مفت کھانے کا لالچ دے کر بچوں کا منشیات کے دھندے میں استعمال

برطانیہ میں حکام ’چکن شاپ گرومنگ‘ میں ملوث گینگز کی تحقیقات کر رہے ہیں جو بچوں کو کھانے کا لالچ دے کر جرائم کے طرف مائل کر رہے ہیں۔

استحصال کرنے والوں کو معلوم ہوتا ہےکہ نوجوان افراد فاسٹ فوڈ کی ہرجگہ موجود دکانوں پر جاتے ہیں اور یہ موقع ہوتا ہے جب بچوں کو ہدف بنایا جا سکتا ہے  (روئٹرز)

برطانیہ میں مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ’چکن شاپ گینگز‘ منشیات کی فروخت کے لیے بچوں کو بھرتی کر رہے ہیں جس کے بدلے میں بچوں کو مفت خوراک کی پیش کش کی جاتی ہے۔

اس ہتھکنڈے کو جسے ’چکن شاپ گرومنگ‘ کا نام دیا گیا ہے یوتھ سلیکٹ کمیٹی کو بھیجے شواہد میں نمایاں کیا گیا ہے۔ یہ عمل برطانیہ میں چاقو سے حملوں کے پے درپے واقعات کی تحقیقات کا حصہ ہے۔

ایسے نوجوان افراد جنہیں فوجداری نظام انصاف کا تجربہ ہے نے کہا ہے کہ جو بچے سکول نہیں جاتے ہو ان کے استحصال کا خاص طور پر خطرہ ہے۔

برطانیہ اور ویلز کے یوتھ جسٹس بورڈ کی شہادت میں کہا گیا ہے: ’بعض لوگوں نے (انہیں) بتایا ہے کہ جرائم پیشہ گروپوں نے پیوپل ریفرل یونٹس اور سپورٹس سنٹرز کے باہر بچوں کو نشانہ بنایا ہے۔‘

برطانیہ میں پیوپل ریفرل یونٹس میں ان بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے جو عام سکولوں میں نہیں جا سکتے۔

برطانیہ اور ویلز کے یوتھ جسٹس بورڈ کی شہادت میں کہا گیا: ’انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ بعض اوقات بچوں کو مفت خوراک کی پیشکش کر کے بھرتی کیا جاتا ہے (ایسے گروپوں کو چکن شاپ گینگ کہا جاتا ہے) اور انہیں محسوس ہوا کہ سکول انتظامیہ بچوں کو سکولوں میں رکھنے کے لیے مزید اقدامات کرسکتی ہے۔ اس طرح بچوں کو مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث گروہوں کے خلاف تحفظ ملے گا۔‘

بچوں کے خیراتی اداروں نے تصدیق کی ہے کہ یہ حربہ ان بہت سے ہتھکنڈوں میں سے ایک ہے جن کے ذریعے بچوں کو مجرمانہ طرز زندگی کی طرف مائل کیا جا رہا ہے، جبکہ سکول کے بچوں کو اس حوالے سے موجود خطرے سے خبردار کیا جا رہا ہے۔

مشرقی لندن میں واقع ایک پرائمری سکول کے ہیڈ ٹیچر نے یوٹیوب پر ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں سات سال کی بے حد کم عمر والے بچوں کے لیے ’چکن شاپ گرومنگ‘ کے خطرات پر روشنی ڈالی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ بچوں کو راغب کرنے کے لیے ٹیک ایوے قسم کے ریستورانوں میں لے جایا جاتا ہے جن میں میکڈونلڈز بھی شامل ہے۔

دارالحکومت لندن میں سکولوں اور مقامی حکام پر مشتمل تنظیم لندن گرڈ فار لرننگ ( London Grid For Learning) نے ہائی سکول کے بچوں کی آگاہی کے لیے پوسٹر مہم شروع کی ہے۔ پوسٹر میں بتایا گیا ہے: ’مفت چکن جیسا کچھ نہیں ہوتا! دوستوں کے دوست جو آپ کو کچھ خرید کر دیتے ہیں بدلے میں بھی کچھ چاہتے ہیں۔‘

تنظیم کے آن لائن تحفظ کے مینیجر مارک بینٹلی نے کہا: ’جہاں تک سکولوں اور والدین کا تعلق ہے جو یہ سمجھتے کہ ایسا ان کے علاقے میں نہیں ہوگا تو وہ جان لیں کہ چکن شاپس عام ہیں اور سکول سے گھر جانے والے بچے ان میں جانا پسند کرتے ہیں۔ وہ آسانی سے سوچ لیتے ہیں کہ ’میں چند پیسے بچا لوں گا‘ اور اس سے مصیبت میں پھنس جانا بھی آسان ہو جاتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 

فلاحی تنظیم چلڈرن سوسائٹی نے گذشتہ مہینے کہا: ’کاؤنٹی میں کام کرنے والے منشیات فروش گروہ، نوجوان اور کمزور لوگوں کو شہروں اور چھوٹے قصبوں کے درمیان منشیات اور رقوم کی ترسیل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ گروہ ایسے بچوں کو بھرتی کر رہے ہیں جن کی عمر صرف سات سال ہے تاہم 14 سے 17 سال کے بچوں کے لیے زیادہ خطرہ ہے۔‘

چلڈرن سوسائیٹی کے لندن میں بچوں کو استحصال سے بچانے کے لیے شروع کیے گئے پروگرام کی مینیجر نتاشا چوپڑا نے کہا ہے کہ وہ ’چکن شاپ گرومنگ‘ سے 2008 سے آگاہ ہیں جب انہوں نے اس شعبے میں کام شروع کیا تھا۔

انہوں نے وضاحت کی ہے کہ حکومت کی طرف سے بچوں کے لیے سروسز میں کمی کی وجہ سے بچے ایسے مقامات پر زیادہ تعداد میں جانے لگے ہیں جہاں وہ ’چکن شاپ گرومنگ‘ کا شکار بن سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’استحصال کرنے والوں کو معلوم ہوتا ہے کہ نوجوان افراد فاسٹ فوڈ کی ہرجگہ موجود دکانوں پر جاتے ہیں۔ یہ موقع ہوتا ہے جب بچوں کو ہدف بنایا جا سکتا ہے کیونکہ استحصال کرنے والے نوجوان افراد پر نظر رکھتے ہیں۔‘

’وہ نظر رکھتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ ’او کے یہ مخصوص کم سن فرد اس وقت فوڈ شاپ میں آتا ہے۔ اس وقت جاتا ہے۔ وہ گھر کیوں نہیں جا رہا؟‘

نتاشا نے مزید کہا: ’پھر اس طرح بچے کے ساتھ گفتگو شروع کی جاتی ہے، ’ہائے! یہ لو کچھ چکن یا آلو کے چپس‘ اور اس طرح آسانی سے ایک تعلق قائم ہو جاتا ہے۔‘

نتاشا چوپڑا نے کہا کہ استحصال کے اگلے مرحلے میں کسی بچے کو 20 پاؤنڈ کے قریب رقم کی پیش کش کی جاتی ہے تاکہ وہ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث گروہ کے لیے نگرانی کا کام کرے۔ اس کے بعد باقاعدہ طور پر اس کی خدمات حاصل کر لی جاتی ہیں اس دوران بچے کو رقم تک رسائی کا تجربہ ہو چکا ہوتا ہے اور وہ اپنے آپ کو ایک خاندان کا فرد اور ترقی کرتا محسوس کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک بار گروہ کے ساتھ کام شروع کرنے کے بعد بچوں کو گروہ چھوڑنے سے روکا جاتا ہے۔ انہیں خاندان کے لوگوں یا دوستوں کے حوالے سے دھمکی دی جاتی ہے یا انہیں ان کے جنسی عمل کی ویڈیوز یا اپنے آپ کو منشیات کا ٹیکہ لگانے کی کلپس دکھا کر ڈرایا جاتا ہے۔

نتاشا چوپڑا کے مطابق مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث گروپوں کی سرگرمیوں کا شکار ہونے والے بچوں کی درست تعداد بتانا مشکل ہے لیکن ’یہ کبھی اور کہیں بھی ہو رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ کوئی بھی بچہ مجرمانہ استحصال کا شکار ہو سکتا ہے۔‘

جنوری میں نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے خبردار کیا تھا کہ 10 ہزار کے لگ بھگ بچے مجرمانہ گروپوں کے ساتھ منشیات کے دھندے میں ملوث ہیں۔ اس دھندے سے سالانہ 50 کروڑ پاؤنڈ کا منافع کمایا جاتا ہے۔

این سی اے، جو نیشنل پولیس چیفس کونسل اور نیشنل کاؤنٹی لائنز کوآرڈی نیشن سنٹر مشترکہ طور پر چلاتے ہیں، کا اندازہ ہے کہ برطانیہ میں انفرادی سطح پر منشیات کے دو ہزار سے زیادہ گروہ سرگرم ہیں جن میں ہر ایک سالانہ آٹھ ہزار پاؤنڈ کماتا ہے۔

نیشنل کاؤنٹی لائنز کوآرڈی نیش سنٹر کے ترجمان نے ’چکن شاپ گرومنگ‘ پر تبصرہ نہیں کیا لیکن کہا: ’ہم اس مسئلے کی تمام ظاہری اور پوشیدہ شکلوں سے نمٹنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘

فلاحی ادارے برنارڈوز کے سربراہ جاوید خان نےکہا: ’مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث گروہ بچوں کی تربیت کے لیے بہت سے طریقے استعمال کرتے ہیں جن میں زبردستی کرنا اور ان پر قابو رکھنا شامل ہے۔‘

جاوید خان کے مطابق: ’بچوں کو رقم، خوراک اور شراب کی شکل میں تحائف پیش کئے جاتے ہیں یا پھر سیدھے سادے طریقے سے ان کے ساتھ دوستی کر کے ان کا جنسی استحصال کیا جاتا ہے جبکہ انہیں قابو کرنے کے لیے تشدد سے بھی کام لیا جاتا ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’برنارڈوز نے رات کے وقت کام کرنے والوں میں آگاہی پیدا کی ہے۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو فاسٹ فوڈ کے ریستورانوں پر کام کرتے ہیں۔ ان سے کہا گیا ہے کہ وہ خطرے سے دوچار بچوں کی نشاندہی کریں اور انہیں بتائیں کہ وہ اپنے آپ کو کس طرح محفوظ رکھ سکتے ہیں۔‘

 

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ