سیلاب: بیت الخلا نہ ہونے سے خواتین کی مشکلات میں اضافہ

سیلاب متاثرین کے لیے کیمپوں میں بیت الخلا کی کمی سب سے بڑے مسائل میں سے ایک ہے، جو سب کی صحت کے لیے خطرہ ہے، خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کا حال بہت ہی برا ہے۔

راجن پور: 3 ستمبر کو لی گئی اس تصویر میں شمین بی بی کیمپ سے دور بیت الخلا کی تلاش میں جاتے ہوئے۔ (تصویر: اے ایف پی)

پاکستان کے جنوبی شہر راجن پور میں ایک عارضی کیمپ میں سڑنے کی بدبو پھیلی ہوئی ہے جہاں سینکڑوں مقامی لوگوں نے مون سون کے اس تباہ کن سیلاب سے پناہ لے رکھی ہے جس میں ملک کا تقریباً ایک تہائی حصہ ڈوبا ہوا ہے۔

صوبہ پنجاب میں ایک چھوٹے سے دیہی ریلوے سٹیشن کے آس پاس درجنوں خیمے لگے ہوئے ہیں جو پانی پر واقع واحد خشک زمین ہے جہاں صرف ایک چھوٹی سی سڑک کے ذریعے پہنچا جا سکتا ہے۔

یہ بدبو پانی میں ڈوبی ہوئی فصلوں کے سڑنے، بچی کھچی خوراک، کوڑے کرکٹ سے سڑتی ہوئی نباتات اور وہاں جمع ہونے والے سینکڑوں لوگوں اور مویشیوں کے فضلے کا ایک مرکب ہے۔

فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے زیب النسا بی بی نے کہا کہ ’نہانے یا باتھ روم جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔‘

دو ہفتے قبل ان کے گاؤں میں سیلاب آنے کی وجہ سے انہیں اپنے اہل خانہ کے ساتھ مجبوراَ وہاں سے نکلنا پڑا۔

اسی طرح کے خیمہ کیمپ ملک کے جنوب اور مغرب میں لگے ہوئے ہیں۔ ملکی تاریخ کے بدترین سیلاب نے برطانیہ کے حجم کے علاقے کو ڈبو دیا ہے اور تین کروڑ30 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں- ہر سات میں سے ایک پاکستانی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کیمپوں میں بیت الخلا کی کمی سب سے بڑے مسائل میں سے ایک ہے، جو سب کی صحت کے لیے خطرہ ہے، خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کا حال بہت ہی برا ہے۔

ان دیہی علاقوں میں بہت سی بے گھر خواتین کو اپنی زندگی میں پہلی بار ان مردوں کے قریب رہنا پڑ رہا ہے جو رشتہ دار نہیں ہیں۔

زیب النسا نے دیہی علاقوں میں مرد و خواتین کے درمیان رائج علیحدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم پردے کے پیچھے رہتی تھیں۔۔۔ میں اپنی بیٹیوں کو اکیلا کہاں بھیجوں؟ جب ہم رفع حاجت کے لیے جاتے ہیں تو ہمیں ڈر لگتا ہے کہ کوئی مرد نہ آ جائے۔‘

مکھیوں اور مچھروں کے جھنڈ بدحالی میں اضافہ کرتے ہیں، بیماری پھوٹنے اور انفیکشن کا ماحول پیدا کرتے ہیں۔

کچھ خواتین نے دانے نکل آنے کے بعد رفع حاجت کے لیے سیلاب کا پانی استعمال کرنا چھوڑ دیا ہے۔

اے ایف پی کے دورے کے دوران فاضل پور میں کیمپ سائٹ پر پہنچنے والے رضاکار ڈاکٹر احسان ایاز نے کہا کہ ان کے زیر علاج جلد کے انفیکشن اور معدے کے امراض کے واقعات میں اضافے کی ’بنیادی وجہ‘ بیت الخلا کی کمی ہے۔

شمین اور ان کی بیٹیاں اب دن میں جتنا ممکن ہو کم پانی پیتی ہیں۔

جب سورج غروب ہوتا ہے اور کیمپ پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو خواتین کیمپ فائر سے دور کوئی ویران جگہ کی تلاش کرتی ہیں۔

وہ باری باری نگرانی کرتی ہیں اورکسی بھی مرد کو اپنی جانب آنے سے روکتی ہیں۔

شمین نے کہا کہ ’میں نہیں جانتی کہ اگر کوئی مرد آکر ہم سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔

’رات کو ایک اور خطرہ بھی ہے۔ رات کو پانی سے سانپ اور بچھو نکل آتے ہیں۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین