بلوچستان جہاں زخمی چھ گھنٹے کی پیدل مسافت نہ طے کر سکا

شام چار بجے یہ قافلہ دونوں کی افراد کی جان بچانے کی غرض سے نکلا مگر چھ گھنٹے پیدل سفر کے بعد محمد نور خدرانی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خضدار پہنچنے کی بجائے دم توڑ گئے۔

محمد نور کو آج دوپہر دفنایا گیا۔ محمد نور کو لے جانے والوں کو 6 گھنٹے جانے اور 6 گھنٹے واپسی کا سفر کرنا پڑا اور وہ تمام سفر رات کا تھا۔(تصویر: قدیر خدرانی)

بلوچستان کے شہر خضدار کی تحصیل وڈھ کے علاقے کنجھڑ ماڑی میں گزشتہ روز دو زخمی اشخاص کو چارپائی پر ڈال کر مقامی لوگوں نے انہیں ہسپتال لے کر جانے کی کوشش کی مگر چھ گھنٹے  کے راستے میں ان میں سے ایک شخص زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

کنجڑ ماڑی کے رہائشی محمد نور خدرانی اور سائیں بخش خدرانی کو گزشتہ روز نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے زخمی کر دیا تھا۔ سٹریچر نہ ہونے کے باعث مقامی افراد نے دونوں کو چارپائی پر چادر کے ساتھ باندھ کر خضدار کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال لے جانے کی ٹھانی اور ایمبولینس یا کوئی دیگر سواری نہ ہونے کے باعث پیدل ہی نکل پڑے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

زخمیوں کو لے کر جانے کے لیے پہاڑیوں سے گزرنا تھا اور ساری مسافت کچے اور پتھریلے رستے پر تھی۔ شام چار بجے یہ قافلہ دونوں کی افراد کی جان بچانے کی غرض سے نکلا مگر چھ گھنٹے پیدل سفر کے بعد محمد نور خدرانی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خضدار پہنچنے کی بجائے دم توڑ گئے۔

رات کے دس بجے اب قافلے کو فیصلہ کرنا تھا کہ واپس جا کر محمد نور کو دفنایا جائے یا سائیں بخش کو ہسپتال لے جایا جائے تا کہ کم از کم اس کی جان بچ سکے۔

قافلے نے فیصلہ کیا کہ آدھے لوگ واپس چھ گھنٹے کی مسافت پیدل طے کر کے محمد نور کو کنجڑ ماڑی لے کر جائیں گے تاکہ ان کی تدفین ہو سکے، جب کہ آدھے قافلے نے فیصلہ کیا کہ سائیں بخش کو ہسپتال لے جایا جائے گا۔

سائیں بخش کو ہسپتال پہنچا دیا گیا اور اب وہ پہلے سے بہتر ہیں مگر محمد نور 21ویں صدی میں سڑک اور صحت کی سہولت نہ ہونے کے باعث اس دنیا میں نہیں۔

محمد نور کو آج دوپہر دفنایا گیا۔ محمد نور کو لے جانے والوں کو 6 گھنٹے جانے اور 6 گھنٹے واپسی کا سفر کرنا پڑا اور وہ تمام سفر رات کا تھا۔

یہ کہانی کنجڑ ماڑی کے لوگوں کے لیے نئی نہیں۔ اکیسویں صدی میں جہاں کچھ روز پہلے ملک میں جدید ترین ٹیکنالوجی 5G کی آزمائش کی گئی وہیں یہ لوگ بھی موجود تھے جن کے پاس بجلی اور انجیکشن کی بھی سہولت موجود نہیں۔

مقامی سماجی کارکن قادر خدرانی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ علاقے میں ایک ٹیکہ بھی نہیں ملتا اور لوگوں کو صحت کی سہولت کے لیے یا تو وڈھ جانا پڑتا ہے یا پھر خضدار۔

خضدار سے جنوب مشرق کی طرف 150 کلومیٹر دور کنجڑ ماڑی کا علاقہ پسماندہ صوبے بلوچستان کے بھی پسماندہ ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔ یہاں کے لوگ کچے گھر یا گدان (جھونپڑیوں) میں رہتے ہیں۔ ذریعہ معاش صرف بھیڑ بکریاں ہیں۔ نہ بجلی ہے اور نہ ہی صحت اور تعلیم کی کوئی سہولت۔

مواصلات کے لیے گزشتہ سال صرف ایک کمپنی کا موبائل ٹاور نصب کیا گیا ہے مگر بجلی نہ ہونے کی باعث سروس نہ ہونے کے برابر ہے۔ کچھ گھروں میں شمسی توانائی کا سسٹم ضرور نصب ہے۔

دس گھنٹے کی مسافت طے کرنے کے بعد پی بی 40 خضدار سے منتخب بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی میر اکبر مینگل نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس واقعے کا سوشل میڈیا سے پتہ چلا ہے اور وہ اس وقت کراچی میں ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ سات سے آٹھ ہزار کی آبادی کے علاقے تک رسائی کے لیے سڑک نہیں ہے تو ان کا کہنا تھا کہ فی الحال وہ اپوزیشن میں ہیں مگر پھر بھی انہوں نے صوبائی حکومت سے سہولیات کے لیے کہا تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کیونکہ یہ علاقہ پہاڑی علاقہ ہے اس لیے یہاں مواصلاتی نظام میں مشکلات ہیں۔

واضح رہے کہ یہ علاقہ سردار اختر مینگل کا انتخابی حلقہ بھی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان