سندھ کی ثقافت کو کیمرے میں بند کرنے والا ایمانوئل گڈو سنگھ

بچپن میں گڈو کے ماموں کا کیمرا ان کی زندگی میں سب سے بڑی تبدیلی لانے کا سبب بنا۔ آج گڈو کا فن، ان کا شوق اسی تحفے کے مرہون منت ہے۔

گڈو مان سنگھ کی شریک حیات جمنا اور گھر والے ویسے تو ان کے شوق کو پسند کرتے ہیں لیکن کم آمدنی کی وجہ سے انہوں نے بہت دفعہ اس پیشے کو چھوڑنے کا سوچا (ایمانوئل گڈو مان سنگھ)

ایمانوئل گڈو مان سنگھ کے نام سے ہی ظاہر ہے کہ وہ پاکستان کی اقلیتی مسیحی برادری سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ان کی وجہِ شہرت یہ نہیں بلکہ ان کی فوٹو گرافی اور دستاویزی فلمیں یا ڈاکومینٹریز بنانا ہے۔

مان سنگھ سندھ کے مٹتے ہوئے آثار قدیمہ، تاریخی مساجد، صوفیا کے مزار، ہندو اور جین مت مندروں اور پورے سندھ کی معدوم ہوتی ہوئی ثقافت کو کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کررہے ہیں۔

ان کا ماننا ہے کہ سندھ کی تاریخ اور ثقافت بہت متنوع ہے اور اسے دنیا کے سامنے آنا چاہیے۔

سندھ کے پسماندہ علاقوں میں پلنے بڑھنے اور صرف میٹرک تک واجبی تعلیم کے باوجود گڈو مان سنگھ بہت اچھی انگریزی بول لیتے ہیں۔ ان کی معیاری عکس بندی اور ڈاکومنٹریز کوان کے انسٹاگرام اکاؤنٹ کے ذریعے ساری دنیا میں سراہا جا رہا ہے اور متعدد غیر ملکی ان کے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے متاثر ہو کر سندھ کا دورہ کر چکے ہیں۔

تاہم ان کی ماہانہ آمدنی صرف پندرہ ہزار روپے ہے۔ ان کہنا ہے ’انہیں کوئی ایک لاکھ روپے ماہانہ بھی دے تو یہ فوٹوگرافی نہیں چھوڑیں گے۔‘

مان سنگھ کے مطابق، اُن کی کچھی کولہی برادری کے 99 فیصد لوگ آج بھی ہندو مذہب کے پیروکار ہیں جب کہ ایک فیصد تقسیم کے بعد کیتھولک مشنریز کی کوششوں سے عیسائی ہو گئے۔

ان کے دادا نے تقسیم کے بعد عیسائی مذہب قبول کیا البتہ مذہبی فرق کے باوجود ان کا رشتہ آج بھی اپنی برادری سے قائم ہے۔

ایک قدیم جین مندر: تھر کی زرخیز تاریخ کی مٹتی ہوئی نشانی (ایمانوئل گڈو مان سنگھ)

گڈو مان سنگھ کے بچپن میں ان کے والد ملازمت کے سلسلے میں سندھ کے شہر ٹنڈوالہ یار کے سینٹ جوزف چرچ سے وابستہ تھے۔ ان کی رہائش چرچ کے کمپاؤنڈ میں ہوتی تھی اور یہی کمپاؤنڈ تاریخ سے ان کی دلچسپی اور انگریزی زبان سے واقفیت کا ذریعہ بنا۔ ان کا کہنا ہے: ’وہاں غیرملکی مشنری آ کر ٹھہرتے تھے، ان سے بات چیت کی وجہ سے میں انگریزی اچھی بول اور سمجھ لیتا ہوں۔‘

اسی چرچ میں انہیں نیشنل جیوگرافک میگزین کے شمارے دیکھنے کا موقعہ ملا، جس سے ان کی تاریخ، دنیا کے مختلف خطوں کی ثقافت اورآثار قدیمہ میں دلچسپی بڑھی۔ جب یہ افریقہ کے مختلف ممالک کی ثقافت کی تصاویر دیکھتے توسوچتے کہ سندھ کی متنوع ثقافت کو بھی اسی طرح دنیا کے سامنے آنا چاہیے۔

بچپن میں گڈو کے ماموں کا کیمرا ان کی زندگی میں سب سے بڑی تبدیلی لانے کا سبب بنا جو آج ان کی پہچان ہے۔

آج گڈو کا فن اسی تحفہ کے مرہون منت ہے۔ ان کی زندگی میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب 2010 میں پاکستان میں سیلاب آیا۔ انہیں کسی نے بتایا کہ ایک این جی او کو اپنی فلاحی سرگرمیوں کی تشہیر کے لیے ایک فوٹو گرافر کی ضرورت ہے۔ گڈو نے اس این جی او کے لیے اگلے آٹھ سال تک کام کیا۔

ان کا کہنا ہے: ’جب میں پہلی دفعہ کشتی میں بیٹھ کر سیلاب کی تباہی کی منظر کشی کرنے گیا تو مکانوں کی صرف چھتیں نظر آ رہی تھیں‘۔ اس وقت انہیں ڈی ایس ایل آر (پروفیشنل ) کیمرے کا استعمال نہیں آتا تھا۔ انہوں نے ساری تصویریں آٹومیٹک آپشن استعمال کرتے ہوئے لیں۔

گڈو کے مطابق بعد میں یوٹیوب وڈیوز دیکھ کر اور کچھ دوستوں کی مدد سے انہوں نے ڈی ایس ایل آر کیمرے کا استعمال سیکھا۔ یہ این جی او کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ سنبھالتے اور اس کے لیے تصویریں بنانے کے لیے پورے سندھ کے دورے بھی کرتے ہیں۔

گڈو کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں شہر کی بجائے دیہی زندگی کی عکس بندی دلچسپ لگتی ہے۔ انہیں سب سے زیادہ مزا سندھ کے دیہی علاقوں میں آتا ہے۔

سردیوں کی راتوں میں آگ جل رہی ہوتی ہے، لوگ دائرے کی شکل میں بیٹھ کر آگ سینک رہے ہوتے ہیں، ایسے میں لوگ اپنی کہانیاں سناتے ہیں، ان کہانیوں میں کوئی مصنوعی پن نہیں ہوتا، کوئی جھوٹ نہیں ہوتا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گڈو کا پسندیدہ آثار قدیمہ نصر پور کے قریب تلہ شاہ ہے، جہاں سندھ کے کلھوڑا حکمرانوں نے اپنے لیے لڑنے والےمری قبیلے کے جنگجوؤں کو بڑے اعزاز کے ساتھ دفنایا۔

یہ تیس چالیس قبریں تھیں لیکن مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے صرف نو قدرے بہتر حالت میں باقی ہیں۔ انہیں صوفیا کے مزاروں پر جا کر بہت سکون ملتا ہے، خصوصا شاہ عبدالطیف بھٹائی کا کلام طنبورے پر سننا بےحد پسند ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صوفیا کا اسلام مذہبی ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔

گڈو کی شریک حیات جمنا اور گھر والے ویسے تو ان کے شوق کو پسند کرتے ہیں لیکن کم آمدنی کی وجہ سے انہوں نے بہت دفعہ اس پیشے کو چھوڑنے کا سوچا۔ ایسا وقت بھی آیا کہ انہیں گھروں میں چونا وغیرہ کرنے کا کام بھی کرنا پڑا، اس کے باوجود یہ فوٹو گرافی کو نہیں چھوڑ سکے۔

بچپن میں اس گھرانے کو ایسے دن بھی دیکھنے پڑے کہ انہیں روٹی، پسی ہوئی مرچ اور لسی پر گزارا کرنا ہوتا تھا۔ گڈو کے دادا نے بھارتی صوبے گجرات سے نقل مکانی کی اور مچھلی پکڑنے کا جال بنانا ان کا خاندانی پیشہ تھا۔

ان کے والد آج بھی گھر میں بان کی رسی سے جال بناتے ہیں۔ گڈو اپنے والد کے ساتھ نہر پر جا کر مچھلیاں بھی پکڑتے ہیں اور یہ اسی جال سے خرگوش بھی پکڑ لیتے ہیں۔

گڈو کا کہنا ہے وہ گجراتی، سندھی، انگریزی، اردو، پنجابی، اور نگر پارکر میں بولی جانے والی پرکاری زبان بول سکتے ہیں۔ ایک سے زائد عشرے تک اپنے کام اور شوق کی خاطر اندرون سندھ کی دیہی زندگی پر گڈو کی نظر بہت گہری ہے۔

گڈو کا کہنا ہے ’کسی علاقے یا کمیونٹی کی اصل ثقافت کا پتہ تب چلتا ہے جب آپ عورتوں سے ملتے ہیں۔ مرد تو آزاد ہوتا ہے، کچھ بھی پہن کر گھومتا ہے لیکن عورتیں اپنی برادری کے رواج کے مطابق اوڑھتی، پہنتی اور رہن، سہن رکھتی ہیں۔‘

ان کا ماننا ہے سندھی کے دیہی علاقے کی عورت کی زندگی بہت سخت ہے۔

پچھلے دنوں ایک موبائل کمپنی کی اشتہاری مہم کے لیے پاکستان میں کام کرنے والی معروف ویڈیو بلاگر ایوا زبیک نے ان سے ملنے کی درخواست کی اور ان کے ساتھ ہالہ اور بھٹ شاہ کا دورہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ میری بھی خواہش ہے کہ مستقبل میں مجھے فوٹوگرافی اور ڈاکومنٹریز بنانے کے پروجیکٹس ملیں۔

گڈو پر امید ہیں لیکن ان کا کہنا ہے ’مقامی کمپنیاں صرف گوری چمڑی والوں سے ہی کیوں کام لیتی ہیں؟‘

زیادہ پڑھی جانے والی ابھرتے ستارے