گوگل چیٹ بوٹ نے امریکی میڈیکل امتحان پاس کر لیا: رپورٹ

رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت سے چلنے والے میڈیکل چیٹ بوٹ کی جانب سے دیے گئے سوالات کے جوابات اب بھی انسانی ڈاکٹروں سے کم ہیں۔

گوگل نے سب سے پہلے دسمبر میں ایک پری پرنٹ مطالعہ میں طبی سوالات کے جوابات کے لیے اپنا اے آئی ٹول متعارف کرایا تھا (اینواتو)

گوگل کے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے میڈیکل چیٹ بوٹ نے امریکہ میں میڈیکل لائسنسنگ کے سخت امتحان میں پاسنگ گریڈ حاصل کر لیے ہیں۔

 اے ایف پی کے مطابق  مصنوعی ذہانت سے چلنے والے میڈیکل چیٹ بوٹ کے دیے جانے والے سوالات کے جوابات اب بھی انسانی ڈاکٹروں سے کم ہیں۔

گوگل کے حریف مائیکروسافٹ کی جانب سے گذشتہ سال چیٹ جی پی ٹی کی رونمائی کے بعد مصنوعی ذہانت کے ترقی کرتے ہوئے میدان میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مابین دوڑ کا آغاز ہوا۔

اگرچہ مصنوعی ذہانت کے مستقبل کے امکانات اور خطرات کے بارے میں بہت کچھ ہو چکا ہے لیکن صحت ایک ایسا شعبہ ہے جہاں ٹیکنالوجی نے پہلے ہی اچھی پیش رفت دکھائی ہے جس میں الگورتھم کا کچھ طبی معائنے کرنا اور انسانوں کو بھی پڑھنا شامل ہیں۔

گوگل نے سب سے پہلے دسمبر میں ایک پری پرنٹ مطالعہ میں طبی سوالات کے جوابات کے لیے اپنا اے آئی ٹول متعارف کرایا تھا جسے میڈ پی اے ایل ایم کہا جاتا ہے۔

چیٹ جی پی ٹی کے برعکس، یہ عوام کے لیے دستیاب نہیں۔

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی کا کہنا ہے کہ میڈ پی اے ایل ایم پہلا بڑا لینگویج ماڈل ہے جس کو انسانی تحریر کردہ اس متن پر تربیت دی گئی جس سے یو ایس میڈیکل لائسنسنگ ایگزامنیشن (یو ایس ایم ایل ای) پاس کیا جاتا ہے۔

امریکہ میں میڈیکل طلبہ اور ڈاکٹروں کے ذریعے لیے جانے والے امتحان کے لیے پاسنگ گریڈ تقریباً 60 فیصد ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فروری میں ایک تحقیق میں کہا گیا تھا کہ چیٹ جی پی ٹی نے پاسنگ یا پاسنگ کے قریب نتائج حاصل کیے ہیں۔

بدھ کو ’نیچر‘ جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں گوگل کے محققین نے کہا کہ میڈ پی اے ایل ایم نے یو ایس ایم ایل ای طرز کے ملٹی کثیر الانتخاب سوالات پر 67.6 فیصد کامیابی حاصل کی ہے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ’میڈ پی اے ایل ایم حوصلہ افزا کارکردگی کا مظاہرہ کیا، لیکن یہ ڈاکٹروں سے کم تر ہے۔‘

گوگل کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز غلط معلومات فراہم کرنے والے ’ہذیان‘ کی نشاندہی اور اس میں کمی لانے کے لیے ایک نیا تشخیصی بینچ مارک تیار کر چکے ہیں۔

گوگل کے محقق اور نئی تحقیق کے مرکزی مصنف کرن سنگھل نے اے ایف پی کو بتایا کہ ٹیم نے بینچ مارک کا استعمال کرتے ہوئے اپنے ماڈل کے نئے ورژن کی جانچ کی ہے جس کے نتائج ’انتہائی پرجوش‘ ہیں۔

مئی میں جاری ہونے والی ایک پری پرنٹ سٹڈی کے مطابق میڈ پی اے ایل ایم 2 یو ایس ایم ایل ای امتحان میں 86.5 فیصد تک پہنچ گیا ہے جو پچھلے ورژن کے مقابلے میں تقریبا 20 فیصد سے زیادہ ہے۔

برطانیہ کی یونیورسٹی آف باتھ کے کمپیوٹر سائنسدان جیمز ڈیون پورٹ، جوکہ تحقیق میں شریک نہیں تھے، کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ان میڈیکل چیٹ بوٹس کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’طبی سوالات اور حقیقی طب‘ کے جوابات دینے میں ایک بڑا فرق ہے جس میں صحت کے حقیقی مسائل کی تشخیص اور علاج شامل ہے۔

برطانیہ کی لیڈز یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت کے ماہر انتھونی کوہن کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بڑے لینگویج ماڈلز کے لیے ان کی شماریاتی نوعیت کی وجہ سے ہذیان ہمیشہ ایک مسئلہ رہے گا۔

انتھونی کوہن نے کہا کہ ’ان ماڈلز کو ہمیشہ حتمی فیصلہ سازوں کے بجائے معاونین کے طور پر سمجھا جانا چاہیے۔‘

سنگھل نے کہا کہ مستقبل میں میڈ پی اے ایل ایم کا استعمال ڈاکٹروں کی مدد کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے تاکہ وہ ایسے متبادل لا سکیں جن پر شاید اس کے علاوہ غور نہیں کیا گیا تھا۔

وال سٹریٹ جرنل نے رواں ہفتے کے آغاز میں خبر دی تھی کہ میڈ پی اے ایل ایم کی دو اپریل سے امریکہ کے معروف میو کلینک ریسرچ ہسپتال میں ٹیسٹنگ ہو رہی تھی۔

سنگھل نے کہا کہ وہ مخصوص شراکت داری کے بارے میں بات نہیں کر سکتے ہیں۔

تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’کوئی بھی ٹیسٹ کلینیکل یا مریض کا نہیں ہو گا اور اس سے مریضوں کو نقصان نہیں پہنچ سکے گا۔‘

انہوں نے مزید کہا اس کی بجائے یہ ’زیادہ انتظامی کاموں کے لیے ہو گا جو نسبتا آسانی سے خودکار ہو سکتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی