گوگل کا جینیاتی امراض کی شناخت کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال

امریکی ٹیک کمپنی گوگل کا کہنا ہے کہ اس نے بیماری پیدا کرنے والے جینز کی شناخت کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا ہے جس سے غیر معمولی جینیاتی امراض کی نشاندہی کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

14 فروری،2020 کو برسلز میں گوگل کمپنی کا لوگو نظر آ رہا ہے (اے ایف پی)

امریکی ٹیک کمپنی گوگل کا کہنا ہے کہ اس نے بیماری پیدا کرنے والے جینز کی شناخت کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا ہے جس سے غیر معمولی جینیاتی امراض کی نشاندہی کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

الفا مسسینس (AlphaMissense) نامی ایک نیا ماڈل جینز میں تمام ممکنہ مسسینس ویرینٹس میں سے 89 فیصد کی یقینی درجہ بندی کرنے کے قابل ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آیا ان سے بیماریوں کا امکان ہے یا یہ بے ضرر ہیں۔

اس کا موازنہ اگر انسانی ماہرین سے کیا جائے تو وہ صرف 0.1 فیصد مسسینس ویرینٹس کی ہی یقینی درجہ بندی کر سکے ہیں۔

مسسینس ویرینٹس اس وقت جنم لیتے ہیں جب ڈی این اے میں ایک حرف تبدیل ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں مختلف امینو ایسڈ والے پروٹین بنتے ہیں۔ اس چھوٹی سی تبدیلی کے اہم اثرات ہو سکتے ہیں جیسا کہ گوگل نے اسے اس طرح سے تشبیہ دی ہے کہ ایک لفظ میں ایک حرف تبدیل ہو جائیں تو پورے جملے کے معنی بدل سکتے ہیں۔

ان میں سے زیادہ تر ویرینٹس بے ضرر ہیں اور اوسط فرد میں نو ہزار سے زیادہ ویرینٹس پائے جاتے ہیں لیکن ان میں سے کچھ تباہ کن ہو سکتے ہیں جو کہ غیر معمولی جینیاتی امراض کا باعث بنتے ہیں۔

نئے الفا مسسینس نے مسسینس کے مختلف ویرینٹس کے بارے میں موجودہ معلومات پر نظر ڈالی اور یہ کہ یہ انسانوں اور ان کی قریبی انواع یعنی پریمیٹ میں کتنی عام طور پر دیکھی گئی ہیں۔ اس نے ان ویرنٹس کی تلاش کی جو شاذ و نادر ہی دیکھے جاتے تھے۔ انہیں بیماری پیدا کرنے کی صلاحیت کے طور پر درجہ بندی کرتے ہوئے اور اس سے اس معلومات کو دوسرے پروٹین کی ترتیبوں کا تجزیہ کرنے کے لیے استعمال کرنے سے نہ صرف اس بات کا فیصلہ کرنا کہ آیا ان سے مسائل پیدا ہونے کا امکان ہے بلکہ یہ بھی کہ یہ کتنا یقینی تھا۔  

انسانوں کی جانب سے کیے گئے تجربات ان میوٹیشنز کو تلاش کرنے کے لیے مہنگے اور سست ہیں کیوں کہ لوگوں کے لیے ہر ایک منفرد پروٹین کی جانچ اور اسے الگ سے ڈیزائن کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ گوگل کا کہنا ہے کہ نئے نظام کا مطلب یہ ہے کہ محققین ایک وقت میں ہزاروں پروٹینز کے لیے ان نتائج کا مشاہدہ کر سکتے ہیں جس سے ان کو یہ فیصلہ کرنے میں مدد ملتی ہے کہ انہیں کہاں فوکس کرنا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کمپنی نے اپنے سسٹمز کا استعمال مسسینس میوٹیشنز کی ایک وسیع کیٹلاگ جاری کرنے کے لیے کیا ہے تاکہ محققین جان سکیں کہ ان کا کیا اثر ہے۔ بعض صورتوں میں یہ تغیرات سسٹک فائبروسس، سکیل سیل، خون کی کمی یا کینسر جیسے امراض کا باعث بن سکتے ہیں اس لیے ان کو سمجھنا ان بیماریوں کے علاج یا روک تھام کے طریقوں کا مطالعہ کرنے والے محققین کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

یہ گوگل کے ’ڈیپ مائنڈ‘ ڈویژن کی جانب سے صحت کے شعبے میں تازہ ترین پیش رفت ہے جو اس سے قبل مختلف قسم کے طبی حالات کی شناخت اور ان کا علاج کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتی ہے۔ نیا نظام الفا فولڈ پر بنایا گیا تھا جو ایک جدید ماڈل ہے جس نے پروٹین کی جانچ میں مدد کی جو زندگی کے بنیادی ستون ہیں۔

اس تحقیق کو  'Accurate proteome-wide misense variant effect prediction with AlphaMissense' نامی نئے مقالے میں بیان کیا گیا ہے جو ’سائنس‘ جریدے میں شائع ہوا ہے۔ گوگل نے کہا کہ کیٹلاگ ریسرچ کمیونٹی کے لیے مفت دستیاب کیا جا رہا ہے اور کمپنی اے آئی سسٹم کے پیچھے موجود کوڈ بھی جاری کرے گی۔

© The Independent

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی