عمران خان کے تازہ بیان پر فوج میں شدید غم و غصہ ہے: آئی ایس پی آر

آئی ایس پی آر کے مطابق:’ایسے وقت میں پاکستانی فوج کی اعلیٰ قیادت کو بدنام اور کمزور کرنے کی کوشش کی گئی جب ادارہ پاکستان کے عوام کے تحفظ کے لیے روزانہ قربانی دے رہا ہے۔‘

پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار 14 نومبر 2020 کو ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں (تصویر: اے ایف پی فائل)

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے پیر کو جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستانی فوج میں فیصل آباد میں ایک سیاسی جلسے کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے پاک فوج کی سینیئر قیادت کے بارے میں توہین آمیز اور غیر ضروری بیان پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔‘

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’ایک ایسے وقت میں پاکستان فوج کی اعلیٰ قیادت کو بدنام اور کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ہے جب ادارہ پاکستان کے عوام کے تحفظ اور سلامتی کے لیے روزانہ  قربانیاں دے رہا ہے۔‘

بیان کے مطابق آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے طریقہ کار آئین میں واضح طور پر درج ہے اور سینیئر سیاست دان اس کے بارے میں تنازعے بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جو افسوس ناک ہے۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا کہ فوج کی اعلیٰ قیادت کی حب الوطنی اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں کئی دہائیوں پر محیط شاندار سروس سے واضح ہیں۔

بیان کے بقول: ’پاکستان فوج کی اعلیٰ قیادت کو سیاست میں ملوث کرنا اور آرمی چیف کی تعیناتی کے عمل کو متنازع بنانا نہ پاکستان کے مفاد میں ہے نہ ادارے کے۔‘

اس میں مزید کہا گیا کہ پاکستان فوج آئین پاکستان کی بالادستی کے اپنے عزم پر قائم ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے کہا ہے کہ عمران خان نے فیصل آباد جلسے کی تقریر میں فوج کی اعلیٰ قیادت پر سوال نہیں اٹھایا بلکہ ان سیاست دانوں کی اہلیت پر سوال اٹھایا ہے جو فوج کے حوالے سے اہم فیصلے کریں گے۔

اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان فوج کی قیادت کی حب الوطنی پر کوئی شک و شبہ نہیں ہے کیونکہ وہ پاکستان کی مٹی سے جڑے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آج خبر چھپی ہے کہ شہباز شریف لندن جائیں گے اور نواز شریف سے اگلے آرمی چیف کے نام کی منظوری لیں گے۔

انہوں نے کہا: ’پاکستان فوج کی اس سے زیادہ توہین کیا ہوگی کہ ایک مفرور شخص پاکستان کے اگلے آرمی چیف کے نام کی منظوری دے گا۔ اس سے عزت میں اضافہ ہوگا یا کمی؟‘

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ ’کیا یہ پاکستان کے مفاد میں ہوگا کہ ایسے سیاست دان جن کے مفاد ہیں اور جو پاکستان کے لیے سکیورٹی رسک ہیں وہ پاکستان کے لیے اس طرح کی تعیناتیاں کریں۔‘

فواد چوہدری نے کہا: ’ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے سیاسی افراد کے ہاتھ میں اس طرح کی فیصلہ سازی دینا، اس سے فوج کی قدر میں کمی ہوگی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ مگر پی ڈی ایم کے رہنماؤں کے فوج کے حوالے سے متنازع بیان پہلے ہی ریکارڈ پر موجود ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف پاکستان کی سب سے بڑی اور موثر آواز ہے اور خصوصاً لوئر اور مڈل کلاس، نوجوان اور خواتین کی جو پی ٹی آئی کے پیچھے کھڑے ہیں۔

اس سے قبل پاکستان میں حکومتی اتحاد نے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے پاکستان فوج کے اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف بیانات کو فوجی قیادت کے ’خلاف نفرت پھیلانے اور حساس پیشہ وارانہ امور کو متنازع بنانے‘ کی کوشش قرار دیا ہے۔

حکومتی اتحادی جماعتوں نے پیر کو ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ عوام سیلاب سے متاثر ہے جبکہ سابق وزیراعظم ’قومی اداروں اور عوام سے لڑ رہے‘ ہیں اور ’سنگین بہتان تراشی کر رہے ہیں جس کا مقصد معاشی بحالی کے عمل کو متاثر کرنا ہے‘ اور  ’فوج کے رینک اینڈ فائل میں تصادم کی راہ ہموار کرنا ہے۔‘

عمران خان نے اتوار کی شب فیصل آباد میں ایک جلسے میں کہا تھا کہ نومبر میں نئے آرمی چیف کی تعیناتی ہوگی اور ان کی حریف پیپلز پارٹی اور ن لیگ اس لیے انتخابات نہیں کروانا چاہتیں کیونکہ ’آصف زرداری اور نواز شریف اپنا فیورٹ آرمی چیف لگانا چاہتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’یہ ڈرتے ہیں کہ اگر کوئی تگڑا آرمی چیف آگیا یا محب وطن آرمی چیف آگیا تو وہ پوچھے گا ان سے تو اس ڈر سے یہ بیٹھے ہوئے ہیں کہ یہ اپنا آرمی چیف تعینات کریں گے۔‘

اتحادی جماعتوں کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان فوج حکومت کے ساتھ مل کر سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے کام کر رہی ہے اور دہشت گردی سے بھی لڑ رہی ہے جبکہ  ایک تنہا آواز ’بہتان تراشی کے ذریعے مسلسل نفرت پھیلا رہی ہے۔‘

بیان میں کہا گیا اتحادی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ معیشت کی بحالی، قومی مفادات کے تحفظ، مسلح افواج سمیت قومی اداروں اور ان کی قیادت کے آئینی احترام اور حدود کی پاسداری اور عوام بالخصوص سیلاب زدگان کی امداد، بحالی اور ریلیف کے عمل کو متاثر نہیں ہونے دیں گے۔

جماعتوں نے بیان میں کہا کہ وہ آئین اور قانون کی طاقت سے اس ’سازش‘ کو ناکام بنائیں گے اور ’سازشیوں سے آئین اور قانون کے مطابق نمٹیں گے۔‘

اپریل میں تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں حکومت ختم ہونے کے بعد سے عمران خان نے عوامی جلسوں کا سلسہ جاری رکھا ہوا ہے، جن میں ان کی تقاریر میں حکومت اور ریاستی اداروں پر تنقید بھی شامل ہوتی ہے۔

اسی تنقید کے  مدنظر پیمرا نے حالیہ ہفتوں میں سابق وزیراعظم کی لائیو تقاریر نشر کرنے پر پابندی بھی لگائی تھی جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جاری سماعت میں پیر کو چیف جسٹس اطہر من اللہ نے عمران خان کے اعلیٰ عسکری قیادت سے متعلق بیان پر ریمارکس دیے کہ افواج پاکستان سے متعلق اشتعال انگیز بیان آزادی اظہار رائے میں نہیں آتا۔

فیصل آباد جلسے کی تقریر کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے ایک ٹویٹ میں کہا کہ وہ فوج پر ’کیچڑ اچھال رہے ہیں۔‘

جبکہ پی ٹی آئی کے سینیئر رکن فواد چوہدری کا کہنا ہے عمران خان کا بیان ’فوج یا فوجی قیادت کے خلاف نہیں تھا۔‘

 

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست