کشمیر میں عوام کی نقل و حرکت پر پابندی، مواصلاتی نظام معطل

بھارت نے کشمیر کے کئی حصوں میں دفعہ 144 نافذ کر کے نظام زندگی مفلوج کر دیا۔

(سری نگر اور دیگر علاقوں میں بھارتی فورسز کے اہلکار بڑی تعداد میں گشت کر رہے ہیں( اے ایف پی

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے کئی حصوں میں سرکاری حکام نے پیر کی صبح دفعہ 144 نافذ کر کے نظام زندگی مفلوج کر دیا۔

وادی میں ہزاروں اضافی بھارتی فوجی دستے تعینات کیے جا رہے ہیں اور کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر پاکستان اور بھارت کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق متنازع خطے میں نجی موبائل نیٹ ورکس، انٹرنیٹ اور لینڈ لائن ٹیلی فون سروسز بند کر کے مواصلات کا نظام عملاً معطل کر دیا گیا ہے۔

مواصلاتی نظام معطل ہونے سے قبل کشمیر کے موجودہ اور سابق سینیئر سیاست دانوں اور قانون سازوں نے ٹوئٹر پر بتایا کہ وہ گھروں میں نظر بند ہیں۔

اے ایف پی کو موصول ہونے والے بھارتی بیان میں بتایا گیا ’سری نگر اور دیگر علاقوں میں عوام کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کی جا رہی ہے جبکہ تمام تعلیمی اداروں کو بھی غیر معینہ مدت کے لیے بند کیا جا رہا ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا: ’تاحکم ثانی [وادی میں] کسی بھی قسم کی عوامی اجتماعات اور ریلیوں پر مکمل پابندی رہے گی۔‘

ہندو آبادی والے جموں خطے میں بھی یونیورسٹیاں، کالج اور سکول بند رہیں گے جبکہ ایک ضلعے میں کرفیو نافذ ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق مسلم اکثریتی وادی کے بڑے ضلعوں میں بھی کرفیو کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔

تازہ کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا جب گذشتہ ہفتے بھارت نے دس ہزار اضافی نیم فوجی دستے خطے میں تعینات کیے ہیں جبکہ ایک سینیئر سکیورٹی افسر نے اے ایف پی کو بتایا نئی دہلی مزید 70 ہزار اضافی فوج وادی بھیج رہی ہے۔

اس پیش رفت کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ ایک اندازے کے مطابق خطے میں پہلے ہی پانچ لاکھ سے ساڑھے چھ لاکھ کے درمیان بھارتی سکیورٹی فورسز کے اہلکار تعینات ہیں جبکہ نئی اضافی تعیناتی سے اس تعداد میں بے مثال اضافہ ہو جائے گا۔

تازہ تعیناتیوں کے علاوہ بھارتی حکومت نے دیگر اقدامات کا بھی حکم جاری کیا ہے، جن میں فوجیوں کے لیے خوراک اور ایندھن ذخیرہ کرنا بھی شامل ہے۔

بھارت کے ان اقدامات سے کشمیریوں میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ممکنہ غیر معمولی صورتحال کے تناظر میں لوگوں کی بڑی تعداد پیڑول سٹیشنز، خوراک کی دوکانوں اور اے ٹی ایم مشینوں کے باہر لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے نظر آئے۔

مقامی افراد نے اے ایف پی کو بتایا سری نگر اور دیگر علاقوں میں بھارتی فورسز کے اہلکار بڑی تعداد میں گشت کر رہے ہیں جبکہ سٹرکیں اور گلیاں سنسان پڑی ہیں۔ کئی علاقوں میں گن شاٹس بھی سننے گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مقامی افراد کا کہنا تھا بھارتی فوجیوں نے سری نگر کے مرکزی علاقے میں ’چِلی بم‘ فائر کیے ہیں جس سے عوام کو سانس لینے میں دقت محسوس ہو رہی ہے۔

دوسری جانب، ایک سینیئر بھارتی عہدے دار نے اے ایف پی کو بتایا مواصلاتی نظام معطل ہونے کے باعث 300 انتظامی عہدے داروں اور سکیورٹی اہلکاروں کو سیٹیلائٹ فون مہیا کر دیے گئے ہیں۔

جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے مواصلات معطل ہونے سے پہلے ٹویٹ کیا: ’مجھے یقین ہے کہ آج رات ہی مجھے نظربند کیا جا رہا ہے اور مرکزی دھارے کے دیگر رہنماؤں کے لیے بھی [گرفتاریوں کا] یہ عمل شروع ہو چکا ہے۔‘

آخری بار اس علاقے میں اس طرح کی پابندیاں 2016 میں ایک مقبول آزادی پسند رہنما برہان وانی کی ہلاکت کے بعد عائد کی گئیں تھیں، جس نے مہینوں سڑکوں پر ہونے والے احتجاج کو جنم دیا تھا اور اس دوران 100 کے قریب افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اگرچہ ہندوستانی فوج اور ریاستی حکومت کا کہنا ہے ان تازہ اقدامات کا تعلق سکیورٹی خطرات سے ہے تاہم علیحدگی پسند حتیٰ کہ بھارت نواز کشمیری رہنما اور نئی دہلی میں حزب اختلاف کے سیاست دانوں کو تشویش ہے کہ ’دوسری وجوہات‘ کے سبب اضافی فوج متنازع خطے میں تعینات کی جا رہی ہے۔

2018 کے وسط سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی نے محبوبہ مفتی کی جماعت سے الگ ہو کر ریاستی حکومت کو تحلیل کر دیا تھا اور تب سے مرکزی حکومت براہ راست کشمیر کو دہلی سے کنٹرول کر رہی ہے۔

اس دوران ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ مودی کی ہندو قوم پرست حکومت بھارتی آئین کے آرٹیکل 35 اے تحت خطے کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور یہ غیر معمولی اقدامات کشمیر میں ممکنہ ردعمل اور مظاہروں کو کنڑول کرنے لیے اٹھائے جا رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا