عمران خان کا 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کا اعلان

عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچ کر لانگ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان نے اپنے کارکنوں اور قوم کو آئندہ ہفتے 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کی کال دے دی۔

ہفتے کی شام لانگ مارچ کے شرکا سے ویڈیو خطاب میں عمران خان نے کہا کہ وہ ’قوم کو حقیقی آزادی دلانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اس لیے وہ نہ صرف پارٹی کارکنوں بلکہ پوری قوم سے 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کی اپیل کرتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچ کر ان سے خطاب کریں گے اور اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ ان کی زندگی خطرے میں ہے لیکن وہ پھر بھی راولپنڈی آنے کا منصوبہ دے رہے ہیں۔

’جن معاشروں میں انصاف نہ ہو وہاں جنگل کا قانون چلتا ہے اس لیے میں چاہتا ہوں کہ قوم اس ’غلامی‘ کی زنجیروں کو توڑے اور انصاف ممکن بنائے۔ُ

انہوں نے کہا کہ اس ملک میں انصاف کی کوئی امید نہیں کیوں کہ بطور سابق وزیر اعظم اور پنجاب میں حکومت ہونے کے باوجود وہ اپنی ایف آئی آر کٹوانے سے قاصر رہے۔

’اعظم سواتی جو سینیٹر ہیں، ان کو انصاف نہیں مل پا رہا کیوں کہ یہاں طاقت ور قانون کے تابع نہیں۔‘

عمران خان نے کہا کہ پنجاب پولیس صرف وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کا نام ایف آر آئی میں ڈالنے کے لیے تیار تھی لیکن ’ایک طاقت ور ادارے کے آفسر کا نام ڈالتے وقت ان کے پر جلتے تھے۔‘

’میں اسٹیبلشمنٹ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ ان دو جماعتوں، جن کے رہنماؤں نے کرپشن سے اس ملک کی جڑیں کمزور کیں، ان میں کون سی ایسی خوبی دیکھی جو ان کو پھر سے قوم پر مسلط کر دیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک میں کفر کا نظام تو چل سکتا ہے لیکن ظلم اور ناانصافی کا نظام قائم نہیں رہ سکتا۔

انہوں نے کہا کہ وہ اسی لیے گھڑی والے معاملے میں جیو نیوز چینل کے خلاف امریکہ، برطانیہ اور یو اے ای میں مقدمات چلا رہے ہیں کیوں کہ وہاں انصاف کا نظام قائم ہے اور پاکستان میں انہیں انصاف نہیں مل سکتا۔

ادھر پی ٹی آئی کو اسلام آباد میں ’آزادی مارچ‘ کے سلسلے میں ریلی کے انعقاد کی مشروط اجازت دے دی گئی۔

ہفتے کو ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے دفتر سے جاری ہونے والے این او سی کے مطابق پی ٹی آئی کی ریلی میں ریاست مخالف نعرے بازی اور اسلحے کی نمائش پر پابندی ہو گی۔

اسلام آباد انتطامیہ نے این او سی میں ریلی کے انعقاد کے لیے مجموعی طور پر 35 شرائط عائد کی ہیں، جن کی خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کی وارننگ دی گئی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ ’حقیقی آزادی مارچ‘ کے نام سے وفاقی حکومت کے خلاف اور فوری انتخابات کے مطالبے کے ساتھ احتجاجی ریلیز کا انعقاد کر رہے ہیں، جو گذشتہ مہینے لاہور سے شروع ہوئی تھیں۔

تین نومبر کو پنجاب کے شہر وزیر آباد میں ریلی کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں سابق وزیر اعظم عمران خان سمیت 10 افراد زخمی اور ایک شخص ہلاک ہو گیا تھا۔

فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہونے کے بعد عمران خان لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر موجود ہیں، جبکہ پارٹی کے دوسرے مرکزی رہنما مارچ کی قیادت کر رہے ہیں۔

عمران خان اسلام آباد کی طرف ’آزادی مارچ‘ کا آخری مرحلے کی راولپنڈی سے قیادت کریں گے۔

اسلام آباد میں ریلی کے انعقاد کی اجازت کے لیے درخواست پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی نواز اعوان نے ڈپٹی کمشنر کے پاس دائر کی تھی، جس پر ہفتے کو فیصلہ کیا گیا، جس کے تحت پی ٹی آئی کورال چوک سے روات تک ریلی نکال سکے گی۔

پاکستان تحریک انصاف کے منصوبے کے مطابق اسلام آباد سے تمام چھوٹی ریلیاں کورال چوک پر جمع ہوں گی جبکہ اسلام آباد ریجن کے شرکا روات میں مارچ میں شامل ہوں گے۔

این او سی کے مطابق مارچ کے شرکا مخصوص راستے تک محدود رہیں گے اور کسی سڑک پر ٹریفک روکنے، نہ ہی سرکاری یا نجی املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت ہو گی۔ 

وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے مزید خبردار کیا کہ ریاست، مذہب اور نظریہ پاکستان کے خلاف نعروں اور تقریروں کی بھی اجازت نہیں ہو گی، جبکہ ریلی میں ہتھیار اور ڈنڈے وغیرہ لانے کی صورت میں بھی قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اسلام آباد انتظامیہ کے مطابق  ریلی کے پیش نظر اسلام آباد کیپیٹل پولیس وفاقی دارالحکومت کے لیے ٹریفک پلان بھی جاری کرے گی، جبکہ اسلام آباد کے ریڈ زون اور دوسرے حساس علاقوں میں دفعہ 144 کے تحت اجتماع کے انعقاد پر پابندی برقرار رہے گی۔

عمران خان ’تماشا لگا کر آرمی چیف کی تعیناتی متنازع بنانا چاہتے ہیں‘: بلاول بھٹو زرداری

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عمران خان کے لانگ مارچ کا کوئی جمہوری مقصد نہیں بلکہ جمہوریت کو نقصان پہنچانا ہے۔

ہفتے کو ایک نیوز کانفرنس میں بلاول بھٹو زرداری نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کا مقصد آرمی چیف کی تعیناتی کو متنازع بنانا ہے اسی لیے انہوں نے 26 نومبر کو راولپنڈی میں ’تماشا لگانے‘ کا فیصلہ کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’جب آپ 26 نومبر کو راولپنڈی میں تماشا لگائیں گے تو لوگ جانتے ہیں کہ آپ کے کیا مقاصد ہیں۔ آپ ملک میں آئینی بحران پیدا کرنا چاہتے ہیں۔‘

وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ہم نے ماضی میں بھی ہرسازش ناکام بنائی، اب پھر ناکام بنائیں گے۔‘‘

بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیر اعظم جو بھی نیا آرمی چیف تعینات کریں گے ان کی جماعت اس کی حمایت کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ملک میں جمہوریت کے لیے اپنا خون اور پسینہ دیا۔ ’پاکستان کی تاریخ عمران خان کے لیے نئی مگر عوام کے لیے پرانی ہے کیوں کہ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیے ہمارا خون پسینہ شامل ہے اور ہم نے ہمیشہ مشکلات کا عوام کے ساتھ مل کر سامنا کیا ہے۔‘

بلاول بھٹو نے کہا کہ ’عمران خان کا جمہوریت کے لیے سفر کرکٹ سے لے کر وزیراعظم بننے تک کا ہے۔

’انہوں نے ہمیشہ سے غیر جمہوری قوتوں کے کندھوں پر سیاست کی، عمران خان اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے آرمی چیف کو تاحیات ایکسٹینشن دینے پر تیار تھے لیکن آرمی چیف نے اس پیشکش کو مسترد کردیا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’عمران خان کو مسلط کرنے سے پاکستان کو صرف نقصان پہنچا، ان کے بیانیے سے پاکستان اور جمہوریت کو بہت نقصان ہوا ہے۔

’انہوں نے چار سال کے دوران ملکی معیشت اور خارجہ پالیسی کو نقصان پہنچایا، ان کے ایک فیصلے نے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے تک پہنچا دیا۔‘

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے ادارے ماضی کی طرح متنازع کردار ادا نہیں کرنا چاہتے، عمران خان سمجھتے ہیں کہ ان کا مستقبل اداروں کے متنازع کردار سے جڑا ہوا ہے۔

’وہ اس کوشش میں ہیں کہ اداروں کو نیوٹرل نہ رہنے دیں، پاکستان کے عوام اداروں کی اس پالیسی کو سراہتے ہیں۔‘

(اضافی رپورٹنگ: عبدالقیوم شاہد | ایڈیٹنگ: عبدااللہ جان، بلال مظہر)

زیادہ پڑھی جانے والی