’سانس لینے کا حق‘:ماحولیاتی آلودگی کے خلاف پاکستانی شہریوں کی جدوجہد

معیاری سرکاری اعداد و شمار دستیاب نا ہونے کے باعث کئی نوجوانوں نے اپنے آلات نصب کر لیے ہیں اور عوام کو آلودگی سے آگاہ کر رہے ہیں۔

10 جنوری 2026 کی اس تصویر میں کراچی کی ایک کمہار کالونی میں بھٹوں سے اٹھتا ہوا دھواں دکھایا گیا ہے (اے ایف پی)

پاکستان میں حالیہ برسوں میں بڑھتی فضائی آلودگی کے پیش نظر مانیٹر اور قانونی دستاویزات اٹھائے شہریوں نے صاف ہوا کے لیے جنگ کو اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔  

ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصہ قبل انجینئر عابد عمر کو شک ہونے لگا تھا حکومت جسے موسمی دھند قرار دے رہی ہے وہ ایک مختلف بات ہے۔ 

لاہور سے تعلق رکھنے والے 45 سالہ عابد عمر، جو اب کراچی میں رہتے ہیں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’یہ میرے بچپن میں نہیں تھا۔‘

اب ساحلی شہر کراچی میں بھی سمندری ہوائیں مکینوں کو سموگ سے نہیں بچاتیں۔ 

اس وقت کوئی سرکاری ڈیٹا دستیاب نہ ہونے پر، عمر خود سے پوچھتے ہیں کہ ’اگر حکومت فضائی آلودگی پر نظر رکھنے کے اپنے مینڈیٹ کو پورا نہیں کر رہی تو میں اپنے لیے ایسا کیوں نہ کروں؟‘

پاکستان ایئر کوالٹی انیشیٹو (پاقی) نامی ان کی تنظیم نے اپنا پہلا مانیٹر 2016 میں نصب کیا اور اب ملک بھر میں ان کی تعداد 150 کے قریب ہے۔

یہ ڈیٹا مانیٹرنگ آرگنائزیشن آئی کیو ایئر میں شامل ہے، جس نے 2024 میں پاکستان کو دنیا کا تیسرا آلودہ ترین ملک قرار دیا تھا۔

کینسر کا باعث بننے والے پی ایم 2.5 مائیکرو پارٹیکلز کی سطح عالمی ادارہ صحت کی روزانہ تجویز کردہ زیادہ سے زیادہ اوسط سے 14 گنا زیادہ تھی۔

سکول لاکھوں بچوں کے لیے بند کردیے جاتے ہیں اور ہسپتال اس وقت بھر جاتے ہیں جب سموگ اپنی بدترین سطح پر ہوتی ہے، جو خراب معیار کے ڈیزل، زرعی جلنے اور سردیوں کے موسم کے خطرناک امتزاج کی وجہ سے ہوتی ہے۔

پاقی ڈیٹا نے پہلے ہی آلودگی کی پالیسیوں کو اپنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، جس نے لاہور کی ہائی کورٹ میں 2017 کے ایک کیس کے دوران سموگ کو فضائی آلودگی کے طور پر تسلیم کرنے کے ثبوت کے طور پر کام کیا جو کہ صحت عامہ کے لیے خطرہ ہے۔

عابد عمر نے کہا کہ اپنے ایک فضائی مانیٹر کا استعمال کرتے ہوئے پاقی نے یہ ظاہر کیا کہ ’کمرہ عدالت کے اندر ہوا کا معیار خطرناک تھا۔‘

اس کے بعد عدالت نے پنجاب حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے مانیٹرنگ سٹیشنز تعینات کرے جو اب پورے صوبے میں 44 ہیں اور ڈیٹا کو پبلک کیا جائے۔

لیکن حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ پرائیویٹ مانیٹر ناقابل اعتبار ہیں اور خوف و ہراس کا باعث ہیں۔

تاہم محققین کا کہنا ہے کہ یہ آلات سرکاری اعداد و شمار کی تکمیل کے لیے ضروری ہیں جنہیں وہ بکھرے ہوئے اور ناکافی طور پر خود مختار سمجھتے ہیں۔

عمر نے کہا کہ ’جب فضائی آلودگی بڑھ گئی تو وہ گھبرا گئے اور کچھ سٹیشنوں کو بند کر دیا۔‘

تھری ڈی پرنٹ شدہ مانیٹر

حکام نے اینٹوں کے بھٹوں کے انتظام پر نظر ثانی کی ہے، جو کہ سیاہ کاربن کے اخراج کا ایک بڑا ذریعہ ہیں اور دیگر اقدامات اٹھائے ہیں جیسے زیادہ اخراج والی گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو جرمانہ کرنا اور کسانوں کو فصلوں کی باقیات جلانے سے روکنے کی ترغیب ہے۔

اسلام آباد میں اپنی کمیونٹی کے بارے میں فکر مند ماہرین تعلیم عمیر شاہد اور طحہٰ علی نے Curious Friends of Clean Air نامی تنظیم قائم کی۔

تین سالم میں انہوں نے ایک درجن پلگ سائز ڈیوائسز لگائے، جو تھری ڈی پرنٹر کے ساتھ بنائے گئے ہیں جن کی لاگت تقریباً 50 امریکی ڈالر ہے، جو ہر تین منٹ میں ہوا کے معیار کو دیکھتے ہیں۔

اگرچہ وہ آئی کیو ایئر کے اوپن سورس میپ میں حصہ نہیں ڈالتے یا ان کے پاس سرکاری سرٹیفیکیشن نہیں ہے، لیکن ان کی ریڈنگ نے خطرناک رجحانات کو اجاگر کیا ہے اور لوگوں میں آگاہی پیدا کی ہے۔

عمیر شاہد نے کہا کہ ایک آؤٹ ڈور یوگا ایکسرسائز گروپ نے اپنی پریکٹس کا شیڈول بنانا شروع کیا ’ایسے اوقات جہاں دن میں ہوا کا معیار قدرے بہتر ہوتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بچوں کے، خصوصاً جو کمزور ہیں، پر صبح اور شام کی آلودگی میں زیادتی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے، باہر جانے کے اوقات کو تبدیل کر دیا ہے۔

ان کے ڈیٹا کا استعمال پڑوسیوں کو ایئر پیوریفائر خریدنے کے لیے بھی کیا گیا ہے، جو کہ زیادہ تر پاکستانیوں کے لیے مہنگے ہیں، یا ایسے ماسک استعمال کرنے کے لیے جو ملک میں شاذ و نادر ہی پہنے جاتے ہیں۔

’سانس لینے کا حق‘

ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ ہوا کا معیار سال بھر خراب رہتا ہے، یہاں تک کہ جب آلودگی کھلی آنکھ سے نظر نہیں آتی۔  

علی نے کہا کہ ’حکومت علامات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن اصل نہیں۔‘

عالمی بینک کے مطابق، پاکستان میں آلودگی کی وجہ سے 2019 میں دو لاکھ 30 ہزار قبل از وقت اموات اور بیماریاں ہوئیں، جن کی صحت کے اخراجات جی ڈی پی کے 9 فیصد کے برابر ہیں۔

جس چیز کو وہ حکومتی بے عملی کے طور پر دیکھتے ہیں اس سے مایوس ہو کر کچھ شہریوں نے قانونی راستہ اختیار کیا ہے۔

موسمیاتی مہم چلانے والی 22 سالہ ہانیہ عمران نے دسمبر 2024 میں ریاست کے خلاف ’صاف ہوا میں سانس لینے کے حق‘ کے لیے مقدمہ دائر کیا۔

وہ حکام پر زور دے رہی ہیں کہ وہ صاف ستھرے ایندھن کی سپلائی پر جائیں، لیکن فیصلے کے لیے کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے اور نتیجہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔

بہتر ہوا کے معیار کی تلاش میں لاہور سے اسلام آباد منتقل ہونے والے عمران نے کہا، ’ہمیں قابل رسائی پبلک ٹرانسپورٹ کی ضرورت ہے، ہمیں پائیدار ترقی کی طرف جانے کی ضرورت ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ آلودگی کی متعدد وجوہات ہیں اور ’یہ دراصل ہماری غلطی ہے۔ ہمیں اس کے لیے جوابدہ ہونا پڑے گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات