بین سٹوکس: زیرو سے ہیرو تک کا سفر

اپنی زندگی میں شدید مشکلات اور نشیب و فراز دیکھنے والے سٹار انگلش آل راؤنڈر بین سٹوکس پیچھے دیکھنے کے عادی نہیں۔

سٹوکس ایک ہی مہینے کے اندر دوسری بار اپنی قوم کے ہیرو بن گئے(اے ایف پی)

کھیل کے میدان کے یادگار لمحات زندگی بھر مداحوں کی یاداشتوں میں محفوظ رہ جاتے ہیں۔ ہر اچھی اور بری کارکردگی ناقدین کی نظر میں رہتی ہے اور ہر میچ ہی معیار کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے۔

کچھ کھلاڑی بھی ایسے ہوتے ہیں جن سے ہر ایک کو ہمیشہ شاندار کارکردگی کی امید ہوتی ہے ۔ ایسے ہی ایک کھلاڑی ہیں انگلینڈ کے کرکٹ آل راؤنڈر بین سٹوکس۔

بہت کم لوگ سٹوکس کی طرح اپنی زندگی میں اتنی مشکلات اور نشیب و فراز سے گزرے ہوں گے۔ وہ ایک ہی مہینے کے اندر دوسری بار اس وقت اپنی قوم کے ہیرو بن گئے، جب انہوں نے اتوار کو ہینڈنگلے میں کھیلے جانے والے تیسرے ایشز ٹیسٹ میں ناقابل شکست رہتے ہوئے 135 رنز بنا کر انگلینڈ کو ایک وکٹ سے فتح دلوا دی۔

 ساڑھے پانچ گھنٹے کی اننگز کے دوران انہوں نے 11 چوکے اور آٹھ چھکوں کی شاندار اننگز کے ساتھ اپنی دماغی پختگی کا ثبوت دیا۔ انہوں نے میچ کی اپنی دوسری اننگز میں پہلے دو رنز بنانے کے لیے 50 گیندیں صرف کیں۔ اس وقت انگلینڈ کی ٹیم مشکلات کا شکار تھی اور اس کے تین کھلاڑی آؤٹ تھے۔

روں سال ورلڈ کپ کے فائنل میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا، جب تجربہ کار سٹوکس نے اپنے آبائی وطن نیوزی لینڈ کے خلاف 241 رنز کے تعاقب میں 84 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی اور اس کے بعد پھر لارڈز کے تاریخی میدان میں تھکن سے چُور سٹوکس نے سوپر اوور میں اپنی ٹیم کو فتح دلائی۔

تاہم، ’پختگی‘ ایسا لفظ ہے جو سٹوکس سے نہیں جوڑا جاتا۔ ستمبر 2017 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف برسٹل میں کھیلے جانے والے ایک روزہ میچ کی اگلی صبح وہ ایک لڑائی میں ملوث پائے گئے، جس کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں لڑائی کرنے پر کریمنل چارجز سے تو کلیئر کر دیا گیا لیکن انہیں اس کے فوری بعد نائب کپتانی سے ہاتھ دھونا پڑے ۔ساتھ ہی 2017، 2018 ایشز کے لیے منتخب ٹیم کا حصہ بھی نہیں بنایا گیا۔ اس سیریز میں ان کی ٹیم کو آسٹریلیا کے ہاتھوں 0-4 کی بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

سٹوکس میدان میں ان ناکامیوں سے پہلے ہی واقف تھے۔ سٹوکس وہی بولر تھے جنہیں کولکتہ میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2016 فائنل کے آخری اوور میں 19 رنز کا دفاع کرنے کا کہا گیا تھا، لیکن اس میچ میں انہوں نے ویسٹ انڈیز کے کارلوس بریتھ ویٹ سے لگاتار چار چھکے کھا کر ویسٹ انڈیز کو تاریخی فتح حاصل کرتے دیکھا۔

 اس بری صورتحال سے واپسی، اس بات کا احساس کہ عدالتی کارروائی ان کے کیریئر کو ختم کر سکتی تھی، نے سٹوکس کو عالمی کرکٹ میں نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سٹوکس نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں پیدا ہوئے لیکن وہ کم عمری میں ہی اپنے والد گیڈ کے ساتھ انگلینڈ منتقل ہو گئے۔ ان کے والد انٹرنیشنل کیوی رگبی لیگ کے سابقہ کھلاڑی تھے، اور انہیں شمال مغربی انگلینڈ کے علاقے ورکنگٹن میں کوچ کی نوکری مل گئی تھی۔

جلد ہی سٹوکس ڈرہم کاؤنٹی کی نظروں میں آنا شروع ہو گئے اور پھر انگلینڈ انڈر 19 کے لیے ان کا ڈیبو ہوا، جہاں بطور بائیں بازو کے بلے باز اور تیز رفتار بولر ان کی کارکردگی کو سراہے جانے لگا۔

2013 میں درجہ دوم کی انگلینڈ لائنز کی ٹیم کے ساتھ آسٹریلیا میں موجود سٹوکس کو نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر انگلینڈ واپس بھیجنے کے بعد 2014-2013 ایشز کے لیے انگلینڈ ٹیم میں شامل کیا گیا۔

آسٹریلیا نے انگلینڈ کو 0-5 سے شکست تو دے دی لیکن مہمان ٹیم کو چند خوشی کے لمحات اس وقت میسر آئے جب سٹوکس نے پرتھ کے میدان میں اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری سکور کی، لیکن انہیں بنگلہ دیش میں کھیلے جانے والے 2014 کے ٹی 20 ورلڈ کپ سے باہر رہنا پڑا کیونکہ بارباڈوس میں آؤٹ قرار دیے جانے کے ایک فیصلے پر ناپسندیدگی کا اظہار کرے ہوئے ڈریسنگ روم لاکر کو مکہ مار کر وہ اپنی کلائی زخمی کر بیٹھے تھے۔

اس کے بعد انہیں ایک اور مشکل سال کا سامنا کرنا پڑا ،جب انہیں 2015 کے ورلڈ کپ کے لیے منتخب کی جانے والی انگلینڈ ٹیم کا حصہ نہیں بنایا گیا، لیکن اس ورلڈ کپ میں پہلے راؤنڈ میں باہر ہونے نے اگلے ورلڈ کپ میں انگلینڈ کی فتح کی راہ ہموار کر دی۔

خراب ورلڈ کپ کے بعد سٹوکس جلد ہی ٹیم میں واپس آگئے اور پھر انہوں نے جنوری 2016 میں کیپ ٹاؤن میں کھیلے جانےوالے میچ میں جنوبی افریقہ کے خلاف 198 گیندوں پر 258 رنز کی یادگار اننگز کھیل ڈالی۔ یہ ٹیسٹ کرکٹ میں انگلینڈ کی جانب سے تیز ترین ڈبل سنچری تھی۔

ہر طرز کی کرکٹ میں مہارت 28 سالہ سٹوکس کو پر تعیش انڈین پریمیر لیگ میں دو بارکروڑ پتی بنا چکی ہے، لیکن ان کی انگلینڈ کے لیے کھیلنے کی لگن کبھی بھی مشکوک نہیں رہی۔

وہ پیچھے دیکھنے کے عادی نہیں اور اتوار کی اننگز کے ساتھ سٹوکس واضح کر چکے ہیں کہ انگلینڈ اب سیریز میں واپس آنے کے لیے سنجیدہ ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ