پاکستان میں سیلاب، یو این کی 80 کروڑ ڈالر کی نظرثانی امداد کی اپیل آج

تقریب میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے علاوہ قدرتی آفات سے پیدا ہونے والی صورت حال میں امدادی کام کرنے والی انسانی تنظیمیں اور اقوام متحدہ کے مختلف ادارے شرکت کریں گے۔

پانچ ستمبر 2022 کو صوبہ سندھ کے شہر سکھر میں مون سون بارشوں کے بعد سیلاب کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد سڑک کنارے اپنے خیموں کے باہر بیٹھے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ ملک میں سیلاب کی صورت حال کے ضمن میں ضروریات کے تازہ تخمینے کی بنیاد پر آج جنیوا میں مشترکہ طور پر 80 کروڑ ڈالر کی فوری امداد کی اپیل جاری کر رہے ہیں۔

اس موقع پر تقریب میں حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ کے قریبی اشتراک سے تیار کیا جانے والا سیلاب کی امدادی کارروائیوں کا نظرثانی شدہ منصوبہ پیش کیا جائے گا۔

منصوبے میں تباہ کن سیلابوں سے متاثر ہونے والے افراد کو ضروری معاونت فراہم کرنے پرتوجہ مرکوز کی گئی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کی وزیر شیری رحمان اس موقع پر شریک ہوں گی جبکہ منصوبہ بندی اور ترقی کے وزیر احسن اقبال، اقتصادی امور کے وزیر ایاز صادق اور خارجہ امور کی وزیر مملکت حنا ربانی کھر اسلام آباد سے آن لائن شرکت کریں گے۔

اس سے قبل اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ اس نے موسمیاتی تبدیلیوں سے آنے والے سیلاب کی تباہ کاریوں سے نبرد آزما پاکستان کے لیے انسانی امداد کی اپیل میں پانچ گنا اضافہ کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ نے ابتدائی امداد کی اپیل 16 کروڑ ڈالر سے بڑھا کر اب 81 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کر دی ہے۔

حالیہ سیلاب سے پاکستان بھر میں اربوں روپے کے نقصانات کے علاوہ 1700 افراد جان سے بھی گئے۔

پاکستان کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ افسر جولین ہارنائس نے جنیوا میں گذشتہ دنوں ایک بریفنگ کے دوران بتایا کہ اقوام متحدہ نے پاکستان کے لیے امداد کی اپیل کو 81 کروڑ 60 ڈالر کیا ہے کیوس کہ ’ہم موت اور تباہی کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔‘

انسانی بنیادوں پر امداد کے امور کے بارے میں اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل اور ہنگامی امداد کے رابطہ کارمارٹن گرفتھس عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کے علاوہ پاکستان میں ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر جولین ہارنیئس اقوام متحدہ کی آج نمائندگی کریں گے۔

اس تقریب میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے علاوہ قدرتی آفات سے پیدا ہونے والی صورت حال میں امدادی کام کرنے والی انسانی تنظیمیں اور اقوام متحدہ کے مختلف ادارے شرکت کریں گے۔

ادھر اقوام متحدہ میں پاکستان نے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات، کورونا وائرس سے بحالی، پائیدار ترقیاتی اہداف اور غربت کے خاتمے کی روک تھام کے چیلنجوں سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا ہے جن کے غریب ترین ملکوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیراکرم نے جنرل اسمبلی کے معاشی اور مالیاتی امور کی کمیٹی میں 77کے گروپ اور چین کی طرف سے ایک مباحثے میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہاکہ حالیہ جغرافیائی سیاسی کشیدگیوں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات نے جو پاکستان میں حالیہ سیلابوں کے تناظر میں بری طرح محسوس کیے جا رہے ہیں دنیا بھر کے ملکوں اور عوام کی پسماندگی میں اضافہ کیا ہے۔

پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے بھی اسلام آباد میں ہالینڈ، ڈنمارک، سوئٹزرلینڈ، فن لینڈ، زمبابوے اور سینی گال کے سفیروں کی طرف سے اسناد سفارت پیش کرنے کی تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان میں سیلاب زدگان کی امداد، بحالی اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی تعمیرنو میں اپنا تعاون تیز کریں۔

انہوں نے کہا کہ زہریلی گیس کے اخراج کے باعث حالیہ شدید ترین سیلاب آئے جبکہ گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن اسے غیرمعمولی سیلابوں، جنگلات میں آتشزدگی، گرمی کی شدید لہر اور قحط سالی کی صورت میں ماحولیاتی تبدیلی کے حملوں کا سامنا ہے۔

صدر نے ان ملاقاتوں کے دوران کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی روک تھام اور زہریلی گیسوں کا اخراج ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی اشتراک عمل کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو پاکستان سمیت خطرات سے دوچار ملکوں کی مدد کا عہد کرنا چاہیے تاکہ ان میں ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا ہو سکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت