سیلاب کے بعد ڈینگی سب سے بڑا خطرہ

صرف کراچی میں ڈینگی وائرس سے 30 سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں، لیکن پاکستان میں ڈینگی ویکسین کے حوالے سے حکومت کی جانب سے کوئی پیش رفت نہیں ہے۔

سات دسمبر 2021 کو کراچی کے ایک علاقے میں ڈینگی وائرس کے سدباب کے لیے سپرے کیا جا رہا ہے (اے ایف پی)

پاکستان کا ایک تہائی حصہ سیلاب سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ سندھ کے کئی اضلاع پانی میں ابھی تک ڈوبے ہوئے ہیں۔ کراچی جہاں اس سال تباہ کن بارشیں ہوئی ہیں اسے ڈینگی نے پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

اندرون سندھ، جنوبی پنجاب کے متاثرہ اضلاع میں صحت کا ڈھانچہ بھی تباہ حال ہے اس لیے نہ تو متاثرین کا ڈیٹا کہیں پر موجود ہے اور نہ ہی ان کے علاج معالجے کے لیے کسی سہولت کا امکان ہے۔ متاثرین سیلاب اس وقت ہیضہ اور ملیریا سمیت جن جان لیوا بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں ان میں ڈینگی سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ ماہرین موسمیات نے بھی خبردار کر دیا ہے کہ ڈینگی کی افزائش کے لیے جو سازگار ماحول درکار ہوتا ہے اس بار پاکستان کے بیشتر علاقوں میں نہ صرف وہ موجود ہے بلکہ اس کا دورانیہ بھی طویل تر ہو سکتا ہے۔

ڈینگی مچھر قدیم دور سے ہی دنیا میں موجود ہے۔ چینی میڈیکل انسائیکلو پیڈیا کے مطابق چین میں یہ قبل از مسیح سے موجود ہے، تاہم انیسویں اور بیسویں صدی میں یہ دنیا میں وبائی صورت اختیار کر گیا۔ اس وقت آدھی سے زیادہ دنیا ڈینگی کے خطرے سے دوچار ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا کو ہر سال ڈینگی بخار سے جو مالی نقصان ہوتا ہے اس کا تخمینہ نو ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ بنگلہ دیش، برازیل، انڈیا، انڈونیشیا، مالدیپ، نیپال، سری لنکا، تھائی لینڈ ملائشیا، ویتنام، سنگاپور اور فلپائن ڈینگی سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی سے ڈینگی بڑھنے کا خطرہ

اقوام متحدہ کے ادارے برائے موسمیاتی تبدیلی نے خبردار کیا ہے کہ ڈینگی کے لیے سازگار موسم میں اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے 2080 تک مزید ایک ارب لوگ ڈینگی کے خطرے سے دوچار ہو جائیں گے کیونکہ درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے ڈینگی کے پھلنے پھولنے کے موسم میں چار ماہ تک کا اضافہ ہو جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حالیہ سال مارچ میں عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ مچھروں کے کاٹنے سے ہونے والی بیماریاں جن میں ڈینگی، پیلا بخار، چکن گونیا اور زیکا شامل ہیں، سے دنیا کے چار ارب افراد کی زندگیوں کو براہ راست خطرہ ہے۔ ہر سال 39 کروڑ لوگ ڈینگی کا شکار ہوتے ہیں اور 130 ممالک میں اسے وبا کا درجہ دیا جا چکا ہے۔

40 ممالک میں پیلا بخار جو یرقان اور جان لیوا بخار میں تبدیل ہو جاتا ہے، اسے بھی وبا کا درجہ مل چکا ہے۔ چکن گونیا کے بارے میں کم لوگ جانتے ہیں لیکن یہ بھی 115 ملکوں میں پھیل چکا ہے جس سے لوگ جوڑوں کے امراض کا شکار ہو رہے ہیں۔ زیکا وائرس کے کیس بھی دنیا کے 89 ممالک میں سامنے آ چکے ہیں۔ ان تمام بیماریوں میں سے صرف پیلے بخار کی ویکسین موجود ہے۔

ڈینگی کی ویکسین کس مرحلے میں ہے؟

ڈینگی ویکسین کی تیاری کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ اسے پھیلانے والا ایک نہیں بلکہ چار قسم کے وائرس ہیں جن کے لیے الگ الگ ویکسین کی ضرورت تھی، تاہم سینٹ لوئس یونیورسٹی نے 1997 میں ایک ایسی ڈینگی ویکسین بنا لی جو چاروں قسم کے ڈینگی وائرس میں کارگر تھی۔ 2015 میں میکسیکو دنیا کا پہلا ملک بن گیا جس میں اس ویکسین کی منظوری دی گئی۔ امریکہ کے اندر بھی یہ ویکسین لگائی جا رہی ہے لیکن یہ صرف نو سے 16 سال کی عمر کے ان بچوں کو لگائی جاتی ہے جنہیں یا تو پہلے ڈینگی بخار ہو چکا ہو یا یہ ایسے علاقوں میں رہتے ہوں جہاں ڈینگی عام ہو۔

جن بچوں کو یہ ویکسین لگائی گئی ان میں ڈینگی بخار ہونے کا خطرہ 80 فیصد تک کم ہوا ہے اور یہ ویکسین ڈینگی کی چاروں اقسام میں موثر ثابت ہوئی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ویکسین لگانے کے تقریباً چھ سال تک ڈینگی سے تحفظ رہتا ہے۔ دو ہفتے قبل انڈونیشیا نے جرمنی کی بنی ہوئی ایک ویکسین کی منظوری دی ہے، جسے اس سے پہلے لاطینی امریکہ اور ایشیائی ممالک میں آزمایا جا چکا ہے۔

پاکستان میں ڈینگی ویکسین کب پہنچے گی؟

پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلابوں کے بعد ڈینگی کا خطرہ بہت بڑھ چکا ہے اور ہزاروں لوگ اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ صرف کراچی میں 30 سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں، لیکن پاکستان میں ڈینگی ویکسین کے حوالے سے حکومت کی جانب سے کوئی پیش رفت نہیں ہے۔ انڈیا کی دوا ساز کمپنیوں نے اپنی ویکسین تیار کر لی ہے جس کے تجربات 2017 سے جاری ہیں اور یہ تجربات اب تیسرے درجے میں داخل ہو چکے ہیں۔

اگلے دو سالوں میں انڈیا کی ویکسین مارکیٹ میں دستیاب ہو گی، لیکن پاکستان میں ہنوز دلی دور است والا معاملہ ہے۔ یہاں تو ابھی اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ ڈینگی کی تشخیص کرنے والا ٹیسٹ کتنے کا ہونا چاہیے اور اس کام کے لیے حکم نامے بھی وزیراعظم سیکرٹریٹ سے جاری ہو رہے ہیں حالانکہ یہ صوبائی معاملہ ہے جبکہ ویکسین کی منظوری اور درآمد جو کہ وفاقی معاملہ ہے اس پر لگتا ہے کوئی سوچ بچار بھی ابھی تک نہیں ہوا۔

قومی ادارہ صحت میں ڈینگی کنٹرول کا ایک ڈیپارٹمنٹ قائم ہے، لیکن نہ ہی وہ اور نہ ہی وزارتِ صحت کا کوئی متعلقہ افسر اس سوال کا جواب دینے کے لیے تیار ہے کہ پاکستان ڈینگی ویکسین کے حوالے سے کیا کر رہا ہے۔

قومی ادارہ صحت کا موقف ہے کہ وزارتِ صحت اس بارے میں جواب دے سکتی ہے لیکن وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل اور منسٹر آفس سے کئی بار رابطہ کیا گیا مگر کوئی بھی اس سوال کا جواب دینے کے لیے تیار نہیں۔ وزارتِ صحت کے پی آر او ساجد شاہ سے بھی رابطہ کیا گیا مگر انہوں نے بھی جواب نہیں دیا۔

گذشتہ برس وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل نے ٹوئٹر سپیسز کے ایک سیشن میں بتایا تھا کہ ڈینگی کی روک تھام کے لیے دو ویکسینز تجرباتی مراحل میں ہیں اور ان میں سے ایک جلد استعمال کے لیے دستیاب ہو گی، تاہم انہوں نے اس کا یا اس کو بنانے والوں کا نام بتانے سے گریز کیا اور کہا کہ یہ معلومات جلد سامنے آ جائیں گی۔ 

 

زیادہ پڑھی جانے والی صحت