درخت بچانے کے لیے الٹی چال

تیزی سے ختم ہوتے جنگلات کے مسئلے پر توجہ دلانے کے لیے انڈونیشیا کے شہری میدی بستونی دارالحکومت جکارتہ تک کا 700 کلومیٹر کا سفر الٹے قدموں پیدل طے کریں گے۔

میدی بستونی،  کنڈیل کے  علاقے میں ایک  مقام  پر  سیلفی لیتے ہوئے (میدی بستونی)

انڈونیشیا کے ایک شہری نے اپنے ملک میں تیزی سے ختم ہوتے ہوئے جنگلات کے مسئلے کی جانب توجہ دلانے کے لیے الٹا چل کر 700 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا شروع کر دیا ہے۔

43 سالہ میدی بستونی نے اپنے سفر کا آغاز مشرقی جاوا میں ایک آتش فشاں پہاڑ کے قریب واقع اپنے گھر سے کیا ہے اور وہ دارالحکومت جکارتہ تک الٹے قدموں چلیں گے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق میدی بستونی چار بچوں کے والد ہیں اور انہوں نے اپنے مشکل سفر کا آغاز جولائی کے وسط میں کیا۔ وہ اس جنوب مشرقی ایشیائی ملک کے یوم آزادی سے ایک دن پہلے یعنی 16 اگست تک جکارتہ پہنچنا چاہتے ہیں۔

میدی بستونی نے اے ایف پی کو بتایا: ’اس میں کوئی شک نہیں کہ میں تھک چکا ہوں لیکن میں اگلی نسلوں کے لیے لڑائی لڑنے کی خاطر یہ کرنے کو تیار ہوں۔‘

ان کا کہنا تھا: ’میرا گھر درختوں سے محروم ہو رہا ہے، اس لیے مجھے کچھ کرنا ہوگا۔ میں تکلیف اٹھانے کے لیے تیار ہوں۔‘

انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ جکارتہ پہنچ کر صدر جوکو ودودو سے ملنے اور ملک میں جنگلات کی کٹائی کا مسئلہ اجاگر کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، جس کا شکار ان کا آبائی علاقہ بھی ہے جہاں ماؤنٹ ویلس نامی خاموش آتش فشاں پہاڑ واقع ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ماحولیات کے تحفظ پر کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیم گرین پیس کے مطابق انڈونیشیا میں جنگلات کی کٹائی کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

میدی بستونی شدید دھوپ میں ہر روز 20 سے 30 کلومیٹر الٹے قدم چلتے ہیں۔ انہوں نے اپنی کمر پر بندھے بیگ پر ایک آئینہ لگا رکھا ہے تاکہ راستے میں آنے والی اشیا کے ساتھ ٹکرانے سے بچ سکیں۔

راستے میں میدی بستونی کے حامی ان کا حوصلہ بڑھاتے ہیں، کھانے پینے کی اشیا اور رات گزارنے کے لیے جگہ کی پیش کش کرتے ہیں لیکن وہ اپنے طے شدہ پروگرام کے تحت صبح سویرے اپنے سفر کا آغاز کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ الٹے پیروں چلنے کا مقصد انڈونیشیا کے شہریوں کو پیغام دینا ہے کہ وہ گزرے وقت پر غور کریں اور یاد رکھیں کہ قومی ہیروز ملک کے لیے کس طرح لڑے۔   

انڈونیشیا میں ان کے اس عمل کو سراہا جا رہا ہے اور مقامی میڈیا میں ان کے چرچے ہیں۔ 

 

 

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات