پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے بدھ کو دہشت گردی کے مقدمے میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سامنے پیش ہونے کے بعد کہا کہ ’ایک طرف مجھے سیاست سے روکا جا رہا ہے تو دوسری جانب میری پارٹی کو کچلا جا رہا ہے۔ اب انتظار کی گھڑیاں ختم ہو رہی ہیں۔‘
خاتون جج کو مبینہ دھمکی پر دہشت گردی کے مقدمے میں بدھ کو اسلام آباد میں جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کے بعد عمران خان کا کہنا تھا کہ ’آج میں جے آئی ٹی کے سامنے پہلی بار پیش ہوا ہوں۔ مجھ پر دہشت گردی کا مقدمہ بنایا گیا جس پر پوری دنیا میں مزاق بنایا جا رہا ہے۔‘
انہوں نے موجودہ حکومت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ ہمیں جتنا دیوار سے لگائیں گے ہم اتنا تیار ہو رہے ہیں اور اگر میں نے اسلام آباد کی کال دی تو آپ برداشت نہیں کرسکیں گے۔‘
انہوں نے کہا ہے کہ ان کے معاون خصوصی شہباز گل کو ’غیر قانونی‘ طور پر اغوا کیا گیا اور ’جب ہماری طرف سے کارروائی کی بات کی گئی تو ہمارے خلاف دہشت گردی کی دفعات لگا دی گئیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’میں نے 26 سال کی سیاست میں کبھی قانون کی خلاف وزری نہیں کی۔ دنیا دہشت گردی کی تعریف جانتی ہے، مقدمے کی وجہ سے دنیا ہم پر ہنس رہی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میں پہلے اس لیے چپ رہا کیوں کہ ملک معاشی بحران کا سامنا کر رہا تھا اور پھر یہاں سیلاب نے یہاں تباہی پھیلا دی۔‘
عمران خان نے مزید کہا کہ ’حکومتی عہدیدار ہمیں کہہ رہے ہیں سیلاب پر سیاست نہ کریں جب کہ دوسری جانب مجھے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘
’عوام کا سمندر نکلنے لگا ہے اور یہ لوگ عوام کا سامنا نہیں کر سکتے۔ اب ہمارا صرف ایک مطالبہ ہے اور محض شفاف انتخابات پر بات ہوگی۔ انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے والی ہیں۔‘
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کے بقول: ’جب ہم ٹیلی تھان پر فنڈز جمع کر رہے تھے تو انہوں (حکومت) نے چینلز بند کردیے۔ ان کی چوری کی وجہ سے عوام حکومتی فنڈ میں پیسے جمع نہیں کرا رہے۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بھی سری لنکا کی طرح بنایا جا رہا ہے۔