بھارت کو کشمیر میں ناکوں چنے کیسے چبوائے جائیں؟

کشمیر کی جدوجہد جتنا طول پکڑے گی اور مزاحمت جتنی لمبی اور منظم ہوگی مودی حکومت اتنی ہی کمزور ہوتی جائے گی۔ 

یہ ایک طویل جنگ ہے اور مودی حکومت نے اس کی مکمل تیاری کی ہوئی ہے۔ ہمیں بھی اس جنگ کے لیے تیار ہونا چاہیے(اے ایف پی)

پچھلے تین ہفتوں سے بھارت کا زیر انتظام کشمیر ایک بہت بڑی جیل میں تبدیل ہوچکا ہے، جس میں 80 لاکھ کشمیری قید ہیں۔ ان قیدیوں کو ایک دوسرے سے ملنے یا بات کرنے کی اجازت نہیں اور جیل میں ان کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع کر دیا گیا ہے۔

وہ اپنے چاہنے والوں سے بات نہیں کر سکتے ہیں، اپنے ہمسایوں کو اپنی بپتا سنا سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے بیماروں کے زخموں پر مرہم رکھ سکتے ہیں کیوں کہ ہسپتالوں کے دروازے بھارتی فوج نے ان پر بند کر دیے ہیں، بچے سکول نہیں جا سکتے کیونکہ کشمیری بچوں کا علم حاصل کرنا بھارتی حکومت کے لیے بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

مسجدوں کے دروازے بند ہیں تاکہ کشمیری اللہ سے بھی مدد کی دعا نہ کرسکیں۔ صرف لوگوں کے سانس لینے پر پابندی نہیں۔ پورا کشمیر ایک نازی کنسنٹریشن کیمپ کی سی صورت دکھائی دے رہا ہے۔

یہ سب شرم ناک مناظر بین الاقوامی میڈیا تواتر سے دکھا رہا ہے اور کچھ حقوق انسانی کے ادارے اسے کشمیریوں کی نسل کشی قرار دے رہے ہیں، مگر نہ مسلمان ممالک اور نہ ہی انسانی حقوق کی علم بردار مغربی حکومتیں اپنے معاشی مفادات سے بالا ہوکر اس انسانی سانحے کو روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

مغربی ممالک کو مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان میں عیسائی آبادی کے حقوق پامال ہوتے ہوئے فوراً نظر آئے اور وہ ان عیسائی اکثریت والے علاقوں کو بلاتاخیر دو نئے ممالک کی صورت میں دنیا کے نقشے پر لے آئے، مگر کشمیر کے معاملے میں ان انسانی حقوق کی علم بردار مغربی حکومتوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ ان کی آنکھوں پر پچھلے 30 سال سے مذہبی تعصب کی پٹی بندھی ہوئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مسلمان ممالک کا رویہ دشمن ممالک سے بھی بدتر ہے۔ بھارت کشمیر میں مسلمانوں کا قتل عام کر رہا ہے اور ان پر زندگی حرام کیے ہوئے ہے اور متحدہ عرب امارات کے بے خبر حکمران گجرات کے قصائی نریندرا مودی کو اپنے ملک کا سب سے بڑا سول ایوارڈ دے رہے ہیں۔

کشمیریوں کی نسل کشی کی خاطر نت نئے ہتھکنڈے اپنانے کے لیے بھارتی معیشت کی مضبوطی بہت ضروری ہے اور ہمارا دیرینہ رفیق سعودی عرب بھارتی کمپنی ریلائنس میں تقریباً 20 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کر کے اس سلسلے میں بھارتی حکومت کے ہاتھ مزید مضبوط کر رہا ہے۔ اس صورت حال نے مظلوم کشمیریوں کو مکمل طور پر ظالم بھارتی فوج کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔

سفارتی طور پر پاکستان تنہا نظر آ رہا ہے۔ چین اور ترکی کی مدد کے علاوہ ہمیں کہیں سے کسی قسم کی ہمدردانہ اور حمایت کی آواز سنائی نہیں دے رہی۔ پانچ اگست کے اقدام سے نہ صرف کشمیر کی آبادی کا تشخص بدلنے کی کوشش شروع ہوئی بلکہ ایک منظم منصوبے کے تحت کشمیریوں کی نسل کشی کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے۔ ان مضموم اقدامات کی تکمیل کے لیے بھارت بین الاقوامی میدان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا پُرفریب واویلا استعمال کرے گا۔

یہ ایک طویل جنگ ہے اور مودی حکومت نے اس کی مکمل تیاری کی ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں بھارت کے اندر سے بھی اٹھنے والی آزاد آوازوں کو ایک فسطائی قوت کی طرح ختم کرنے پر تلی ہوی ہے۔ اس ہفتے کانگریس کے رہنماؤں بشمول راہول گاندھی کو کشمیر میں داخل نہ ہونے دینا اس منصوبے کی ایک اہم کڑی ہے۔ ہمیں اس جنگ کے لیے تیار ہونا چاہیے۔

بھارتی منصوبوں کا مقابلہ کرنے اور کشمیری عوام کی مدد کے لیے ایک جامع حکمت عملی بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ جدوجہد جتنا طول پکڑے گی اور مزاحمت جتنی لمبی اور منظم ہوگی مودی حکومت اتنی ہی کمزور ہوتی جائے گی۔ 

یہ جنگ ہر حال میں کشمیریوں نے لڑنی ہے اور انہوں نے ہی جیتنی ہے۔ ہمیں اس حق خود ارادیت کی جدوجہد میں کشمیریوں کی ہر طرح سے مدد کرنی ہوگی۔ کشمیریوں کی اس بقائی جنگ میں پاکستان کی طرف سے درج ذیل اقدامات اس جدوجہد کو بامعنی اور نتیجہ خیز اختتام تک لاسکتے ہیں۔

اطلاعاتی جنگ

بھارتی اقدامات اور کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی بین الاقوامی میڈیا میں ایک بڑے عرصے بعد تفصیل سے رپورٹ کی جا رہی ہے۔ بھارتی کوششوں کے باوجود اس تشہیر میں کمی نہیں آئی۔

پہلی دفعہ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے کشمیریوں کی نسل کشی کے بارے میں برملا خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ہماری ہر طرح سے کوشش ہونی چاہیے اس تشہیر میں کسی قسم کی کمی نہ آنے پائے۔ اس سلسلے میں ہمیں وسائل کے استعمال میں کنجوسی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ اس معاملے میں کسی قسم کی بھی کوتاہی اس جدوجہد کو سخت نقصان پہنچائے گی۔

اس تشہیر میں اس نکتے پر بھی زور ڈالنا چاہیے کہ مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل میں ہی علاقے کی سلامتی پوشیدہ ہے جس کو کسی قسم کا خطرہ بین الاقوامی امن کے لیے بھی مضر ہو سکتا ہے۔

اس سلسلے میں اہم کشمیری مزاحمتی رہنماؤں کا عالمی میڈیا سے رابطے بڑھانے کی بھی ضرورت ہے۔ کشمیریوں کی جدوجہد کو اجاگر کرنے اور مسئلہِ کشمیر کو سمجھنے کے لیے بڑے معتبر اخباروں اور جریدوں میں اشتہارات شائع کرنے کے بارے میں بھی غور کرنا چاہیے۔

اس سلسلے میں امریکہ اور یورپ میں مقیم مخیر تارکین وطن کو بھی کلیدی کردار دیا جاسکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک منظم طریقے سے کشمیر سے آنے والی اطلاعات کی بڑے پیمانے پر تشہیر کا اہتمام جدوجہد کشمیر کے بارے میں معلومات کو عام لوگوں کی سطح تک پھیلانے میں مددگار ہوگا۔ اس حوالے سے ماہرین کی زیرنگرانی سوشل میڈیا سیل کا قیام اشد ضروری ہے۔ بھارت ٹویٹر اور فیس بک پر کافی کامیابی سے بھارت مخالف خبروں کو روکنے میں کامیاب رہا ہے۔

کشمیر کے بارے میں کوئی ظلم و ستم کی خبر یا تصویر فوراً سنسر کر دی جاتی ہے اور عموما ان اکاؤنٹس کو بھی بلاک کر دیا جاتا ہے۔ ان اقدامات کا مقابلہ کرنے کے لیے قانونی جنگ کی ضرورت ہے۔ ان دونوں اداروں کو مسلسل آزادی رائے کو دبانے کے الزام میں امریکی عدالتوں میں لے جانے کے لیے قانونی حکمت عملی بنانی ہوگی۔

اس سلسلے میں امریکہ میں مقیم تارکین وطن کو متحرک کیا جانا چاہئے۔ یہ مسلسل دباؤ ایک طرف تو معلومات فراہم کرنے میں مددگار ہوگا اور دوسری طرف بھارت کو مسلسل سیاسی دباؤ میں رکھے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اعلی درجے کی دستاویزی فلمیں بھی بنانے کی ضرورت ہے ۔

اس سلسلے میں عالمی شہرت یافتہ لکھنے والوں اور پروڈیوسرز کی خدمات حاصل کرنی چاہییں۔ Netflix جیسے پلیٹ فارم پر پاکستان مخالف بھارتی فیچر فلمیں دکھائی جا رہی ہوتی ہیں۔ ہمیں بھی اس میڈیم کو موثر طریقے سے استعمال کرنے کے بارے میں سوچنا چاہیے۔

کشمیری مزاحمت کی مدد

بھارت میں تعینات ہمارے تین سابق سفرا نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قراردادوں کے مطابق کوئی بھی قوم جو حق خودارادیت کی جنگ لڑ رہی ہو وہ بین الاقوامی برادری سے مدد کی درخواست کر سکتی اور قانوناً ان کی مدد کی جاسکتی ہے۔

ان قراردادوں کے پیش نظر ہمیں کشمیری مزاحمتی تحریک کی مدد کے لیے جدید طریقے ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے تو یہ کوشش ہونی چاہیے کہ مزاحمت اپنی آواز دنیا تک پہنچا سکے۔ اس سلسلے میں ہمیں مختلف ذرائع استعمال کرتے ہوئے مزاحمت کو جدید مواصلاتی سازوسامان بشمول سیٹلائٹ فونز مہیا کرنے چاہیں۔

مزاحمت کی انٹرنیٹ تک لگاتار رسائی ضروری ہے۔ یہ نہ صرف مزاحمت کو اپنے درمیان رابطے کو آسان بنائے گا بلکہ عام کشمیریوں تک معلومات ارسال کرنے میں بھی مددگار ہوگا۔ کیوں کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں حق خودارادیت کی مدد کو جائز قرار دیتی ہیں تو ہمیں مزاحمت کی بھارتی قابض فوجیوں سے مقابلہ کرنے کی صلاحیتوں کو بھی بڑھانے کی ضرورت ہے۔

اس سلسلے میں ہمیں مالی امداد کو بڑھانا ہوگا تاکہ مزاحمت مقامی طور پر دستیاب سازوسامان سے اپنی حربی قوت بڑھا اور قابض فوج کے خلاف حق خودارادیت کی جنگ لڑ سکے۔

جو کشمیری پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے دوسری جانب جا کر مزاحمت میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں انہیں محفوظ راستہ مہیا کرنے پر بھی سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

اس میں بہرحال انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے اور یہ یقینی بنانا چاہیے کہ صرف اور صرف کشمیری ہی ایل او سی پار کر سکیں اور اس حق خودارادیت کی جائز اور قانونی جنگ میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

 ساتھ مزاحمتی نمائندے مختلف مغربی ممالک میں عدالتوں کے دروازے بھی کھٹکھٹا سکتے ہیں اور اس طرح مغربی حکومتوں پر زور ڈالا جاسکتا ہے کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی بند کی جائے ورنہ بھارت پر تجارتی پابندیاں لگائی جائیں۔

اس سلسلے میں ان ممالک میں مشہور قانون دانوں کی خدمات حاصل کی جانی چاہییں۔ تارکین وطن کو بھی اس قانونی جنگ میں شامل کرنے کی ضرورت ہے، ہمارے تارکین وطن نے اب تک ایک بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔

وہ اس سلسلے میں مختلف مغربی ممالک میں بڑے بڑے احتجاج کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ان کاوشوں میں کمی نہیں آنی چاہیے اور حکومتِ پاکستان کو کھل کر اس احتجاجی مہم کی مدد کرنی چاہیے۔ امریکہ میں تارکین وطن کو خاص طور پر اپنے علاقے کے کانگریس ارکان کو خطوط لکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے دفاتر کے باہر پُرامن احتجاج  بھی بہت مفید ثابت ہو گا۔

آر ایس ایس کی رضا کار بھارتی خواتین اس سال مئی میں اپنی تربیت مکمل کرنے کے بعد مارچ کرتے ہوئے۔ (اے ایف پی)

آر ایس ایس کو دہشت گرد تنظیم قرار دلوانا

آر ایس ایس جس کے بطن سے بی جے پی پیدا ہوئی ہے، ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اس کے دہشت گردانہ اقدامات کو دنیا نے نظر انداز کیا ہوا ہے۔ بھارت پر سیاسی دباؤ ڈالنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان بین الاقوامی اداروں کے سامنے ناقابل تردید ثبوت کے ساتھ آر ایس ایس کے دہشت گردانہ اقدامات کی تفصیلات پیش کرے اور اسے ایک دہشت گرد تنظیم قرار دلوائے۔

بیرون ملک مقیم بھارتی عیسائیوں، سکھوں، دلیت اور دوسرے اقلیتی مذہبی گروہوں کو بھی، جو کہ آر ایس ایس کی دہشت گردی کے شکار رہے ہیں، اس کوشش میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ یہ کھٹن کام ہوگا مگر ہمیں دنیا کو بتانا ہوگا یہ ایک دہشت گرد، فسطائی اور انتہا پسند تنظیم ہے جو مسلمانوں اور دوسرے مذہبوں کی نسل کشی پر تلی ہوئی ہے۔

ہمیں اس سلسلے میں کانگریس کی پچھلی حکومت کے وزیر داخلہ سوشیل کمار شنڈے کے 2012 میں سرکاری بیان کو بھی توجہ سے دیکھنے کی ضرورت ہے، جس میں انہوں نے آر ایس ایس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے ان کے عسکری تربیتی کیمپس کی بھی نشاندہی کی تھی۔

ان اقدامات سے ہم نہ صرف کشمیری مسئلے کو بین الاقوامی طور پر اجاگر کر پائیں گے بلکہ اس سے بھارتی حکومت کی کشمیر میں موجودگی کی قیمت مذید بھاری کرنے میں بھی کامیاب ہوں گے۔ مسئلہ کشمیر کی عالمی طور پر تشہیر اور پذیرائی بھارت میں دیگر علیحدگی پسند تحریکوں کو بھی تقویت دے گی جو مودی حکومت کے سردرد میں اضافہ کرے گی۔


نوٹ: ادارے کا مصنف کی ذاتی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر