیں۔

سفاری پارک کا مرکزی داخلی گیٹ (فوٹو: سجاد اظہر)

اسلام آباد کے باسی شاید یہ نہیں جانتے کہ دریائے کورنگ کے ساتھ اسلام آباد ایکسپریس وے پر ایک سفاری پارک بھی واقع ہے، جہاں کبھی گاڑی میں آپ ایسے ہی سفاری کر سکتے تھے جیسے آپ افریقہ کے جنگلوں میں ہوں، جہاں شیر اپنی کچھار میں دھاڑ رہا ہو اور جانور قدرتی ماحول میں آپ کے ارد گرد اٹکھیلیاں کرتے پھر رہے ہوں۔

یہ منظر زیادہ پرانا نہیں ہے۔ 1988 سے 1996 کے دوران مختلف مرحلوں میں حکومت پنجاب نے یہ وائلڈ لائف پارک لوئی بھیر میں بنایا تھا۔ 687 ایکڑ محکمہ جنگلات کی زمین اس مقصد کے لیے مختص کی گئی تھی، جس کے بڑے حصے پر اب مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا قبضہ ہے۔ گذشتہ برس سابق مشیر ماحولیات امین اسلم نے ایک پریس کانفرنس میں سروے آف پاکستان کے نئے نقشوں کا حوالہ دے کر کہا تھا کہ لوئی بھیر جنگل کے 1089 ایکڑ میں سے 629 ایکڑ پر قبضہ ہو چکا ہے۔

اس قبضے کا یہ عالم ہے کہ وہ پارک جہاں کبھی سفاری کی جا سکتی تھی اب قبضہ گروپوں نے اس کو درمیان سے کاٹ دیا ہے، اس لیے جہاں کبھی سفاری ہوا کرتی تھی وہاں اب پیدل جانا بھی محال ہے۔ اسلام آباد ایکسپریس وے سے آپ پارک کے پہلے حصے میں پہنچتے ہیں۔ جہاں سڑک کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔

پارک کے اندر ٹکٹ کاؤنٹر بھی موجود نہیں کیوں کہ اب یہاں کوئی آتا ہی نہیں، بس قریبی آبادیوں کے لوگ شام کو واک کے لیے آ جاتے ہیں۔ گیٹ کے قریب آپ کو انتظامیہ کے دفاتر نظر آتے ہیں۔ ان کے قریب سڑک بنانے والا ایک زنگ آلود رولر کھڑا ہے، جس سے یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ ٹھیکدار بھاگ گیا ہوگا اور انتظامیہ نے اس کا بقیہ سامان ضبط کر رکھا ہے۔

آگے جائیں تو آپ کو جانور کہیں دکھائی نہیں دیتے بلکہ آدھا کلومیٹر چلنے کے بعد رستہ ہی غائب ہو جاتا ہے۔ بتایا گیا کہ پل سیلاب سے بہہ گیا تھا، اس لیے باقی پارک دیکھنے کے لیے آپ کو باہر نکل کر ایک لمبا چکر کاٹ کر کورنگ ٹاؤن سے داخل ہونا پڑے گا۔

سفاری پارک میں پہلا جنگلہ شیر کا ہے جہاں ایک لاغر شیرنی قید بامشقت کاٹ رہی ہے۔ اس کا کمرہ انتہائی گندا اور اس کی شکل سے لگتا ہے کہ اسے پوری خوراک نہیں دی جاتی۔ آگے چند ہرن، دو چار نیل گائے اور کچھ بندر دکھائی دیتے ہیں۔

سڑک پر آگے چلتے ہوئے ایک لڑکا ملا جس نے ہاتھ میں ایک ڈنڈا پکڑا ہوا تھا۔

پوچھا تو کہنے لگا، ’روزانہ یہاں شام کو واک کے لیے آتا ہوں۔ ڈنڈا اس لیے اٹھایا ہوا ہے کہ یہاں چور موبائل اور پرس چھین لیتے ہیں۔‘

دو بڑی بڑی جھیلیں خشک پڑی تھیں جہاں محلے کے لڑکے کرکٹ کھیل رہے تھے۔ ایک طرف جنگل میں بچوں کے جھولوں کو خود رو جھاڑیوں میں گھرا ہوا دیکھ کر کسی ڈراؤنی فلم کا منظر یاد آ جاتا ہے کہ شاید جنات نے یہاں سے انسانوں کو بھگا دیا ہو۔

لوئی بھیر وائلڈ لائف پارک کی ڈپٹی ڈائریکٹر ارفع بتول نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’پارک میں اس وقت 37 جانور ہیں جن میں شیر، نیل گائے، چیتل، پاڑہ اور کالا ہرن، اڑیال، جنگلی بھیڑیں اور بندر شامل ہیں جبکہ 169 پرندے بھی پارک میں موجود ہیں۔ جانوروں اور پرندوں کی تعداد کم یا زیادہ ہوتی رہتی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’پارک اجڑنے کی سب سے بڑی وجہ ہائی وے سے رابطہ سڑک کا ٹوٹ جانا ہے۔ 2013 میں حکومت پنجاب نے 37 کروڑ روپے کی لاگت سے توسیعی منصوبہ بنایا تھا، جس کے تحت سڑک اور ریسٹورنٹ سمیت دو جھیلیں بھی بننی تھیں مگر ٹھیکیدار کام ادھورا چھوڑ کر بھاگ گیا اور پھر معاملہ عدالتوں میں چلا گیا۔

بقول ارفع بتول: ’پارک میں جانوروں کے لیے ایک ڈاکٹر سمیت 29 لوگ کام کر رہے ہیں جبکہ 23 سیٹیں خالی پڑی ہیں۔ جانوروں کی دیکھ بھال کے لیے فنڈز کی کمی نہیں ہے تاہم یہ ضرور ہے کہ ملازمین جانوروں کا اس طرح خیال نہیں رکھتے حالاں کہ ہم انہیں بتاتے ہیں کہ ان کا خیال رکھنا آپ کے فرائض منصبی کا حصہ بھی ہے اور ساتھ ثواب بھی ملے گا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن اس سوال پر کہ کیا جانوروں کی دیکھ بھال کے لیے ملازمین کو تربیت دی جاتی ہے؟ انہوں نے جواب دیا، ’جب یہ بھرتی ہوتے ہیں تو انہیں تربیت دی جاتی ہے۔‘

پارک کی زمین پر قبضے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’یہ زمین محکمہ جنگلات کی ہے۔ جب ہم پولیس سٹیشن کوئی شکایت لے کر جاتے ہیں تو پولیس کہتی ہے کہ آپ کے پاس زمین کے کاغذات ہیں تو ظاہر ہے کہ یہ ہمارے پاس نہیں بلکہ محکمہ جنگلات کے پاس ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’پارک میں آنے والے شہریوں کی کمی کی بڑی وجہ سڑکوں کا ٹوٹ جانا ہے اور پھر درمیان سے پل بھی بہہ گیا ہے جس کی وجہ سے اب سفاری ممکن نہیں رہی۔ لوگ بھی نہیں آتے اس لیے محکمہ بھی کہتا ہے کہ جب ہمیں یہاں سے آمدن نہیں ہو رہی تو فنڈز کیوں خرچ کریں؟‘

ارفع بتول نے مزید بتایا کہ ’پارک کی زمین پر قبضہ ہو چکا ہے، جو زمین باقی بچ گئی وہ بھی قبضہ گروپوں کے نشانے پر ہے۔ لوگ یہاں آتے نہیں۔ محکمے کے پاس فنڈز نہیں تو پھر اس پارک کے جانوروں کو کس بات کی سزا دی جا رہی ہے؟ انہیں واپس جنگلوں میں چھوڑ دیا جائے اور جس طرح اسلام آباد چڑیا گھر کے ہاتھی کاون کو واپس بھیجا گیا تھا، یہاں موجود شیرنی اور باقی جانوروں کو بھی آزاد کر دیا جائے۔‘

یہاں سیر کے لیے آنے والے ارسلان بلال ناروے کی آرکٹکٹ یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہاں پر جانوروں کی حالت دیکھ کر بہت پریشان ہیں، ان کی صحیح دیکھ بھال نہیں ہو رہی جبکہ یہی محکمہ بانسرہ گلی مری میں بھی ایک وائلڈ لائف پارک چلا رہا ہے۔ ’لوئی بھیر اور اس میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ایک تو سیاحتی مقام ہونے کی وجہ سے وہاں سالانہ ایک لاکھ لوگ آتے ہیں، لیکن وہاں ایک مسئلہ یہ ہے کہ جو شیر وہاں رکھا گیا ہے وہ سائبیرین ٹائیگر ہے جسے رہنے کے لیے 15 ڈگری سے کم درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ سائیبرین ٹائیگر کی نسل دنیا میں تیزی سے معدوم ہو رہی ہے اور اس کی تعداد صرف 350 سے 400 کے درمیان رہ گئی ہے۔‘

’وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کو یہ شیر حمزہ شہباز شریف نے 2009 میں دیا تھا، جو انہوں نے 2007 میں کینیڈا سے منگوایا تھا، تاہم میڈیا میں ہونے والی تنقید کی وجہ سے انہوں نے یہ شیر وائلڈ لائف کو دے دیا، جہاں اس کی مناسب دیکھ بھال ضرور ہو رہی ہے مگر شیر کی اوسط زندگی 20 سے25 سال ہوتی ہے۔ اس کی زندگی اب پانچ چھ سال باقی ہے اس لیے اسے سائبیریا میں لے جا کر آزاد کر دیا جانا چاہیے۔‘

یہی حال لوئی بھیر کی شیرنی کا بھی ہے۔ اس کی مناسب دیکھ بھال بھی نہیں ہو رہی اور اس کی زندگی اوسط سے بھی کم رہ گئی ہے۔

ویسے بھی دنیا میں یہ تاثر اب تیزی سے ابھر رہا ہے کہ جانوروں کو محض انسانوں کی تفریحِ طبع کے لیے قید میں نہیں رکھا جا سکتا اور انہیں ان کے قدرتی ماحول میں واپس بھیجا جائے۔ پنجاب کے وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کا کام جنگلوں میں ایسے محفوظ علاقوں کا قیام ہونا چاہیے جہاں جانور قدرتی ماحول میں پھلیں پھولیں نہ کہ وہ اپنے وسائل وائلڈ لایف پارک بنا کر ضائع کرتے پھریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات