ریلوے حادثات پر قابو پانا مشکل کیوں ہے؟

گزشتہ ایک سال میں ریکارڈ 80 ٹرین حادثات ہوچکے ہیں۔ اس بار بھی پاکستان ریلوے حکام کی جانب سے چھوٹے ملازمین کو ذمہ دار قرار دیکر معاملہ کی انکوائری کا اعلان کیا ہے۔

جائے حادثہ کا ایک دلخراش منظر(سوشل میڈیا)

پاکستان ریلوے میں حادثات معمول بنتے جارہے ہیں لیکن انتظامیہ کی جانب سے ہربارچھوٹے ملازمین کو ذمہ دارقراردیکر معاملہ دبا دیا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ہردورمیں ریلوے میں انقلابی اقدامات کا دعوی کیا جاتا ہے لیکن نظام جوں کاتوں ہے نئی ٹرینیں چلانے کی بجائے نظام میں بہتری ناگزیر ہے۔ ان حادثات میں قیمتی جانوں کا ضیاع تو ہوتا ہی ہے مگر مالی طورپر بدحال محکمہ مزید نقصان سے دوچار ہو رہا ہے۔ ریلوے کے اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر خسارہ 27 سے 32 ارب روپے پر برقرار ہے جو گزشتہ پچیس سال سے بڑھتا ہی جا رہا ہے۔

دور حاضر میں وفاقی حکومت کی جانب سے ہر سال 38 سے 42 ارب روپے سالانہ بیل آؤٹ پیکج سے ریل کو پٹری پر رکھنے کا مصنوعی طریقہ اپنایا گیا ہے۔ اسکے باوجود نظام بہتری کی طرف بڑھتا دکھائی نہیں دے رہا۔ آج بروز جمعرات پنجاب کے ضلع صادق آباد کے قریب راولپنڈی سے کوئٹہ جانے والی ٹرین اور مال گاڑی میں تصادم ہوا جس کے نتیجے میں کم سے کم 11 افراد ہلاک جبکہ 25 سے زائد افراد زخمی ہوگئے اور مسافر ٹرین کا انجن اور کئی بوگیاں تباہ ہوگئیں۔ اس سے پہلے گزشتہ ایک سال میں ریکارڈ 80 ٹرین حادثات ہوچکے ہیں۔ اس بار بھی ریلوے حکام کی جانب سے چھوٹے ملازمین کو ذمہ دار قرار دیکر معاملہ کی انکوائری کا اعلان کیا ہے۔

ریلوے حادثات پر قابو مشکل کیوں؟

ریلوے پاکستان کے مختلف اعلی انتظامی عہدوں پر فائز رہنے والے ایک افسر نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ بیس پچیس سال سے ریلوے کو غیر سنجیدہ اور سیاسی انداز سے چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہر ریلوے وزیر اپنے من پسند افسران کو قابلیت نہ ہونے کے باوجود اعلی عہدوں پر فائز کرکے کام چلانے کی کوشش کرتاہے۔ انہوں نے کہا ریلوے ٹریک مکمل طور پر بوسیدہ ہوچکا ہے، سگنلنگ سسٹم بھی مکمل کام نہیں کر پا رہا۔

انہوں نے کہا عالمی سطح پر ریلوے کو ایک مکمل نظام کے طور پر سمجھا جاتا ہے اور اس پر ریسرچ کی جاتی ہے۔ لیکن پاکستان ریلوے میں ہر بار حادثہ ہونے پر نظام میں تحقیقات کے بعد نشاندہی کر کے خامیاں دور کرنے کی بجائے کسی چھوٹے ملازم کو واقعہ کا ذمہ دار قرار دیکر اگلے حادثے کا انتظار شروع ہو جاتا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ریلوے حادثات کی تحقیقات کے لئے تعینات فیڈرل انسپکٹر جنرل فار ریلوے گزشتہ بیس سال سے سول انجئینرنگ کے شعبے سے لگایا جاتا ہے جو مکینکل اور سگنل کا ماہر نہیں ہوتا لہذا ہر بار سول ڈھانچے کی خامیوں کو نظر انداز کر کے روایتی طور پر تحقیقات کی جاتی ہے۔ اگر ٹریک اور سگنلنگ کا نظام بوسیدہ ہے تو اسکی بہتری کے لئے فنڈز جاری کس نے کرنا تھے؟ اگر جاری ہوئے تو رکاوٹ کون بنا؟ یہ مسائل کبھی بیان نہیں ہوئے۔ کام چلاؤ طریقہ اس محکمہ کی بربادی کا موجب ہے۔ ریلوے افسر نے بتایا کہ ٹرین ڈرائیور، گینگ مین، کانٹا بدلنے والے اورلائن پر کام کرنے والے چھوٹے ملازمین کی محکمے میں شدید کمی ہے۔ آٹھ کی بجائے بارہ بارہ گھنٹے ڈیوٹی کرنے والے ملازم سے دباؤ میں غلطی فطری ہے۔ انہوں نے بتایا محکمہ میں اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا کہ کونسا افسر کس شعبے کا ماہر ہے اور اسکا تجربہ کس کام کا ہے۔ اہم ترین آپریشنل اور مکینکل سیٹوں پر اعلی حکام نے من پسند ناتجربہ کار لوگ تعینات کر رکھے ہیں۔ انہوں نے کہا ذمہ داروں کو سزا دینے کی بجائے نظام بہتر کرنے تک حادثات پر قابو پانا ناممکن ہے۔

سابقہ ریلوے حادثات:

ریلوے ریکارڈ کے مطابق جولائی2018ء سے جولائی 2019ء تک چھوٹے بڑے 80 کے قریب ٹرین حادثے ہو چکے ہیں۔ سب سے زیادہ جون میں 20 حادثات ہوئے جس میں انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ محکمہ ریلوے کو بھی کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ یکم جون کو لاہور یارڈ میں ریلیف ٹرین ڈی ریل ہوگئی۔ 3 جون کو عید اسپیشل ٹرین لالہ موسی اسٹیشن کے قریب پٹڑی سے اتر گئی۔ 5 جون کو فیصل آباد اسٹیشن کے قریب شاہ حسین ٹرین کی بوگیاں پٹڑی سے اترگئیں۔ 5 جون کو ہی کراچی ڈویژن میں کینٹر ٹرین کو حادثہ پیش آیااور تھل ایکسپریس کی پانچ بوگیاں کندھ کوٹ کے قریب پٹڑی سے اترگئیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

20 جون کو حیدرآباد اسٹیشن کے قریب جناح ایکسپریس مال بردار گاڑی سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں ٹرین ڈرائیور اور اسسٹنٹ ٹرین ڈرائیور جاں بحق ہوگئے۔

18 جون کو ملتان ڈویژن میں ہڑپہ اسٹیشن کے قریب جناح ایکسپریس ٹرین کی ڈائننگ کار کو آگ لگ گئی۔ 22 جون کو لاہور ریلوے اسٹیشن کے یارڈ میں کراچی جانے والی تیزگام کی بوگیاں پٹری سے اترگئیں۔ اسی طرح چھوٹے چھوٹے مزید واقعات بھی پیش آتے رہے۔ گزشتہ دور حکومت میں بڑے بڑے ٹرین حادثات پیش آتے رہے ہیں۔

صادق آباد کے قریب پیش آنے والے اکبر ایکسپریس حادثہ میں بھی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے حسب روایت ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے لئے پندرہ پندرہ لاکھ روپے جبکہ شدید زخمیوں کو پانچ پانچ اور معمولی زخمیوں کو دو دو لاکھ روپے امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ واقعہ کی تحقیقات کی ذمہ داری ایف جی آئی آر کو سونپ دی گئی ہے۔

حادثات سے ٹرینوں کا شیڈول متاثر:

ریلوے حکام کے مطابق صادق آباد ميں اکبر ايکسپريس اور مال گاڑی کے درميان ہونے والے حادثے کے بعد پاکستان ريلوے کا نظام ايک بار پھر متاثر ہوگيا ہے۔ حادثے کے بعد راولپنڈی، لاہور، فیصل آباد اور ملتان سمیت دیگر شہروں سے کراچی پہنچنے والی ٹرینیں اب تک کینٹ اسٹیشن نہیں پہنچ سکیں جس کی وجہ سے تاحال ریلوے کا نظام ٹریک پر نہیں لایا جا سکا۔ پاکستان ریلوے کی کراچی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجہ سے ٹرینوں کے شیڈول ٹھیک کرنے میں کچھ وقت لگے گا البتہ جو ٹرینیں پہنچ چکی ہیں وہ اپنے مقررہ وقت پر روانہ ہوں گی جس میں پاکستان ایکسپریس سمیت دیگر ٹرینیں شامل ہیں۔ واضح رہے ہر بار اس نوعیت کے حادثات کے باعث ٹرینوں کا شیڈول شدید متاثر ہوتا ہے جسے معمول پر لانے کے لیے کئی روز درکارہوتے ہیں۔

وزیر ریلوے سے استعفی کا مطالبہ:

ریلوے کے بڑھتے حادثات پر اپوزیشن جماعتوں نے وزیر ریلوے شیخ رشید احمد سے استعفی کا مطالبہ کیا ہے۔ چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ریلوے کی تباہی اور آئے روز حادثات کے ذمہ دار وزیر ریلوے ہیں اس لیے وہ فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفی دیں۔ مسلم لیگ ن کی رکن صوبائی اسمبلی حنا پرویز بٹ نے پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع کرائی جس میں حادثات کا ذمہ دار وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کو قراردیا گیا اوران سے استعفی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر عام شہریوں کی جانب سے بھی ٹرین حادثات پر غم وغصہ کا اظہار کرتے ہوئے اسے وزیر ریلوے کی غلفت کا نتیجہ قرار دیکر استعفے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے ٹرین حادثہ پر اظہار افسوس کرتے ہوئے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا کہ صادق آباد ٹرین حادثہ نہایت افسوسناک ہے۔ لواحقین کے غم میں برابر کا شریک اور زخمیوں کی جلد/مکمل شفایابی کیلئے دعاگو ہوں۔ وزیر صاحب کو ریلوے انفراسٹرکچر سے برتی جانے والی دہائیوں پر محیط غفلت کے فوری ازالے اور سیکیورٹی سٹینڈرڈز یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان