ورلڈ کپ فائنل: امپائر نے اضافی رن دینے کی ’غلطی‘ تسلیم کرلی

مجھے ٹیلی ویژن ری پلے کی سہولت میسر نہیں تھی، جس سے پتہ چلتا کہ انگلینڈ کے ایک بلے باز نے دوسرے کو کراس نہیں کیا تھا۔ اب ری پلے دیکھنے کے بعد اتفاق کرتا ہوں کہ مجھ سے غلطی ہوئی، کمار دھرما سینا

انگلش بلے باز   بین سٹوکس کے بلے  سے ٹکرانے کے بعد  گیند باؤنڈری لائن پار کر گئی جس سے انگلینڈ کو چار رنز مزید ملے (اے ایف پی)

کرکٹ ورلڈ کپ 2019 کے فائنل کے آخری اوور میں غیرمعمولی اوور تھرو پر انگلینڈ کو چھ رنز دینے والے امپائر نے اپنی ’غلطی‘ تسلیم کرلی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں انگلینڈ کو پانچ رنز دینے چاہیے تھے۔

14 جولائی کو کھیلے گئے فائنل میں انگلینڈ کے بلے باز بین سٹوکس آخری اوور میں دوسرا رن لینے کے لیے دوڑے تو نیوزی لینڈ کے فیلڈر مارٹن گپٹل کی تھرو پر دوسرا رن لیتے ہوئے بین اسٹوکس نے ڈائیو لگائی، جس پر گیند اُن کے بلے سے لگ کر باؤنڈری کے باہر چلی گئی اور سری لنکا سے تعلق رکھنے والے امپائر کمار دھرما سینا نے انہیں چھ رنز دے دیئے۔

مزید تین گیندوں کے بعد 50 اوورز پر میچ ٹائی ہو گیا کیونکہ انگلینڈ کی ٹیم بھی 241 رنز بنا کر اپنی اننگز کی آخری گیند پر آل آؤٹ ہو گئی۔ اُس وقت آٹھ کھلاڑی آؤٹ پر نیوزی لینڈ کے بھی 241 رنز تھے۔

جس کے بعد سپر اوور کرایا گیا، تاہم میچ ایک بار پھر ٹائی ہو گیا لیکن زیادہ باؤنڈریز کی بدولت ٹرافی انگلینڈ کو مل گئی۔

دیگر ناقدین سمیت سابق بین الاقوامی امپائر سائمن ٹافل نے بھی یہ نکتہ اٹھایا کہ امپائر کو انگلینڈ کو چھ نہیں بلکہ پانچ رنز دینے چاہیے تھے کیونکہ جب مارٹن گپٹل نے تھرو کی تھی، اُس وقت دونوں بلے بازوں نے دوسرے رن کے لیے ایک دوسرے کو کراس نہیں کیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امپائر کمار دھرما سینا نے اتوار کو اخبار سنڈے ٹائمز کو بتایا کہ انہیں ٹیلی ویژن ری پلے کی سہولت میسر نہیں تھی، جس سے پتہ چلتا کہ ایک بلے باز نے دوسرے کو کراس نہیں کیا تھا۔

انہوں نے کہا: ’اب ٹی وی ری پلے دیکھنے کے بعد میں اتفاق کرتا ہوں کہ مجھ سے صورت حال کو سمجھنے میں غلطی ہوئی۔‘

تاہم کمار دھرما سینا کے مطابق: ’گراؤنڈ میں ہمیں ٹی ری پلے کی سہولت میسر نہیں ہوتی، لہذا انہوں نے جو فیصلہ دیا اس پر انہیں افسوس نہیں ہے۔‘

سری لنکن امپائر کے مطابق انہوں نے دوسرے امپائر سے مشورہ کرکے چھ رنز کا اشارہ دیا۔ ’میں نے لیگ امپائر (مریس ایراسمس) سے رابطہ کیا۔ میری بات تمام دوسرے امپائرز اور میچ ریفری نے بھی سنی۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’ایسے میں جبکہ وہ ٹیلی ویژن ری پلے نہیں دیکھ سکتے۔ ان سب نے تصدیق کی کہ بلے بازوں نے دوسرا رن مکمل کر لیا ہے۔ اُس وقت میں نے اپنا فیصلہ کیا۔‘

اس سے قبل سابق امپائر سائمن ٹوفل بھی کہہ چکے ہیں کہ ’امپائرز کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ انہیں بلے بازوں کے دوڑنے پر بھی نظر رکھنی ہوتی ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ فیلڈر نے کب بال اٹھائی اور کب پھینکی۔ ساتھ ہی یہ بھی نظر رکھنی ہے کہ عین اس وقت بلے باز کہاں ہیں۔’

ان کا مزید کہنا تھا: ’جو کچھ ہو رہا تھا اس میں کمار دھرما سینا نے سوچا ہوگا کہ یہ قوی امکان ہوگا کہ فیلڈر کی جانب سے گیند پھینکے جانے کے وقت دونوں کھلاڑیوں نے ایک دوسرے کو کراس کر لیا ہو۔‘

دوسری جانب اس معاملے پر نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن کا کہنا تھا کہ ایسا ہونا ’کھیل کا حصہ‘ ہے۔
 

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ