اعظم خان ایماندار ہیں، ان سے سننے تک یقین نہیں کروں گا: عمران خان

جمعرات کی رات ایک ویڈیو پیغام میں عمران خان نے کہا کہ اعظم خان کے متعلق جو باتیں رپورٹ کی جا رہی ہیں اس پر وہ ان (اعظم خان) کے منہ سے سنے بغیر یقین نہیں کریں گے۔

عمران خان جمعرات کی رات ویڈیو پیغام کے دوران (پی ٹی آئی ٹوئٹر)   

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے ان کے سابق پرنسپل سیکریٹری سے امریکی سائفر تنازعے کے حوالے سے منسوب بیان کی صداقت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت تک یقین نہیں کریں گے جب تک وہ اعظم خان کو خود یہ کہتے ہوئے نہ سن لیں۔

عمران خان نے دعویٰ بھی کیا ہے کہ انہیں ہٹانے کی غرض سے امریکہ نے سائفر جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھیجا تھا۔

جمعرات کی رات ایک ویڈیو تقریر میں عمران خان نے اپنے سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کے حوالے سے کہا کہ جس اعظم خان کو وہ جانتے ہیں وہ ایماندار اور قابل آدمی ہیں۔ ’اور جس طرح کی باتیں میں نے سائفر میں پڑھی ہیں وہ (اعظم خان) کہہ نہیں سکتے۔ جب تک میں اعظم خان کے منہ سے نہیں سنوں گا مانوں گا نہیں۔ کیونکہ اس میں کئی باتیں حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

’یا تو زبردستی اعظم خان سے یہ سب کہلوایا گیا ہے کیونکہ اس وقت زبردستی دو جماعتیں بنا دی ہیں۔ لوگوں کی کنپٹیوں پر بندوق رکھ کر کہا جا رہا ہے کہ یہاں تو آپ اس پارٹی میں جائیں یا اس میں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے لوگوں پر پارٹی چھوڑنے کی خاطر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ ’بے چارے ہمارے لوگ جیلوں میں پڑے ہیں، عورتیں پڑی ہوئی ہیں۔ ان کو عمران خان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کا کہا جا رہا ہے۔ انہیں کہا جا رہا ہے یا وعدہ معاف گواہ بن جائیں یا پھر ٹی وی پر جا کر کہیں کہ میں پارٹی چھوڑ رہا ہوں۔ اس وقت اس طرح کا تماشا چل رہا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’میں نہیں مانتا کہ اعظم خان نے کئی باتیں اس میں سے کہی ہیں اور کئی سچ بھی ہیں۔‘

سابق وزیراعظم عمران خان نے امریکی سائفر سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا 6 مارچ 2022 کو پاکستان کے سفیر اسد مجید اور امریکی نائب وزیر خارجہ ڈونلڈ لو کے درمیان واشنگٹن میں ایک سرکاری ملاقات ہوتی ہے، جس کے بعد ایک سائفر پاکستان آتا ہے اور جب میں اسے پڑھتا ہوں تو اس میں دو بنیادی چیزیں ملتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’سب سے بڑی چیز لکھی ہوتی ہے کہ آپ نے عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کی ووٹنگ میں وزارت اعظمیٰ سے ہٹانا ہے اور دوسری چیز کہ عمران خان نے روس جانے کا اکیلے فیصلہ کیا۔‘

عمران خان نے مزید کہا: ’آپ کو پتا ہے کہ اس وقت تک روس اور یوکرین کی جنگ شروع ہو چکی تھی تو عمران نے اکیلے یہ فیصلہ کیا؟ جبکہ ہمارے سفیر اسد مجید کہہ رہے ہیں کہ عمران خان نے یہ فیصلہ اکیلے نہیں کیا بلکہ تمام سٹیک ہولڈرز نے مل کر یہ فیصلہ کیا۔

’لیکن جس طرح  ڈونلڈ لو بات کرتا ہے، سلام پیش کرتا ہوں میں اپنے سفیر کو۔ انہوں نے مجھے پیغام بھیجا کہ آپ کو ان کے خلاف احتجاج کرنا چاہیے، ڈی مارش کرنا چاہیے کیونکہ انہوں نے بڑی غلط زبان استعمال کی ہے۔‘

سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’اسد مجید ہمارے غیرت مند سفیر تھے لیکن وہ غیرت پاکستان آکر نہیں جاگتی۔ سائفر جاتا ہے آرمی چیف کے پاس بھی، وزارت خارجہ میں بھی اور میرے پاس بھی آتا ہے۔ میں جب وہ دیکھتا ہوں تو حیران ہو جاتا ہوں کہ اس کی جرات کیسے ہوئی یہ لکھنے کی

’اور جب میں دیکھتا ہوں کہ وہ یہ یہ کہہ رہا ہے ایک سفیر کو کہ اپنے وزیراعظم کو آپ نے ہٹانا ہے تو پھر میں دیکھتا ہوں کہ یہ میرے لیے تو نہیں ہے۔ سفیر تو مجھے جواب دہ ہے تو مجھے کون ہٹا سکتا ہے؟ پاکستان میں مجھے کون ہٹا سکتا تھا؟ ایک ہی آدمی جنرل قمر جاوید باجوہ۔ سائفر تو جنرل باجوہ کے لیے بھیجا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ انہوں نے سائفر چیف جسٹس آف پاکستان کو بھیجا کہ اس پر تحقیقات کروائی جائیں اور قومی سلامتی کونسل کے سامنے بھی رکھا۔

عمران خان نے کہا کہ انہوں نے سائفر پارلیمان کے سامنے بھی رکھا لیکن حذب اختلاف کے لوگ اس اجلاس میں ہی نہیں آئے۔

’قومیں غیرت پر کھڑی ہوتی ہیں۔ مشکل وقت گزارتی ہیں اور اس سے مزید مضبوط ہو جاتی ہیں۔ میں حیران ہو گیا کہ قومی سلامتی کمیٹی نے تحقیقات کے بجائے محض ڈی مارش تک بات کو محدود رکھا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست