نشے میں دھت امریکی نے زخمی پرندے کے لیے اوبر بلا لی

ٹِم کراؤلی باہر بیٹھے شراب پی رہے تھے کہ ایک پرندہ آسمان سے گرا۔ وہ اسے ریسکیو سینٹر لے جانے کے لیے گاڑی چلانے کی حالت میں نہیں تھے تو اس کے لیے اوبر بک کرا لی۔

پرندے کی عمرتقریباً دو ہفتے تھی اور  آخر کار اس کا نام پیٹی اوبر پڑ گیا (فائل: روئٹرز)

 

ایک امریکی شہری نے ایک پرندے کو آسمان سے گرتا دیکھ کر اسے زخمی حالت میں ریسکیو سینٹر بھجوانے کے لیے اوبر بلا لی کیونکہ وہ کافی شرب نوشی کر چکے تھے اور خود ڈرائیو نہیں کر سکتے تھے۔

امریکی آن لائن چینل کے ایس ٹی یو کے مطابق، گذشتہ ماہ ٹِم کراؤلی اپنے دوستوں کے ساتھ ایک ہمسائے کے گھر کے باہر بیٹھے شراب پی رہے تھے جب انہوں نے ایک پرندے کو زمین پر گرتا دیکھا۔

ٹِم اور ان کے دوستوں نے پرندے کی تصویر لی اور شمالی یوٹا میں قائم جنگلی حیات کی بحالی کے مرکز کو بھیجی۔ وہاں کے اہلکاروں نے اس پرندے کی گولڈ فینچ کے طور پر شناخت کی اور ٹِم کراؤلی کو میسج کیا کہ وہ اسے سینٹر میں لے آئیں۔

تاہم ٹِم نے ڈرائیونگ کے لیے مقررہ قانونی حد سے زیادہ شراب پی رکھی تھی، لہذا انہوں نے پرندے کو لے جانے کے لیے اوبر بلا لی۔

مگر پہلے آنے والے اوبر ڈرائیور نے چھوٹے سے پرندے کو گاڑی میں لے جانے سے یہ کہہ کہ انکار کردیا کہ ٹِم کی درخواست کچھ عجیب سی ہے۔

خوش قسمتی سے ایک دوسری ڈرائیور، جن کا نام سی این این نے کرسٹی گن بتایا، نے ٹِم کی بات مان لی۔

انہوں نے پرندے کو پتوں کے ساتھ ایک ڈبے میں ڈالا اور گاڑی میں رکھ دیا۔

کرسٹی گن نے کے ایس ٹی یو کو بتایا: ’گاڑی میں واحد آواز پرندے کی چہکنے کی تھی۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’مجھے لگتا ہے کہ جب میں نے اے سی بند کیا اور کھڑکی کے شیشے نیچے کیے تو وہ خوش تھا۔ اس کے لیے شاید گاڑی میں زیادہ ٹھنڈ تھی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹِم نے کے ایس ٹی یو کو بتایا: ’ہم کیمپنگ چیئرز پر بیٹھے آرام کر رہے تھے کہ اچانک سے آسمان سے ایک مہمان آ گرا۔‘

شروع میں ٹِم اور ان کے دوستوں کو نہیں معلوم تھا کہ پرندے کے ساتھ کیا کریں لیکن پھر کسی نے تجویز دی کہ اس کے لیے نجی گاڑی بلا لی جائے۔

ٹِم نے بتایا: ’پہلے تو یہ ایک مذاق ہی تھا کہ ’چلو، کیوں نہ اوبر بلالی جائے‘، لیکن پھر ہم نے سوچا ’کیوں نہیں، ہم انہیں پیسے دے رہے ہیں۔‘‘

پرندے کی عمرتقریباً دو ہفتے تھی۔ آخر کار اس کا نام پیٹی اوبر پڑ گیا۔

پیٹی کی آمد کے بعد وائلڈ لائف سینٹر میں دو مزید پرندے بھیجے گئے ہیں۔ وہاں کے ملازمین کو لگتا ہے کہ یہ پرندوں کو ریسکو کرنے کے نئے طریقے کی شروعات ہے۔  

سینٹر کے فیس بک پیج پر سٹاف نے لکھا: ’کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ 50 لوگ روز اوبر کو کال کرتے ہوں کہ وہ بیمار پرندوں کو ملک بھر کے وائلڈ لائف کی بحالی کے مراکز میں پہنچا دیں۔‘

پیٹی مکمل طور پر صحت یاب ہوگیا ہے اور اب بھی سینٹر میں ہے۔

سٹاف کا کہنا تھا: ’ہمیں لگتا ہے کہ ہم نے سب دیکھ لیا ہے اور کسی چیز سے حیران نہیں ہوں گے، مگر ہمیشہ کوئی ہوتا ہے جو ہمیں غلط ثابت کر دیتا ہے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا