بابر اعظم کی کپتانی پر سوال: سوچنا بھی منع کیوں؟

ٹیسٹ سیریز میں ناکامی کے بعد ٹیم سلیکشن اور کپتانی پر سوالات کیے جائے رہے ہیں اور فاسٹ بولرز کی کارکردگی پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کراچی میں منعقد ہونے والے تیسرے کرکٹ ٹیسٹ میچ سے قبل 16 دسمبر 2022 کو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کر رہے ہیں (اے ایف پی)

پاکستان کے انگلینڈ کے ہاتھوں ہوم سیریز میں وائٹ واش ہونے کے بعد بابر اعظم کی کپتانی پر سوال کیے جا رہے ہیں۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سریز میں ایک بھی میچ جیتنے میں ناکام رہی۔

ٹیسٹ سیریز میں ناکامی کے بعد ٹیم سلیکشن اور کپتانی پر سوالات کیے جائے رہے ہیں اور فاسٹ بولرز کی کارکردگی پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔

سوشل میڈیا پر تبصرے کیے جا رہے ہیں کہ انگلینڈ کے خلاف سیریز میں محمد عباس اور میر حمزہ کو ٹیم میں شامل کیا جانا چاہیے تھا۔

اس تنقید کے بعد پاکستان ٹیم کے سٹار بولرز شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف دونوں سوشل میڈیا پر کھل کر بابر اعظم کی حمایت میں سامنے آ گئے ہیں۔

یہ دونوں بولرز آج کل ان فٹ ہونے کی وجہ سے پاکستان کرکٹ ٹیم کا حصہ نہیں ہیں اور نیوزی لینڈ کے خلاف ہونے والی سیریز میں بھی دکھائی نہیں دیں گے۔ حارث رؤف نے ٹوئٹر پر لکھا کہ آپ ہمارے لیڈر ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔

شاہین شاہ آفریدی نے سوچنا بھی منع کے ٹرینڈ کا حصہ بنتے ہوئے لکھا کہ بابر اعظم پاکستان کی شان ہیں اور ہمارے کپتان ہیں اور رہیں گے۔

ایک تقریب میں بات کرتے ہوئے بھی شاہن شاہ آفریدی نے کہا تھا کہ بابر اعظم ہمارے کپتان رہیں گے۔

دوسری جانب اس ٹرینڈ کی مخالفت بھی دیکھنے میں آئی ہے۔

ایک ٹوئٹر صارف محمد اعزاز حسن نے لکھا یہ کیا پیڈ مہم چل رہی ہے؟ کیوں سوچنا منع ہے؟ اگر وہ ڈیلیور نہیں کر پا رہے تو نیا کیوں نہیں؟

صحافی طارق متین نے لکھا یہ سوچنا بھی منع ہے کیا؟ بابر کو کپتانی سے کیوں نہیں ہٹایا جا سکتا ہے؟

ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں پاکستان نے 12 میچز کھیلے ہیں جبکہ ان میں سے بابر اعظم کی کپتانی میں چار میچ جیتے، چھ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور دو میچز بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئے۔

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں بابر اعظم کا ریکارڈ بہتر رہا۔ بابر اعظم کی کپتانی میں پاکستان گذشتہ ایشیا کپ اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا فائنل کھیلا۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ