طالبان نے ملا ذاکر کو پنج شیر کیوں دیا؟

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے ایک ٹویٹ کے مطابق ملا عبدالقیوم ذاکر کو صوبہ پنجشیر اور بغلان کے لیے خصوصی فوجی کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔

افغانستان کے صوبہ پنج شیر میں طالبان جنگجو 8 جولائی 2022 کو گاڑیوں کی تلاشی لے رہے ہیں (تصویر: اے ایف پی فائل)

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے گذشتہ روز بتایا کہ گروپ کے سپریم لیڈر ملا ہبت اللہ اخوندزادہ نے افغانستان کے شمالی صوبوں پنج شیر اور بغلان کے لیے خصوصی فوجی کمانڈر مقرر کیا ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے ایک ٹویٹ کے مطابق ملا عبدالقیوم ذاکر کو صوبہ پنجشیر اور بغلان کے لیے خصوصی فوجی کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔

عبدالقیوم ذاکر، جو ماضی میں طالبان حکومت کے نائب وزیر برائے دفاع کے طور پر کام کرچکے ہیں، طالبان کی تحریک میں اعلیٰ فوجی کمانڈروں میں سے ایک شمار کیے جاتے ہیں۔

انہیں پنج شیر اور اندراب کے لیے ایک کمانڈر کا تقرر کیا ہے جہاں طالبان مخالف دھڑے سرگرم ہیں اور طالبان فورسز کے ساتھ جنگ میں ہیں، خاص طور پر احمد مسعود کی سربراہی میں قومی مزاحمتی محاذ (این آر ایف)۔

یہ اعلان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب این آر ایف کے ترجمان نے کئی طالبان جنگجوؤں کو حراست میں لینے کا اعلان کیا ہے۔ اس محاذ کے اس گروپ کے بغلان اور پنج شیر میں طالبان کی چوکیوں پر حملے بڑھ گئے ہیں اور خامہ پریس ایجنسی کے مطابق ان علاقوں میں طالبان کو بھاری جانی نقصان پہنچا ہے۔

عبدالقیوم ذاکر کون ہیں؟

ملا عبدالقیوم ’ذاکر‘ عرف عبداللہ غلام رسول، کا تعلق افغانستان کے سوپلی، ضلع کجاکی، ہلمند ہے۔ وہ 1973 میں پیدا ہوئے اور علی زئی قبیلے کے رکن ہیں۔

ملا عبدالقیوم گوانتانامو کے سابق قیدی ہیں۔ برسوں پہلے انہیں میدان جنگ میں ایک بے رحم جنگجو کے طور پر شہرت حاصل تھی، لیکن ساتھی باغیوں کا کہنا ہے کہ ایک کمانڈر کے طور پر وہ اکثر زیرحراست دشمنوں کے ساتھ سخت سلوک کرتے ہیں۔

2001 میں ملا ذاکر کو شمالی شہر مزار شریف میں امریکی اور افغان فورسز گرفتار کیا تھا جب ان کی حکومت ختم ہو رہی تھی۔ انہوں نے اگلے کئی سال حراست میں گزارے۔ انہیں 2006 کے آس پاس گوانتانامو منتقل کر دیا گیا اور 2007 کے اواخر میں کابل کی بدنام پل چرخی جیل میں افغانستان کی حکومت کی تحویل میں رکھا گیا۔ بالآخر انہیں مئی 2008 کے آس پاس رہا کر دیا گیا۔

لیکن رہا ہونے کے بعد وہ فوری طور پر طالبان تحریک میں دوبارہ شامل ہوگئے۔ طالبان کے سربراہ ملا محمد عمر نے 2008 کے وسط میں ذاکر کو سینیئر فوجی کمانڈر کے طور پر مقرر کیا اور جلد ہی ذاکر نے اپنے آبائی صوبے ہلمند میں کارروائیوں کی سرپرستی شروع کر دی۔ اس کے بعد وہ تیزی سے مقبول ہوئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ملا محمد عمر نے گوانتانامو کے اس سابق قیدی کو عسکریت پسندوں کی تنظیم نو میں ملا منصور کی مدد کرنے کے لیے نائب مقرر کیا تھا۔ لیکن جلد ملا عبدالقیوم ذاکر اور اختر محمد منصور کے درمیان طاقت کی کشمکش شروع ہوگئی تھی۔ کچھ باغی طالبان کی ناکامیوں کے لیے منصور اور ذاکر کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

ملا ذاکر سینٹرل ملٹری کمانڈ کے سابق سربراہ کی حیثیت سے خاص طور پر باغیوں کو اکٹھا کرنے کے لیے موزوں سمجھتے جاتے ہیں۔ وہ پاکستان سے فنڈز اور ہتھیار افغانستان میں محاذ تک مبینہ طور پر پہنچانے کے ذمہ دار تھے۔

گہری نظریں رکھنے والے اور شعلہ بیانی کے ماہر ملا ذاکر طالبان حلقوں میں کرشماتی شخصیت مانی جاتی ہیں۔ وہ آتے جنگجوؤں سے ملتے، احکامات دیتے اور رات کی تاریکی میں ہی غائب ہو جاتے تھے۔ 2010 میں کہا جاتا ہے کہ دراصل میدان جنگ میں طالبان روز کی بنیاد پر وہی چلا رہے تھے۔

پنج شیر میں کیا صورت حال ہے؟

پنج شیر اور بغلان میں ان کی تعیناتی بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اس بات کا اعتراف ہے کہ طالبان کو ان علاقوں میں مزاحمت کا ابھی بھی سامنا ہے۔

طالبان حکام واضح طور پر اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ علاقے میں کوئی لڑائی ہو رہی ہے حالاں کہ تحریک کے ہزاروں فوجی وادی بھر میں نظر آ رہے ہیں۔

پنج شیر میں طالبان کے مقامی انفارمیشن ڈائریکٹر نصر اللہ ملک زادہ نے اس سال جون میں اصرار کیا تھا کہ ’یہاں سب کچھ ٹھیک ہے۔  کوئی لڑائی بالکل نہیں ہے۔‘

لیکن امریکی اخبار دی واشنگٹن پوسٹ میں جون میں ہی ایک تفصیلی رپورٹ میں نامہ نگار سوزینا جارج نے لکھا کہ طالبان کئی ماہ سے وادی پنجشیر میں مقیم مخالف جنگجوؤں کے ساتھ ایک بار پھر سے جنگ میں مصروف ہیں۔

کابل کے شمال میں صرف چند گھنٹوں کی مسافت پر یہ صوبہ طویل عرصے سے طالبان مخالف گڑھ رہا ہے اور اخبار کے مطابق گذشتہ اگست میں کابل کے سقوط کے بعد سے اس تحریک کے لیے مزاحمت کا واحد مرکز بن گیا تھا۔

طالبان رہنماؤں نے وادی تک رسائی کو محدود کر کے پنج شیر سے خبریں روکنے کی کوشش کی ہے۔ 16 اگست کو مخالف گروپ نے وادی آریزو میں پانچ طالبان جنگـوؤں کو ہلاک کرنے اور 40 سے زائد کو یرغمال بنانے کا دعوی بھی کیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا