کیا کشور کمار نے مدھوبالا کی خاطر اسلام قبول کیا تھا؟

مہیر بوس اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ کشور کمار پردے پر بالی وڈ کے عظیم آدمی تھے لیکن وہ اپنی ذاتی زندگی میں ’ایک آفت‘ تھے۔

کشور کمار اور مدھو بالا فلم چلتی کا نام گاڑی کے ایک سین میں ایک ساتھ (سکرین گریب/ ٹائمز آف انڈیا)

یہ غالباً 1957 کی بات ہے جب فلم ’چلتی کا نام گاڑی‘ کی عکس بندی جاری تھی۔ اس میں کشور کمار، ان کے بڑے بھائی اشوک کمار اور انوپ کمار کے علاوہ اداکاراؤں میں سے ملکہ حسن مدھوبالا نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اسی فلم کی عکس بندی کے دوران کشور کمار اور مدھو بالا میں قربت بڑھنے لگی اور دونوں نے ہمیشہ کے لیے ایک ہونے کی قسمیں کھائیں۔

ان کے ایک دوسرے کے قریب آنے کی ظاہری وجوہات یہی رہیں کہ مدھو بالا کو دلیپ کمار سے ترکِ الفت و قطعِ تعلقی اور عارضہ قلب نے جسمانی و نفسیاتی طور پر توڑ کر رکھ دیا تھا۔ وہ ایک اچھے جیون ساتھی کی مشتاق تھیں۔

وہیں کشور کمار اور ان کی بیوی روما گوہا ٹھاکرتا تقریباً علیحدگی اختیار کر چکے تھے لہٰذا انہیں بھی ایک اچھے ساتھی کی درکار تھی۔

یکم جنوری 1958 کو ’چلتی کا نام گاڑی‘ کی ریلیز کے کم و بیش پونے تین سال بعد جب دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئے تو بیان کیا گیا ہے کہ کشور کمار نے مدھو بالا کی خاطر مذہب اسلام اختیار کیا اور اپنا نام بدل کر کریم عبد اور بعض بیانات کے مطابق عبد اللہ رکھا۔

رمیش داور اپنی کتاب ’بالی: یسٹر ڈے ٹو ڈے ٹو مارو‘ میں لکھتے ہیں کہ ’فلم چلتی کا نام گاڑی کی عکس بندی کے دوران مدھو بالا کا مشہور زمانہ گلوکار و اداکار کشور کمار کی طرف جھکاؤ نظر آیا اور بالآخر دونوں نے 1960 میں شادی کر لی۔‘

’کہا جاتا ہے کہ مدھو بالا کو بھارت بھوشن، پردیپ کمار، شمی کپور اور کشور کمار کی طرف سے بھی شادی کی پیشکشیں موصول ہوئی تھیں، لیکن انہوں نے کشور کمار کا انتخاب کیا جنہوں نے ان سے شادی کرنے کے لیے اسلام قبول کر لیا۔‘

ڈاکٹر پیوش رائے اپنی کتاب ’بالی وڈ ایف اے کیو: آل ڈیٹ از لیفٹ ٹو نو اباوٹ دا گریٹسٹ فلم سٹوری نیور ٹولڈ‘ میں لکھتے ہیں کہ دلیپ کمار سے رشتہ ٹوٹنے کے بعد ’شکستہ دل‘ مدھو بالا کے لیے کشور کمار شاید وہ واحد شخص تھے جو انہیں ہنسا سکتے تھے۔

’کشور کمار نے اس مسلمان اداکارہ سے شادی کرنے کے لیے اسلام قبول کر لیا اور اپنا نام تبدیل کر کے کریم عبد رکھ لیا۔‘

انڈیا سے شائع ہونے والے میگزین ’آوٹ لُک‘ نے اگست 2018 میں کشور کمار کے 89 ویں یوم پیدائش پر ایک خصوصی تحریر شائع کی۔

اس تحریر میں صحافی اور میگزین کی اس وقت کی ایڈیٹر لچھمی دیب رائے نے کشور کمار کے مدھو بالا کے لیے مذہب اسلام اختیار کرنے اور اپنا نام بدل کر کریم عبد رکھنے کو ان کی زندگی کی ایک ایسی حقیقت قرار دیا ہے جس سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔

’مدھوبالا: ہر ریئل لائف سٹوری‘ کی مصنفہ منجو گپتا نے مدھو بالا کی بہن شاہدہ قاضی کے حوالے سے لکھا کہ ’آپا کو (دلیپ کمار سے) پہلے فلم انڈسٹری کے ہی پریم ناتھ (ملہوترا) سے پیار ہوا تھا۔ یہ رشتہ محض چھ ماہ تک قائم رہ پایا۔ اسے مذہب کی بنیاد پر ختم کیا گیا۔ پریم نے مدھو کو مذہب تبدیل کرنے کو کہا تھا لیکن اس نے انکار کر دیا۔‘

انیس امروہوی نے اپنی کتاب ’وہ بھی ایک زمانہ تھا‘ میں لکھا ہے کہ کشور کمار نے اسلام قبول کرنے پر اپنا نام کریم عبد نہیں بلکہ عبد اللہ رکھ لیا تھا۔ 

’کشور بھائی نے مذہب تبدیل نہیں کیا‘

مدھو بالا کی چھوٹی بہن مدھر بھوشن نے رواں سال جولائی میں ای ٹائمز (انٹرٹینمنٹ ٹائمز) کو ایک ویڈیو انٹرویو میں بتایا کہ مدھو بالا اور کشور کمار کی کورٹ میرج ہوئی تھی اور اس بات میں حقیقت نہیں کہ آخر الذکر نے مذہب تبدیل کیا تھا۔

’ہمارے والد عطا اللہ خان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک سخت انسان تھے۔ اگر وہ سخت ہوتے تو ہماری دوسرے دھرم کے لوگوں سے شادی نہیں کراتے۔ میری شادی ایک ہندو پنجابی سے ہوئی ہے۔ الطاف اور کنیز فاطمہ بلسارا کی پارسی، چنچل کی پنجابی اور مدھو آپا کی ایک بنگالی سے ہوئی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’ہمارا خاندان کاسموپولیٹن ہے۔ ہمارے خاندان میں ہر مذہب کے لوگ ہیں۔ عطا اللہ صاحب نے مدھو کی کشور کمار سے شادی کی مخالفت نہیں کی۔ دراصل میرے والد نے تجویز دی تھی کہ دونوں لندن سے واپس آ کر ہی شادی کریں لیکن کشور بھائی اور مدھو آپا اس کے حق میں نہیں تھے۔‘

’دونوں نے کورٹ میرج کی۔ یہ جو کہتے ہیں نا کہ کشور بھائی مسلمان ہو گئے تھے اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ وہ بنگالی ہندو تھے اور بنگالی ہندو کی حیثیت سے ہی دنیا سے چلے گئے۔ میرے والد نے کبھی کسی کے مذہب تبدیلی پر زور نہیں دیا۔ ہم بہنوں سے شادی کرنے والے کسی بھی شخص نے مذہب تبدیل نہیں کیا۔‘

مدھر بھوشن کے مطابق لندن میں ہی معلوم چلا تھا کہ مدھو بالا کے دل میں سوراخ ہے۔

’ممبئی میں ڈاکٹروں کی طرف سے اس کی تشخیص نہیں ہو پائی تھی۔ جب وہ لندن سے واپس آئے تو کشور بھائی نے میرے والد سے آ کر کہا کہ مدھو کے دل میں سوراخ ہے اور اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔ میری ماں یہ سن کر بے ہوش ہو گئی تھیں۔ ہم سب بہنیں رونے لگیں کہ اب کیا ہو گا۔

’کشور بھائی نے یہ بھی بتایا تھا کہ یہ اب صرف دو سال تک زندہ رہ پائیں گی۔ مدھو شوٹنگ پر جانے پر بضد تھیں لیکن کشور بھائی نے کہا کہ یہ مذاق نہیں ہے۔ کم از کم چھ ماہ تک آرام کرو۔ وہ پھر نو سال تک دربستر رہیں۔ ہم ناقابلِ بیان صدمے میں تھے۔ ہم روز روتے تھے۔ میرے والد کی تو حالت ہی غیر ہوئی تھی۔‘

اصل حقیقت جاننے کے لیے جب انڈپینڈنٹ اردو نے مدھو بالا کی ہندی زبان میں ’مدھوبالا: درد کا سفر‘ کے نام سے تفصیلی سوانح عمری لکھنے والی سشیلا کماری سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا: ’فی الحال میں آپ کو کوئی تفصیلات فراہم کر سکتی ہوں نہ کتاب یا اس کی سافٹ کاپی دے سکتی ہوں۔

’میری کتاب پر مبنی مدھو بالا کی بایوپک بن رہی ہے۔ اس کو بالی وڈ فلم پروڈیوسر ٹوٹو شرما بنا رہے ہیں۔ چوں کہ اس فلم میں مدھو بالا کی زندگی کے ہر گوشے کا احاطہ کیا گیا ہے لہٰذا پروڈیوسر صاحب نے مجھے میڈیا سے بات نہ کرنے کو کہا ہے۔ آپ کو اپنے سوال کا جواب فلم دیکھنے پر ضرور ملے گا۔‘

گنگولی خاندان نے مدھو بالا کو قبول نہیں کیا

ڈاکٹر پیوش رائے نے لکھا ہے کہ کشور کمار کے والدین شادی کی تقریب میں شریک نہیں ہوئے اور دونوں نے کمار کی فیملی (گنگولی خاندان) کو خوش کرنے کے لیے ہندو رسم و رواج کے مطابق بھی شادی کی رسومات انجام دی تھیں۔

’لیکن یہ سب کرنے کے باوجود گنگولی خاندان نے مدھو بالا کو کبھی اپنی بہو کے طور پر قبول نہیں کیا۔ شادی کے ایک ماہ کے اندر ہی وہ اپنے والد کے بنگلے میں واپس رہنے لگیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم منجو گپتا اپنی کتاب میں گنگولی خاندان کی ناراضگی کا مدھو بالا کے اپنے والد کے گھر واپس آنے کی وجہ ہونے کی نفی کرتی ہیں۔

وہ فلم رائٹر اور ڈائریکٹر ابرار علوی کے حوالے سے لکھتی ہیں: ’مدھو بالا اس وجہ سے اپنے والد کے گھر واپس چلی آئیں کیوں کہ ان کا کمزور دل کشور کمار کے گھر، جو ہوائی اڈے کے بالکل نزدیک واقع تھا، کے اوپر سے کم بلندی پر اڑنے والے ہوائی جہازوں کی آواز برداشت نہیں کر پایا۔‘

’وہ سہاگن کے طور پر مرنا چاہتی تھیں‘

انیس امروہوی لکھتے ہیں کہ فلم ’مغلِ اعظم‘ کی تکمیل کے سلسلے میں انتھک محنت نے مدھو بالا کو اندر سے کھوکھلا کر دیا تھا اور ’مستقل بیماری و فرسٹیشن کی شکار مدھوبالا نے خود کو سزا دینے کے طور پر کشور کمار سے شادی کر لی۔‘

’دراصل مدھو بالا کی یہ خواہش تھی کہ وہ ایک سہاگن کے طور پر مریں۔ کشور کمار علاج کے لیے مدھو بالا کو لندن بھی لے گئے۔ مگر وہاں ڈاکٹروں نے ان کے دل کی سرجری کرنے سے اس لیے منع کر دیا کیوں کہ ان کو یہ خطرہ تھا کہ مدھو بالا آپریشن کے درمیان ہی مر سکتی ہے۔

’دھیرے دھیرے تقریباً تمام ڈاکٹروں نے جواب دے دیا۔ اسے برابر خون کی الٹیاں ہوتی رہیں اور آخر کار 23 فروری 1969 کو وہ گھڑی آن پہنچی جب مدھو بالا نے نہایت بے بسی کے عالم میں کشور کمار سے کہا کہ میں مرنا نہیں چاہتی، مجھے بچا لو۔ یہ ان کے آخری الفاظ تھے اور پھر چند لمحوں بعد ہی ’مغل اعظم‘ کی انار کلی کو زندہ کرنے والی مدھو بالا نے اپنے خالق حقیقی کو لبیک کہا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آنکھیں موند لیں۔‘

رمیش داور لکھتے ہیں کہ مدھو بالا پیدائشی طور پر ہی دل کے عارضے میں مبتلا تھیں، تاہم دل میں سوراخ کی تشخیص کے بعد انہوں نے بہادری دکھائی اور اپنی بیماری کو کئی برسوں تک انڈسٹری سے پوشیدہ رکھا۔

’انہیں اکثر سیٹ پر کھانسی کے دوران خون کی الٹیاں آتی تھیں اور وہ تقریباً نو سال تک بستر تک ہی محدود رہیں۔ وہ اپنے زمانے کی سب سے زیادہ ہمہ گیر اداکاراؤں میں سے ایک تھیں۔ انہوں نے اپنے فلمی کریئر میں کم و بیش 70 فلموں میں کام کیا۔

’کشور کمار اور مدھوبالا نے 1960 میں ’محلوں کے خواب‘، 1961 میں ’جھمرو‘ اور 1962 میں ’ہاف ٹکٹ‘ میں ایک ساتھ مل کر کام کیا۔‘

’کشور کمار ایک آفت تھے‘

مہیر بوس اپنی کتاب ’بالی وڈ: اے ہسٹری‘ میں لکھتے ہیں کہ اگر کشور کمار پردے پر بالی وڈ کے عظیم آدمی تھے لیکن وہ اپنی ذاتی زندگی میں ’ایک آفت‘ تھے۔

’انہوں نے چار شادیاں کیں۔ پہلی بیوی کو طلاق دی۔ دوسری بیوی خوبصورت مدھو بالا کو دفنایا۔ تیسری سے شادی صرف ایک ماہ تک چل پائی اور چوتھی بیوی ان کے بیٹے امت سے محض دو سال بڑی تھیں۔‘

انیس امروہوی اپنی دوسری کتاب ’وہ جن کی یاد آتی ہے‘ میں کشور کمار کی چار شادیوں کی تفصیل کچھ یوں بیان کرتے ہیں: ’پہلی بیوی روما دیوی (روما گوہا ٹھاکرتا) سے ایک لڑکا امت کمار ہے، جو خود بھی گلوکار ہے۔

’روما دیوی سے طلاق کے بعد کشور کمار نے سلور سکرین کی وینس مدھو بالا سے شادی کی لیکن وہ زیادہ عرصہ تک زندہ نہ رہ سکیں۔ مدھو بالا کی موت کے بعد کشور کمار نے اداکارہ یوگیتا بالی سے شادی کی لیکن دونوں میں زیادہ دنوں تک بن نہیں پائی اور جلد ہی دونوں کی طلاق ہو گئی۔

’کشور کمار کی چوتھی بیوی اداکارہ لینا چنداورکر سے بھی ایک لڑکا ہے۔ اس کے علاوہ کشور کمار اور اداکارہ سلکھشنا پنڈت میں کافی عرصہ تک رومانس چلا۔ دونوں کے شادی جیسے مقدس رشتے میں بندھنے کی خبر آنے والی تھی مگر دونوں کے مزاج میں زمین آسمان کا فرق ہونے کی وجہ سے دونوں ایک دوسرے سے الگ ہو گئے۔‘

’نو سال تک مدھو کی تیمارداری کی‘

کشور کمار کا ایک انٹرویو دہلی سے نکلنے والے اپنے زمانے کے معروف نیم ادبی اور فلمی اردو میگزین ’شمع‘ کے دسمبر 1987 کے شمارے میں شائع ہوا۔ یہ انٹرویو ’مسافر‘ کے قلمی نام سے اس میگزین میں معمول کا فلمی کالم ’ستاروں کی دنیا‘ لکھنے والے ادریس دہلوی نے لیا تھا، جن کے ہندی فلم انڈسٹری سے وابستہ شخصیات سے قریبی روابط تھے۔

مسافر (ادریس دہلوی) نے لکھا ہے کہ انہوں نے ایک دفعہ کشور کمار کے اچھے موڈ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان سے ان کی بیویوں کے بارے میں پوچھا تو موصوف نے بلا تکلف بولنا شروع کر دیا: ’میری پہلی بیوی روما (روما گوہا ٹھاکرتا) تھی۔ شادی کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ ہم دونوں کے نقطۂ نظر میں کافی تضاد ہے۔ روما کو اپنے گھر کے ساتھ اپنے کریئر کی بھی فکر تھی۔ جب کہ مجھے ایک ایسے جیون ساتھی کی ضرورت تھی جو صرف گھر کی دیکھ بھال کرے۔ میں ٹھہرا سیدھا سادھا دیہاتی انسان، میں ان جھمیلوں کو کیسے برداشت کر سکتا تھا کہ بیوی کو گھر سے زیادہ اپنے کریئر کی فکر ہو۔

’میرے نزدیک تو بیوی کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے خاوند، اپنے گھر اور اپنے بچوں کی ہو کر رہے اور پھر ایک گرہستی عورت کے لیے یہ مشکل بھی ہے کہ وہ ایک ساتھ اتنے کام آسانی کے ساتھ نبھا سکے، یہی وجہ تھی کہ ہمارے راستے جدا ہو گئے۔

’مدھوبالا سے جس زمانے میں، میں نے شادی کا وعدہ کیا تھا ان دنوں بھی وہ بیمار تھیں اور جب میں نے شادی کی تو ان دنوں تو وہ بہت زیادہ بیمار تھی۔ مگر میں نے شادی کا وعدہ کیا تھا لہٰذا اسے پورا کیا۔ حالاںکہ اس حقیقت سے میں پوری طرح واقف تھا کہ میں جس عورت کو اپنی بیوی بنا رہا ہوں وہ دل کی مریضہ ہے اور ہر پل اس کی زندگی موت کی طرف بڑھ رہی ہے۔

’نو سال تک میں نے مدھو بالا کی تیمارداری کی۔ میں اسے اپنی آنکھوں کے سامنے مرتے ہوئے دیکھتا رہا۔ مدھو جتنی حسین عورت تھی اس سے زیادہ الم ناک زندگی اس نے گزاری، اسی طرح نہایت تکلیف دہ اس کی موت ثابت ہوئی۔

’بیماری سے پہلے مدھو بالا کتنی مصروف رہتی تھی مگر یہی مصروف عورت نو سال تک بستر پر پڑی رہی اور ان تمام برسوں میں مدھو کے قریب رہا۔ اسے ہنساتا تھا، اسے لطیفے سناتا تھا تاکہ موت کے قریب کھڑی مدھو کو یہ احساس نہ ہو کہ اس کا اس دنیا میں کوئی نہیں۔

’میں یوگیتا بالی سے اپنی شادی ایک مذاق سمجھتا ہوں۔ میری رائے میں یوگیتا نے شادی کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ اسے اپنے شوہر اور گھر کی بجائے ہمیشہ اپنی ماں کا خیال لگا رہتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ شادی کے بعد بھی وہ زیادہ وقت اپنی ماں کے ساتھ گزارتی تھی۔ اچھا ہی ہوا کہ ہم دونوں نے جلد ہی اپنے راستے بدل لیے۔

’لینا چنداورکر بھی حالاںکہ فلم ایکٹریس ہے مگر سب سے جدا، سب سے مختلف۔ لینا کے پہلے شوہر سدھارتھ بندورکر کی اچانک موت نے لینا کو بدل کر رکھ دیا۔ وہ زندگی کا مفہوم سمجھ گئی۔ اس حادثے نے لینا کو سنجیدگی اور متانت کی تصویر بنا دیا۔ لینا کی صورت میں مجھے ایک آئیڈیل بیوی مل گئی جسے ہر دم میری، گھر کی اور بچوں کی فکر رہتی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی فلم