ڈینگی سے بچاؤ کے لیے دو ویکسینز تیار کی جا رہی ہیں: ڈاکٹر فیصل سلطان

ایک آن لائن سیشن کے دوران وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ ڈینگی سے بچاؤ کے لیے ویکسین بنائی جا رہی ہیں، جس میں کچھ حد تک کامیابی بھی ہوئی ہے۔

17 اکتوبر  2021 کی اس  تصویر میں لاہور میں  ڈینگی کے مریضوں کے لیے  بنائے گئے ایک عارضی وارڈ میں نرسیں مریضوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہے کہ ڈینگی سے بچاؤ کے لیے دو ویکسینز تجرباتی مراحل میں ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر سپیسز میں اتوار کو ایک آن لائن سیشن کے دوران ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ ڈینگی سے بچاؤ کے لیے دو ویکسین بنائی جا رہی ہیں، جس میں کچھ حد تک کامیابی بھی ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دو یکسینز تجرباتی مراحل میں ہیں اور ان کے علم کے مطابق ان میں سے ایک جلد استعمال کے لیے دستیاب ہوگی، تاہم انہوں نے اس کا یا اس کو بنانے والوں کا نام بتانے سے گریز کیا اور کہا کہ یہ معلومات جلد سامنے آ جائیں گی۔

اس آن لائن ڈسکشن میں پاکستان اور بیرون ملک سے صحت اور وبائی امراض کے کئی ماہرین نے شرکت کی۔  

مزید سوالات کے دوران ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ ڈینگی بخار کی وجہ سے مریض کی قوت مدافعت کمزور ہو جاتی ہے اور خون میں پلیٹ لیٹس کی تعداد گر جاتی ہے۔ یہ خون میں ایسے خلیے ہوتے ہیں، جن کا اہم کردار چوٹ لگنے کی صورت میں کلوٹنگ کرنا ہوتا ہے یعنی خون بہنے کو روکنا۔  

عالمی ادارہ صحت کی ویب سائٹ کے مطابق ڈینگی کے لیے کوئی مخصوص دوا میسر نہیں، اس کی علامات کا زیادہ تر علاج بخار کم کرنے اور درد کم کرنے والی دواؤں سے کیا جاتا ہے۔ علامات زیادہ شدید ہونے کی صورت میں ہسپتال میں ڈاکٹروں کی نگرانی میں علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ مریضوں کو زیادہ سے زیادہ پانی اور جوس کا استعمال کرنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ماضی میں اگر آپ کو ڈینگی ہوا ہے تو دوسری بار ڈینگی بخار زیادہ شدت کا ہو سکتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ملک بھر میں پیناڈول کی مانگ اور قیمت میں اضافے پر ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ پیناڈول یا پیراسٹامول کی قیمت میں اضافہ بین الاقوامی منڈی میں قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے ہوا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یقینی طور پر ڈینگی بخار کے پھیلاؤ کی وجہ سے بھی اس دوا کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ ’ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اس کو کنٹرول کر سکیں۔‘

دیگر ماہرین صحت نے کہا کہ اگر ابتدائی طور پر تشخیص ہو تو خطرناک جان لیوا ڈینگی بخار سے بچا جاسکتا ہے۔

پینل ڈسکشن میں شریک ڈاکٹر کاشف نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں مچھروں کے خلاف سپرے کی بروقت مہم سے بھی ڈینگی کے پھیلاؤ کا خطرہ روکا جاسکتا ہے۔

گذشتہ کچھ ماہ میں پاکستان میں کرونا وائرس کی وبا میں کمی آئی تو مچھر کے کاٹنے سے پھیلنے والے ڈینگی بخار نے سر اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ خصوصاً ستمبر سے ڈینگی کیسز میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔

اب تک وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں چار ہزار سے زائد ڈینگی کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جبکہ محکمہ صحت کے مطابق ڈینگی کے باعث ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 19 ہوگئی ہے۔

اس وقت وفاقی دارالحکومت کے دیہی علاقوں میں 2480 افراد  ڈینگی کا شکار ہیں جبکہ شہری علاقوں میں ڈینگی کے 1871مریض موجود ہیں۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں ڈینگی کے 25 ہزار سے زائد کیس ریکارڈ ہو چکے ہیں۔

ڈاکٹروں کا ڈیٹا بیس

پاکستان کے طبی نظام کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ حکومت چاہ رہی ہے کہ ڈاکٹروں کے نسخے جنیریک پریسکپشن ہوں یعنی دوا کے فارمولا کا نام درج ہو نہ کہ برانڈ کا، جس سے قیمت پر کنٹرول میں آسانی ہوگی کیونکہ کسی برانڈ کی مشہوری نہیں ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان نے طبی ماہرین کو جنیریک پریسکپشن کی تجویز دے رکھی ہے اور منصوبہ بنایا جا رہا ہے کہ ایک موبائل ایپلیکشن بنائی جائے، جس کے ذریعے ڈاکٹر نسخہ جاری کر سکیں۔

ڈاکٹر فیصل نے مزید بتایا کہ ایسا کرنے کے لیے تمام ڈاکٹروں کا ڈیٹا آن لائن موجود ہونا ضروری ہے جو ابھی مکمل طور پر موجود نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میڈیکل کمیشن نے کافی حد تک ڈیٹا اپ لوڈ کر دیا ہے اور کچھ ماہ تک شناختی کارڈز کی تفصیلات کے ساتھ ان کا سارا ڈیٹا بھی سسٹم میں موجود ہوگا۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت