حقیقی آزادی کی جنگ

یہ پلاٹینم جوبلی ایک طرح سے رب تعالیٰ کی طرف سے انعام بھی ہے اور ایک نئے قومی جنم کا امتحان بھی۔ گذشتہ 75 سال کی خامیوں اور کوتاہیوں کا آج ہی احساس کریں گے تو اگلے 75 سال مزید کامیابیاں سمیٹ سکیں گے۔

12 اگست 2022 کو کراچی میں ملک کے 75 ویں یوم آزادی کی تقریبات سے قبل پاکستان کے قومی پرچم فروخت کرنے والے ایک شخص نے ہاتھ میں چھوٹے چھوٹے پرچم پکڑ رکھے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

جس طرح قوم افراد کا مجموعہ کہلاتی ہے، بالکل اسی طرح قوم کی مجموعی زندگی کے کئی پہلو افرادی زندگی سے مطابقت رکھتے ہیں۔

فرد 75 سال کا ہو جائے تو یہ اس کے کل جیون کے سرمائے کا عرصہ کہلاتا ہے جس میں انسان پلٹ کر اپنی زندگی کے حاصل حصول، کامیابیوں اور ناکامیوں کا تجزیہ کرتا ہے اور عمر کے آخری حصے کو خدا کی امان میں سونپ کر ہر ممکن بہتری کی کاوش انجام دینےکی سعی کرتا ہے۔

کسی بھی قوم کی زندگی کے 75 سال بھی کسی حد تک ایسے ہی رویے کے پہلے حصے کے طلب گار ہوتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہے کہ جب کوئی بھی قوم سات دہائیوں سے زائد کے مجموعی سفر کا بےلاگ تجزیہ کرتی ہے اور احساس سود و زیاں حاصل کرنے کا اہتمام کرتی ہے۔

پاکستان اس سال رب تعالی کی برکت و رحمت سے 75 سال کا ہو گیا ہے۔ جیسا کہ قائداعظم نے فرمایا تھا کہ دنیا میں کوئی ایسی طاقت نہیں جو پاکستان کو ختم کر سکے سو انشاء اللہ تاقیامت ایسے کئی سینکڑوں 75 سال پاکستان نے کرہ ارض پر بسر کرنے ہیں لیکن پہلی پلاٹینم جوبلی کے موقعے پر جہاں قدرت کے حضور آزادی کا شکرانہ ادا کرنے، بانیانِ مملکت کو خراج عقیدت و تحسین پیش کرنے، جشن منانے اور من حیث القوم مجموعی کامیابیوں پر بجا فخر کرنے کا وقت ہے، وہیں قوم کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی بھی ضرورت ہے کہ ان 75 سالوں میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟

کہاں ہم نے قائداعظم اور علامہ اقبال کے پاکستان کی ایسی لاج رکھی کہ ان کی روح تک خوش و مطمئن ہوگی اور کہاں ہم سے ایسی کوئی کمی یا خامی رہ گئی کہ قوم کی روح میں تشنگی تاحال باقی ہے۔

کوئی شک نہیں کہ گذشتہ سات دہائیوں سے زائد کا عرصہ پاکستان کے لیے ایسا تابندہ اور رخشندہ دورانیہ ہے جس کی چمک دمک آنے والی کئی نسلوں کے لیے باعث رہنمائی و رونق ہو گی۔

ان 75 سالوں میں شہدائے پاکستان کے خون نے جس طرح اس دھرتی کی آبیاری کی ہے، یہ پاک زمین اس قرض کی مقروض رہنے کے ساتھ ساتھ سدا اس پاک لہو کی خوشبو میں رچے گلابوں سے مہکتی رہے گی۔

ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اس پاک سرزمین کے ہونہار نوجوانوں اور تجربہ کار و زیرک مرد و خواتین نے جس طور اپنے اپنے دائرہ کار میں ملک کی ترقی کی خاطر دن رات ایک کیا ہے، انہی مخلص کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ پاکستان اپنے خطے میں تو کلیدی حیثیت رکھتا ہی ہے مگر اقوام عالم بھی اہم اور حساس عالمی معاملات میں پاکستان کی شمولیت کے بغیر آگے بڑھنے سے قاصر رہتی ہیں۔

تجارت ہو یا معیشت، سیاست ہو یا معاشرت، داخلی سلامتی کے گھمبیر معاملات ہوں یا پیچیدہ بین الاقوامی تعلقات، مذہب ہو یا سائنس، فنون لطیفہ ہو یا ہنرکاری، الغرض ہر شعبے میں ایسے ایسے نابغۂ روزگار اذہان اس مملکتِ خداداد میں ان گذشتہ 75 سالوں میں وجود میں آئے ہیں جنہوں نے کُل عالم میں اپنی دھاک بٹھائی ہے۔

بلاشبہ ان گذشتہ سات دہائیوں سے زائد کے عرصے کا اگر تجزیہ کیا جائے تو پاکستانی قوم کا سر فخر سے مزید بلند ہی ہوگا۔ دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کامیابیوں کے اس مسلسل درخشاں سفر کی رفتار البتہ کچھ سست رہی جن میں کہیں نہ کہیں، کچھ نہ کچھ رکاوٹیں آڑے آتی رہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی لیے بسا اوقات مثال دی جاتی ہے کہ جو اقوام بعد از قیامِ پاکستان تشکیل پائیں ان کی اکثریت ہم سے کئی آگے نکل گئی جس میں ایک بڑی مثال چین کی دی جاتی ہے۔

جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ ایک قوم ایک فرد کی ہی مانند اپنی زندگی کے اتار چڑھاؤ، مثبت اور منفی پہلوؤں کے ساتھ ہی آگے بڑھتی ہے۔ کوشش البتہ حتی الامکان کی جاسکتی ہے کہ خامیوں پر بھرپور قابو پایا جا سکے اور انہیں بہتری کی جانب ڈھالا جا سکے۔

میرے نزدیک یہ پلاٹینم جوبلی ایک ایسا ہی موقع ہے جب ہم میں سے ہر ایک شخص کو بحیثیت محب وطن پاکستانی اپنا محاسبہ خود کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں خود اپنے آپ کو آئینے کے سامنے کھڑا کرکے اپنی خوبیوں اور خامیوں کا احاطہ کرنا ہے۔

ہم پیشہ ور فرد ہیں، خود کفیل ہیں، کاروباری ہیں، مزدور ہیں یا جس بھی شعبے سے تعلق رکھتے ہیں حتیٰ کہ اگر گھریلو فرد بھی ہیں تو کیا ہمارا کردار ایک ترقی یافتہ اور مہذب قوم کے شایانِ شان ہے؟

 کیا ہم اپنے پیشہ ور یا ذاتی امور میں مخلص ہیں؟ کیا ہم ایک قانون پسند شہری ہیں؟ کیا ہم پاکستان کی ترقی کے لیے سو فیصد مخلص اور اس امانت میں کسی بھی قسم کی خیانت کے مرتکب تو نہیں ہیں؟ کیا ہم اپنی معاشرت میں بقائے باہمی کے سادہ اصول کے تحت احترامِ آدمیت و انسانیت کے بنیادی تقاضے کو پورا کرتے ہیں؟

یہ سب وہ بنیادی سوالات ہیں جو ہم میں سے ہر پاکستانی کو اس 75 سالہ جشن کے اہم ترین دن پر اپنے آپ سے کرنے ہیں۔ اگر ان سوالات میں سے کسی ایک کا جواب بھی نفی میں آئے توجان لیجیے کہ ہم میں وہی کمی ابھی برقرار ہے جس کے پورا کیے جانے کی صورت میں ہی ہم پاکستان کو حقیقی معنوں میں قیام کے مقاصد کی جانب لے جا سکتے ہیں۔

قوم محض جیتے جاگتے سانس لیتے افراد کا ہی مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ ہر فرد کا انفرادی کردار اور رویہ مجموعی سانچے میں ڈھل کر قومی کردار اور تقدیر کی تشکیل کرتا ہے۔ لہذا ہم میں سے ہر ایک پاکستانی اگر آج سے اپنے شخصی بدلاؤ کاعہد کر لے تو کوئی شک نہیں کہ ہم ایشین طاقت تو کیا عالمی طاقت میں نہ ڈھل سکیں۔

یہ 75 سالہ پلاٹینم جوبلی ایک طرح سے رب تعالیٰ کی طرف سے انعام بھی ہے اور ایک نئے قومی جنم کا امتحان بھی۔ گذشتہ 75 سال کی خامیوں اور کوتاہیوں کا آج ہی احساس کریں گے تو اگلے 75 سال مزید کامیابیاں سمیٹ سکیں گے اور آنے والی نسلوں کے لیے خوشحال، خوددار، کامیاب وکامران اور ترقی یافتہ پاکستان چھوڑ کر جائیں گے جومحض 1947 کے خواب پر ہی مبنی نہ ہو بلکہ اس کی بھرپور تعبیر کی عملی صورت ہو۔ انشاء اللہ۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ