ٹی وی، اے سی کی سہولت: جیل مینوئل کیا کہتا ہے؟

وزیر اعظم عمران خان کے نواز شریف اور آصف زرداری سے جیل میں سہولیات واپس لینے کے بیان پر عمل درآمد ایک بڑا امتحان بن سکتا ہے۔

حکومت ایک ایگزیکٹو آرڈز کے ذریعے یہ سہولیات واپس لینے کا اختیار رکھتی ہے، مگر میڈیکل بورڈ کی سفارشات کو نظر انداز کرکے اس سے پہلے کبھی کسی قیدی کی سہولیات واپس نہیں لی گئیں  (اے ایف پی )

وزیر اعظم عمران خان کے امریکہ میں اوور سیز پاکستانیوں سے خطاب کے دوران سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیر اعظم نوازشریف سے جیل میں اے سی اور ٹی وی کی سہولت واپس لینے کے بیان پر کافی بات ہو رہی ہے۔

حکومتی وزرا اس اعلان کا خیر مقدم جبکہ اپوزیشن اسے انتقامی سیاست کی انتہا قرار دے رہی ہے۔

قانونی ماہرین اس اعلان بیان کو خلاف قانون قرار دیتے ہیں کیونکہ سابق حکمرانوں کو جیل میں بی کلاس سہولیات کی فراہمی جیل قوانین کے مطابق ہے۔

صحت اور پروٹوکول کے پیش نظر نواز شریف اور آصف علی زرداری کو پاکستانی قوانین میں عام قیدیوں کی نسبت قانوناً ان سہولیات کا حق حاصل ہے۔ قیدی یا حوالاتی کوئی بھی ہو اسے یہ سہولیات عہدے کے پیش نظر دی جاتی ہیں۔

ایسی صورتحال میں وزیر اعظم کے بیان پر عمل درآمد بھی ایک بڑا امتحان بن سکتا ہے۔ مبصرین اس معاملے کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ قرار دیتے ہیں۔

 جیل مینول میں بی کلاس کی سہولیات

پاکستان پرزنز رول 1978میں بنائے گئے جیل مینول کے مطابق جیلوں میں بی کلاس سہولیات کسی بھی موجودہ یا سابق رکن اسمبلی، سکیل 17 یا اس سے زائد گریڈ کے افسر اور سالانہ چھ لاکھ روپے ٹیکس ادا کرنے والوں کو دینا لازم ہے۔ تاہم، سنگین جرائم مثلا دہشت گردی یا منشیات جیسے مقدمات میں سزا پانے والوں کو یہ حق حاصل نہیں۔

مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ کو منشیات کیس کی وجہ سے عام بیرک میں رکھا گیا ہے جبکہ بی کلاس قیدیوں کو بیرکوں سے ملحق علیحدہ کمرہ دیا جاتا ہے جس کے آگے چھوٹا سا احاطہ بھی ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ کمرے میں ٹی وی، علیحدہ واش روم ،صابن، تولیا، بیڈ بمع بیڈ شیٹ، ٹیبل، کرسی بمہ ٹیبل لیمپ، اخبار اور ایک مشقتی دیا جاتا ہے۔

ناشتہ، دوپہر اور رات کا کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔ جیل مینول کے مطابق کسی جگہ کو سب جیل کا درجہ دے کر ملزم یا مجرم کو رکھنا سپیشل کلاس میں آتا ہے اور اس کی اجازت عدالت سے حاصل کرنا ضروری ہے۔

لاہور میں محکمہ جیل خانہ جات کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا جیل مینول میں دی گئی سہولیات کے علاوہ جس میں ایئر کنڈیشنر اورخصوصی خوراک وغیرہ عدالت، میڈیکل بورڈ یا حکومتی احکامات پر قیدی یا حوالاتی کو فراہم کی جا سکتی ہیں۔

انہوں نے واضح کیا نواز شریف یا آصف زرداری کو اے سی کی سہولت میڈیکل بورڈ کی سفارش پر دی گئی جبکہ ٹی وی ویسے ہی جیل مینول کے مطابق فراہم کیا جانا ضروری ہے۔

تاہم حکومت ایک ایگزیکٹو آرڈز کے ذریعے یہ سہولیات واپس لینے کا اختیار رکھتی ہے، مگر میڈیکل بورڈ کی سفارشات کو نظر انداز کر کے اس سے پہلے کبھی کسی قیدی کی سہولیات واپس نہیں لی گئیں۔

انہوں نے بتایا سابق صدور یا وزرا اعظم، وزرائے اعلیٰ یا وزرا کے لیے جیل مینول میں کوئی خصوصی سہولت یا پروٹوکول شامل نہیں۔

ان کے خیال میں جیلوں میں بند قیدیوں کا تحفظ انتظامیہ کی ذمہ داری ہوتا ہے، لہٰذا وہ جیل مینول کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے۔

انہوں نے بتایا نواز شریف لاہور کی کوٹ لکھپت جیل کے اسی کمرے میں قید کاٹ رہے ہیں، جہاں سابق صدر آصف زرداری کو 90 کی دہائی میں قید رکھا گیا تھا۔

’سیاسی بیان بازی‘

وزیر اعظم کے امریکہ میں خطاب کے بعد اپوزیشن اور حکومتی وزرا میں بیان بازی شروع ہو گئی۔

مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر احسن اقبال نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وزیر اعظم کرپشن کے اربوں روپے واپس لینے کے دعووں سے مایوس ہو کر سہولیات واپس لینے کی حد تک آ گئے جو ان کے سیاسی انتقام کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے کہا دونوں سیاسی رہنماؤں کو جیل میں قانون وضوابط کے مطابق دی گئی بنیادی سہولیات واپس لینے کا دعویٰ ان کی مجبوری تھی کیونکہ ان کے پاس ایک سال بعد بھی دکھانے کو کوئی کارکردگی نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی طرح، مسلم لیگ ن کے رہنما مصدق ملک نے کہا بی کلاس کی سہولت سیاسی رہنماؤں کو قانون نے دے رکھی ہیں اور اگر حکومت چاہے تو قانون تبدیل کر کے سہولیات واپس لے سکتی ہے۔

وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا نواز شریف اور زرداری سے سہولیات واپس لینے کا اعلان وزیر اعظم نے ایک جلسے میں کیا جو ایک سیاسی بیان ہو سکتا ہے کیونکہ کسی سیاسی رہنما سے ان کا قانونی حق نہیں چھینا جا سکتا۔

نیب ملزمان کی وجہ سے جیلوں میں جگہ کم پڑ گئی

پنجاب کے جیل حکام نے نیب حکام کو جیل میں جگہ کی تنگی کے بارے میں آگاہ کر دیا ہے۔

نیب کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق دونوں اداروں کے حکام کی ملاقات 17جولائی کو نیب آفس میں ہوئی، جس میں ڈی جی نیب لاہور ریجن شہزاد سلیم نے آئی جی جیل خانہ جات مرزا شاہد سلیم سے شکایت کی کہ جسمانی ریمانڈ سے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل جانے والے ملزمان کی جانب سے جیل میں مبینہ ناروا سلوک کی شکایات موصول ہوئیں۔

اس پر جیل حکام نے شکایات گنواتے ہوئے کہا نیب کیسوں میں گرفتار 150 ملزمان فی الوقت کیمپ اور کوٹ لکھپٹ جیل میں موجود ہیں جبکہ مجموعی طور پر پنجاب کی جیلوں میں 46 ہزار قیدی ہیں۔

جیل حکام نے بتایا جیلوں کی کمی کے باعث مختلف جیلوں میں قیدیوں کی دگنا تعداد رکھنے پر مجبور ہیں۔

جیل حکام نے کہا کیمپ جیل میں قید 3500 قیدیوں کے لیے صرف ایک ڈیوٹی ڈاکٹر کی سہولت موجود ہے، ایسے میں ایمرجنسی کی صورت میں شدید دشواری درپیش ہوتی ہے۔

اسی طرح پیشی پر بھیجے گئے قیدیوں کو بخشی خانوں میں ملاقاتوں اور دیگر انتظامات پر شدید خدشات کا اظہار ہے۔

ڈی جی نیب لاہور نے محکمہ جیل خانہ جات کو درپیش مسائل حکام بالا تک پہنچانے کی یقین دہانی کرائی۔

سینیئر صحافی نوید چوہدری کے مطابق حکومت کو سیاسی رہنماؤں سے سہولیات واپس لینے کے بجائے جیلوں میں بند دیگر قیدیوں سے ہونے والے غیر انسانی سلوک جیسے مسائل حل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

’حکمرانوں کو ہر معاملے پر سیاست کرنےکے بجائے عوامی مسائل پر بھی توجہ دینی چاہیے اور جن اپوزیشن لیڈروں پر مقدمات ہیں ان کا معاملہ عدالتوں اور متعلقہ اداروں پر چھوڑ دینا چاہیے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست