لاکھوں ہندوستانی ’مزدور‘ جنہیں بھلا دیا گیا

ان افراد کے ساتھ پانچ سالہ معاہدہ کیا گیا تھا جس کے تحت انہیں ماہانہ پانچ روپے تنخواہ دی جانی تھی۔

برج وی لال کے مطابق فجی پہنچے والے افراد کا تعلق متحدہ ہندوستان کے مختلف علاقوں سے تھا جن میں کابل، لداخ، تبت، اترپردیش اور اتراکھنڈ کے علاقے شامل تھے(انسائیکلوپیڈیا بریٹینکا)

دو نومبر 1834 کو جب تین درجن ہندوستانی ’مزدوروں‘ کا قافلہ 48 روزہ طویل سمندری سفر کے بعد کلکتے سے ماریشیس پہنچا تو ان میں سے کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ وہ کب اپنے ملک واپس جا سکیں گے۔

برطانوی پارلیمان کی جانب سے غلامی کے خاتمے کے بعد اب ہندوستان سے ان افراد کو ’معاہدوں‘ کے تحت نوکری دے کر مختلف کالونیز بھیجا جا رہا تھا۔

ان افراد کے ساتھ پانچ سالہ معاہدہ کیا گیا تھا جس کے تحت انہیں ماہانہ پانچ روپے تنخواہ دی جانی تھی جبکہ کھانہ اور لباس ان کو ملازمت دینے والی کمپنی ہنٹر، آربتھ ناٹ اینڈ کمپنی نے فراہم کرنا تھے۔

لیکن ان افراد کے لیے اس سفر کی سب سے بڑی وجہ چھ ماہ کی وہ تنخواہ تھی جو انہیں پیشگی ادا کر دی گئی تھی۔

یہ 36 افراد ان لاکھوں ہندوستانی مزدورں کی پہلی کھیپ تھے جو اگلے چند سالوں میں دنیا بھر میں پھیلی برطانوی کالونیز میں بطور ’مزدور‘ بھیجے جانے تھے۔

برصغیر میں برطانوی راج کی تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے محقق ونیل کمار کے مطابق ’معاہدوں پر مبنی نوکریوں کا یہ نظام 1834 سے 1920 کے درمیان رائج رہا۔ اس دوران تقریباً 20 لاکھ ہندوستانی مزدوروں کو سلطنت برطانیہ کے زیر انتظام 19 کالونیز میں کام کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا جبکہ کچھ ہندوستانیوں کو فرانسیسی اور ڈچ علاقوں میں بھی روانہ کیا گیا تھا۔‘

بی بی سی  کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ تعداد دس لاکھ سے کچھ زائد ہے جبکہ پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے یہ تعداد 35 لاکھ سے زائد بتائی ہے۔

ونیل کمار کے مطابق ’چار لاکھ سے زائد ہندوستانیوں کو ماریشیس اور ملائیشیا، ڈھائی لاکھ کو برٹش گیانا، ڈیڑھ لاکھ کو جنوبی افریقہ جبکہ اتنے ہی افراد کو جزائر غرب الہند اور 60 ہزار سے زائد مزدوروں کو فجی بھیجا گیا۔‘

برطانوی حکومت کے نیشنل آرکائیوز پر جاری تفصیلات کے مطابق ان افراد میں نچلی ذات کے ہندوستانیوں کے علاوہ اونچی ذاتوں سے تعلق رکھنے والے ہندوستانی جیسے کہ برہمن بھی شامل تھے جبکہ برہمنوں کے علاوہ کسان، فن کار، مسلمان، ’اچھوت‘ اور دیگر ذاتوں کے لوگ بھی شامل تھے۔

انڈین مصنف سنجیو سنیال نے اپنی کتاب ‘لینڈ آف سیون ریورز ۔ ہسٹری آف انڈیاز جیوگرافی‘ میں ایسی ملازمت کے لیے کیے جانے والے ایک معاہدے کو شامل کیا ہے، جس میں کلکتہ سے بھرتی کیے جانے والے ان ملازمین کو ملنے والے حقوق اور سہولیات کی تفصیلات درج تھیں۔

معاہدے کے الفاظ کچھ یوں تھے ’میں، پیرو(ملازم کا نام) ماریشیئس بھیجے جانے پر رضامندی ظاہر کرتا ہوں جس کا مقصد ای اینٹارڈ پیرے کی خدمت کرنا ہے یا کسی بھی ایسا فرد کی جسے مجھے منتقل کیا جائے گا۔ ایسی منتقلی باہمی رضامندی سے ہو گی جس کے لیے ایک سرکاری افسر کے سامنے پیش ہونا پڑے گا۔ میں اس معاہدے کی تاریخ سے پانچ سال تک بطور خدمات گار کام کروں گا اور مجھے ماہانہ دس روس تنخوا دی جائے گی۔ اس کے علاوہ مجھے کھانے اور کپڑوں کی مد میں جو اشیا ملیں گی وہ کچھ یوں ہوں گی:

روزانہ: 14 چھٹانک چاول، دو چھٹانک دھول(دلیہ)، نصف چھٹانک گھی اور ایک چوتھائی چھٹانک نمک۔

اس کے علاوہ ان ملازمین کو جو سالانہ سہولیات میسر تھیں وہ کچھ یوں تھیں:

سالانہ: ایک کمبل، ایک لشکری ٹوپی، ایک لکڑی کا پیالہ، ایک لوٹا یا کانسی کا پیالا، جسے چار افراد استعمال کریں گے۔

طبی امداد اور دوائی جب ضرورت ہو۔ اور معاہدہ ختم ہونے کے بعد کلکتہ واپسی کا سفر جس کے تمام اخراجات مجھے خود اٹھانے ہوں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

2014 میں جب سابق بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج ماریشیس کے دورے پر گئیں تو انہوں نے ان افراد کی یاد میں منعقد کی جانے والی 180ویں ’اپرواسی دیواس‘ کی تقریب میں شرکت کی۔

بھارتی مورخ برج وی لال سال 2012 کی اپنی کتاب ’چلو جہاجی: ایک معاہدے کے بعد فجی کا سفر‘ نامی کتاب کے پس نوشت میں لکھتے ہیں کہ ’1870 تک ایک لاکھ 12 ہزار 178 افراد یعنی فجی آنے والے 21 فیصد ہندوستانی واپس جا چکے تھے لیکن اس کے بعد 1910 تک ان کالونیز کا سفر کرنے والوں کی واپسی کی تعداد بہت کم تھی۔‘

برج وی لال کے مطابق فجی پہنچے والے افراد کا تعلق متحدہ ہندوستان کے مختلف علاقوں سے تھا جن میں کابل، لداخ، تبت، اترپردیش اور اتراکھنڈ کے علاقے شامل تھے۔

شمالی ہندوستان سے فجی آنے والے 31 ہزار 456 مردوں اور 13 ہزار 696 خواتین میں خاندانوں کی تعداد بہت کم تھی جن میں سے چند ہی شادی شدہ جوڑے تھے۔

یہاں لائی جانے والی زیادہ تر خواتین ہندوستان کے مختلف علاقوں سے لائی گئی تھیں جو اپنے خاندانوں سے جدا کر دی گئی تھیں۔

ہندوستانی خواتین کا جنسی استحصال

مصنفین الزبیتھ ڈبلیو اینڈریو اور کیتھرین سی بش نیل اپنی کتاب ’دی کوئینز ڈاٹرز ان انڈیا‘ نے بھارت میں برطانوی راج کے دور سے جڑے ان دل سوز حقائق پر بات کی ہے۔

اس کتاب میں برطانوی حکومت کے فوجیوں کی جانب سے ہندوستانی خواتین کے جنسی استحصال اور انہیں جنسی غلام کے طور پر استعمال کرنے پر بھی کھل کر بات کی گئی ہے۔

’دی کوئینز ڈاٹرز ان انڈیا‘ کے مطابق برطانوی حکومت نے ہندوستان کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد ‘چھاونیاں‘ قائم کیں جو ان برطانوی افراد کے لیے مخصوص تھیں جو برطانیہ کی جانب سے ہندوستان پر حکومت کے لیے بھیجے جاتے تھے۔

 ان چھاونیوں کا مقصد برطانوی افسران اور فوجیوں کو مقامی افراد سے محفوظ رکھنا اور کسی بغاوت کی صورت میں ان کی حفاظت کرنا تھا۔

’دی کوئینز ڈاٹرز ان انڈیا‘ نے برطانوی سلطنت کے حوالے سے نقاب کشا انکشافات کیے، جو اکثر خود کو ہندوستانی خواتین کے مسیحا کے طور پر پیش کرتی رہی اور جس نے ’ہندوستانی خواتین کو ستی اور کم عمری کی شادیوں سے تحفظ فراہم‘ کیا۔

کتاب کے مطابق برطانوی راج سے ہندوستانی خواتین کو زبردستی جنسی غلامی اور جسم فروشی پر مجبور کیا لیکن اس معاملے کو اتنی توجہ نہیں دی جاتی جتنی ملنی چاہیے تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ